شبلی فراز کی جارحیت زمینی حقائق نہیں بدل سکتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز بڑے نفیس اور دلچسپ قسم کے انسان ہیں۔ سینیٹ میں قائد ایوان کی حیثیت سے انہوں نے بڑی سنجیدگی اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ وہاں وہ بڑے دھیمے لہجے میں بات کیا کرتے تھے۔ لیکن وزارت اطلاعات کا منصب سنبھالتے ہی ان کے طرز تخاطب میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ شاید یہ ان کے نئے منصب اور پارٹی پالیسی کا تقاضا تھا۔ وزیراعظم چونکہ خود بھی بڑے جارحانہ انداز میں مخالفین کو رگیدنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

اسی لئے شبلی فراز کو بھی اپنے لب ولہجے میں تبدیلی لانا پڑی۔ انہوں نے وزارت اطلاعات میں فردوس عاشق اعوان کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ تحریک انصاف کی حکومت میں مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا اور انہیں چور، ڈاکو اور ٹھگ قرار دینا ایک لازمی امر سمجھا جاتا ہے۔ بحالت مجبوری شبلی فراز بھی اپوزیشن کو اپنی جماعت کے مخصوص سٹائل میں تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ وہ اس منصب پر بڑی کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی خوبی کی وجہ سے انہیں سینیٹ کے ٹکٹ کا دوبارہ حقدار قرار دیا گیا ہے۔ موصوف اب چھ سال تک مزید ایوان بالا کے رکن بن جاہیں گے۔ اگر ان کے انتخاب میں کوئی انہونی نہ ہوئی۔ کیونکہ آج کل سرپرائز والا دور سیاست ہے۔ اور کوئی بھی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔

معاون خصوصی شہباز گل بھی کبھی کبھار ان کی وزارت کے امور میں ٹانگ اڑاتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کو بریفنگ دینے کے معاملے پر دونوں شخصیات کے درمیان نوک جھونک بھی ہوئی تھی

جناب شبلی فراز اپنی بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں ان رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے سرکاری ملازمین کو اپنے اخراجات کم کرنے کا مشورہ دے ڈالا تھا۔ جس کی وجہ سے موصوف کو میڈیا میں بڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ فرض کریں سرکاری ملازمین ان کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھریلو اخراجات کم بھی کر لیں تو وہ بچت کیسے کر سکتے ہیں جبکہ حکومت ایک ماہ کے اندر ایک سے زیادہ مرتبہ بجلی کے نرخ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہو۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہوں۔ سرکاری ملازمین کا اپنی تنخواہ میں گزارہ ہو سکتا تو ان بیچاروں کو سڑکوں پر خجل خوار ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ پولیس سے لاٹھیاں کیوں کھاتے اور آنسو گیس کا سامنا کیوں کرتے۔

جناب شبلی فراز نے اپنے ایک اور بیان میں اپوزیشن پر یہ طنز فرمایا تھا کہ وہ عوام کے لئے پرانا پاکستان چاہتی ہے۔

وزیر موصوف اگر گراؤنڈ کی صورتحال جاننا چاہیں تو اس وقت سوائے ان لوگوں کے جو مالی مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ باقی سب پرانے پاکستان کو یاد کر کے خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔ کیونکہ پرانے پاکستان میں عوام کی ضروریات کا پوری طرح خیال رکھا جاتا تھا۔ بجلی وافر مقدار میں ارزاں نرخوں پر دستیاب تھی۔ بجلی کے بل دیکھ کر لوگوں کا تراہ نہیں نکلتا تھا۔ آٹا، چینی، آئل، دالیں، مصالحہ جات اور دوسری گھریلو اشیاء کی قیمتیں لوگوں کی دسترس میں تھیں۔

پرانے پاکستان کو لوگ اس لئے بھی یاد کرتے ہیں کیونکہ تب نوجوانوں کے لئے ملازمتوں کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ ملک بھر میں ترقیاتی کام زور شور سے جاری تھے۔ بیرونی دنیا پاکستان پر اعتماد کرتی تھی۔ میڈیا بھی آزاد تھا اور عدالتوں پر بھی کوئی پریشر نہیں تھا۔ جیسے آج کل دکھائی دیتا ہے۔ عوام کے لئے نیا پاکستان ایک ڈراونے خواب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ جہاں نوجوانوں کے لئے نہ روزگار کے مواقع ہیں۔ اور نہ نوکریاں ان کی راہ تک رہی ہیں۔

مہنگائی اور بے روزگاری نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنا تو درکنار ہزاروں ملازمین نوکریوں سے برطرف کردئے گئے ہیں۔ کئی درجن سرکاری محکمے ختم کیے جا رہے ہیں۔ جناب عشرت حسین جو ادارہ جاتی اصلاحات کے مشیر ہیں نے متعدد محکمے ختم کرنے اور ستر ہزار سرکاری آسامیاں ختم کرنے کی پلاننگ کر کے رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے۔ 80 سالہ عشرت حسین ساری عمر مختلف محکموں میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ موصوف اچھی خاصی پنشن بھی وصول کر رہے ہیں اور وزارت کی تنخواہ اور دیگر مراعات سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اس پیرانہ سالی میں بھی برسرروزگار ہیں اور نوجوان طبقہ جسے روزگار کی اشد ضرورت ہے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔

گورنر سٹیٹ بنک جو آئی ایم ایف کے ملازم رہ چکے ہیں کا فرمان ہے کہ کوئی حکومت سرکاری ملازمین کو نہیں پالتی۔ عمران خان کا ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ اپنی موت آپ مرگیا ہے۔ اب خان صاحب کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے علاوہ ان کے لئے سارے در بند ہوچکے ہیں۔ پاکستان کا دیرینہ دوست سعودی عرب جو آڑے وقت میں پاکستان کی مدد کو آتا تھا وہ بھی ہم سے ناراض ہے۔ یو اے ای اور دوسرے عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں کا بھی یہی ماجرا ہے۔

پاکستان میں صحت کا شعبہ بھی زبوں حالی کا شکار ہے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پمز جہاں علاج کے لئے آزاد کشمیر، ہزارہ، پشاور اور دوردراز علاقوں سے لوگ آتے تھے۔ وہ حکومت کی ناقص پالیسی سے بند پڑا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے بڑے ہسپتال پولی کلینک میں صرف اسلام آباد کا شناختی کارڈ رکھنے والوں کو علاج کی سہولت حاصل ہے۔ دوسرے شہروں سے آنے والے ملازمین اور طلباء بڑی مشکل کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کے لئے سستی ادویات کا حصول بھی قصہ پارینہ بن چکا ہے

موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ڈھائی سال کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن اس کا قبلہ ابھی تک درست نہیں ہوسکا۔ وزیراعظم صاحب پہلے سو دن کے اندر پھر ایک سال کے اندر عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کرتے رہے۔ اب وہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس اللہ دین کا چراغ نہیں ہے جسے رگڑتے ہی لوگوں کے مسائل حل ہوجاہیں۔

خان صاحب کو اپنی گورننس بہتر کرنے اور کارکردگی دکھانے کے لئے شاید 20 یا 25 سال کا عرصہ درکار ہے۔ کیونکہ وہ 5 سال کے عرصے کو اپنے کاموں کے لئے کافی نہیں سمجھتے۔ اس سلسلے میں وہ چین کی مثال دیتے ہیں۔ جب تنقید نگار انہیں برطانیہ اور امریکہ کی جوابی مثال دیتے ہیں کہ دونوں ممالک پانچ اور چار سال کے عرصہ حکمرانی میں ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں تو وزیراعظم کے پاس جواب نہیں بن پاتا۔ موصوف اپنی حکومت کی سمت ابھی تک درست نہیں کرسکے۔

ان کے اندر ایک بہت بڑی خوبی ہے اور وہ ان کی طرف سے قسم قسم کے منصوبے پیش کرنے کی عادت ہے۔ خان صاحب ایسے ایسے نادر منصوبے تھوک کے حساب سے روزانہ کی بنیاد پر سامنے لاتے ہیں کہ لوگ دانتوں میں انگلیاں بھی داب لیتے ہیں۔ اور ان کے پیش کردہ منصوبوں پر حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگتے ہیں۔ مرغیاں، انڈے، کٹے، بچھڑے، بھینسیں بکریاں، شہد، زیتون اور گوبر سے بجلی کی پیداوار وغیرہ ان کے زرخیز ذہن کی اختراع ہیں۔

لیکن ہمارے عوام بھی بڑے بے مروت واقع ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ ان عمدہ اور شاندار منصوبوں سے فائدے اٹھانے سے اغماض برت رہے ہیں۔ دیہات میں بسنے والے تو پہلے ہی مختلف قسم کے جانور پال پوس کر اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مگر شہروں میں رہنے والے اپنے دو یا تین مرلے کے گھروں میں خود بڑی مشکل سے گزارہ کرتے ہیں۔ وہ کٹے، بچھڑے اور بکریاں کہاں رکھیں۔ محترم وزیراعظم ذرا اس مسئلے کا حل بھی بتا دیں تو عوام کا بہت بھلا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply