ہمیں دوسروں کی خوشی سے نفرت کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے چودہ برس پہلے 2007 میں جب پاکستان فضائیہ میں خواتین جی ڈی پیز (جنرل ڈیوٹی پائیلٹ) کا پہلا بیچ شامل کیا گیا، جہاں مجھ سمیت بہت سی لڑکیوں کے خوابوں کی لہروں کو ساحل کا آسرا ملا، جہاں پاکستانی لڑکیاں سبز رنگ کی جی سوٹ اور نیلے رنگ کی وردی میں تمکنت اور وقار کی اپنی مثال آپ معلوم ہوئیں، وہیں پر ہمیشہ کی طرح کچھ ایسے لوگ تھے جو ہر ایسی تبدیلی جو کہ کسی محروم طبقے کی خوشی کا باعث ہو، سے نالاں نظر آئے۔ بہت اچھا پہلو یہ تھا کہ تب سوشل میڈیا “دست زد عام” نہیں تھا، وگرنہ لوگ اور ان کے امتیازی تبصروں کی گرفت سے اللہ بچائے۔

اچھی باتوں پر تنقید وہاں کی جاتی ہے جہاں انفرادی کامیابی معدوم ہو، جو عناد اور حسد کو جنم تو دیتی ہے مگر اس پر نظریاتی طور پر روایت اور روایتی طور پر نظریات کا ٹھپہ لگ جاتا ہے بلکہ یوں کہیے کہ ٹھونک دیا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے یہاں ہر ہنڈیا میں مذہب کا بھگار زیادہ خوش اسلوبی سے لگتا ہے جو کہ آسان رہتا ہے اور ذود اثر بھی ۔ چاہے سالن کسی بھی شے کا ہو، آخر میں سب سیر ہو ہی جاتے ہیں یا کروا دیے جاتے ہیں۔

مجھے یاد ہے جنگ کے سنڈے میگزین میں اس بارے کچھ چھپا تھا کہ کیسے دین میں عورتوں کے جنگ لڑنے کی گنجائش نہیں ہے، لڑکیوں کا جہاز اڑانا کیسے بے پردگی کا سبب بن سکتا ہے، یہاں تلک کہ جہاز اڑانا کس طرح مرد ہوابازوں کے لئے بھی منع ہے کہ جب جہاز گھروں کے اوپر سے پرواز کرتے ہیں اور مکینوں کے پردے کے معاملات خراب ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کہنے والے نے عورت مرد سے کس کس طرح “کمتر” ہے، کی سائنسی و مذہبی ہر طرح کی دلیل بھی لکھ ڈالی۔

جنگ میں مد مقابل قوم کی عورتوں کو باندی تو بنا سکتے ہیں، ریپ کو ہتھیار کے طور پر استعمال بھی کر سکتے ہیں مگر پریڈ میں لڑکوں کے ہمراہ لڑکیوں کو دیکھ کر ہمارے پاکیزہ جذبات مجروح ہوئے جاتے ہیں۔ ہم بے ضرر اقدام پر تب آگ بگولا ہوتے ہیں جب وہ چیز ہم حاصل کرنے کے قابل نہ ہوں۔

ہم بحیثیت سماج ہمیشہ سے کسی نہ کسی طاقت کے مکمل قابو میں رہے ہیں۔ انسانی فطرت بھی جائز خواہشات کی تکمیل کے لئے جبر برداشت نہیں کرنا چاہتی۔ یہاں جائز سے مراد انسانی شعور میں صحیح اور غلط کی تکرار ہے۔

ہم نے کبھی خوشی سے خوشی محسوس نہیں کی، اس لیے دوسروں کی خوشیوں پر پل باندھتے ہیں۔ ہم جرأت اور جہد کے قائل نہیں، اسی لئے اپنے سے کم قوت کے لوگوں کی جدوجہد اور آواز کو ہنسی مذاق اور سازش کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی خوشیوں میں اکتفا کرنا ہی سکھایا گیا ہے جس میں بری بات بھی نہیں لیکن یہ بہت دفعہ اچھی بھی نہیں ہوتی جیسے کہ بیٹی کی زبردستی کی شادی، صرف اس لئے کہ دو بھایئوں یا بہنوں کا رشتہ اگلی نسل تک منتقل ہو۔

 بے جا روک ٹوک اور نفسیاتی محتاجی ایسے رویے پیدا کرتی ہے اور پھر ایسے انسان بنتے ہیں جو اجتماعی طور پر دوسرے بالخصوص کمزور انسانوں کے لئے مشکلات کھڑی کرتے ہیں۔ ان کے آگے بڑھنے کو اپنے وجود اور بقا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان تخیلاتی خطروں سے حقیقت کی دنیا میں نمٹنے کی کوشش انسانوں کے مابین انتشار اور تکلیف کو جنم دیتی ہے۔ تب ہی ایک بھائی بہن کو جان سے مارتا ہے تو کوئی شوہر بیوی کو اتنا مارتا ہے کہ وہ مر ہی جاتی ہے۔

ہم اپنے اطراف میں نگاہ کریں تو معلوم ہو گا کہ ہمیں ہر چیز پر ہی اعتراض ہوتا ہے۔ رائی کو پہاڑ بنا کر موت، قبر اور جہنم کی آگ سے کم بات بھی نہیں کرتے۔ ہم مجموعی طور پر انا اور حاکمیت کے ایسے انڈے میں قید ہیں جس سے نکل کر ہم پروان نہیں چڑھنا چاہتے۔ تلے اور ابالے جانے کے خوف میں تو مبتلا ہیں مگر انڈے کی حفاظتی جھلی اور خول سے باہر قدم رنجہ کرنا بھی باعث توہین گردانتے ہیں۔ جس خول میں ہم فخریہ قید کی زندگی گزارتے ہیں، اس سے جو نجات پانا چاہے اسے جینے نہیں دیتے۔ سدا انڈے میں رہنا نصب العین سمجھنے والے کبھی یہ نہیں جان سکتے کہ پرواز میں کیسی راحت اور آزادی ہے۔ انڈوں سے بھرے گھونسلے میں رہ کر اڑنے والوں پر غصے اور بد تمیزی سے چوں چوں تو کرتے ہیں اور کبھی آزاد پرواز سے واپس آئے طائروں کو سانپوں کی سازش سے ڈسوا لینا بھی معمول کی بات ہے۔

ہم ہر وقت غصے میں رہتے ہیں، ہمارا جینا مرنا ہی نفرت اور اس کا اظہار ہے۔ گھر سے باہر لوگوں کو ذلیل اور تنگ کرنا ہمارا اجتماعی شیوہ ہے۔ تعریف اور کسی کو سراہنا اب معدوم سا ہو چکا ہے۔ حقیقی زندگی بالخصوص سماجی روابط کے ذرائع (سوشل میڈیا) پر کوئی تعریف کر دے تو یقین نہیں ہوتا کہ آیا کوئی انسان میرا معترف بھی ہو سکتا ہے؟

ایک لڑکی خلا سے ہو کر کیوں نہ آجائے مگر وہ جس بات پر نشتر سہے گی، وہ اس کی نہایت ذاتی زندگی کے امور ہوں گے جیسے اس نے خلا میں جو لباس پہنا تھا وہ درست نہیں تھا، وہ خلا میں نامحرم کے ساتھ تھی، وہ زمیں پر کیسا لباس پہنتی ہے وغیرہ۔

ہمیں جو تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے یہ اس کا اہم باب ہے۔ ڈھکے الفاظ میں نفرت اور امتیاز سکھایا جاتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں لگ بھگ آٹھ برس کی ہوئی ہوں گی، مجھے قاری صاحب جو بچوں کی انگلیوں میں پنسل دبا کر مروڑا کرتے تھے، یہ باور کروا چکے تھے کہ جو عورتیں برقعہ نہیں اوڑھتی وہ جہنمی ہیں۔ مجھے آٹھ برس کی عمر میں یہ گمان تھا چونکہ میں برقعہ اور نقاب نہیں لیتی تو میں جنت نہیں جا سکتی، اور اگر میں لڑکا ہوتی تو جنت میں با آسانی جایا جا سکتا تھا۔ یہ سوچ تب ہموار ہوتی ہے جب ہمارے نزدیک کامیابی اور عزت کے مختصر اور پہلے سے متعین نتائج موجود ہوں۔ ہم خود بھی کچھ ایسے ہی دھاروں میں نفسیاتی اور عقلی طور پر تحلیل کئے جا چکے ہوتے ہیں جو سراسر تکلیف اور حزن پر مبنی ہیں۔ جو دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں، وہ اپنی زندگیوں میں احساس کمتری اور محرومی کا شکار ہیں۔ لڑکی کو خوش دیکھ کر مذہبی دلیل کھنیچنے والوں کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ خود جہنمی ہیں۔ اپنی محرومی کا ازالہ دوسروں کو ایذا دے کر کرنا خاصا آسان ہے۔

پی ایس ایل کے نئے ترانے کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ نصیبو لال کی گائیکی کے انداز اور انگریزی کے ٹھٹھے اڑانے والے وہ ہیں جو انگریزی کے ماضی، حال اور مستقبل کے افعال(Tenses) میں فرق نہیں جانتے۔ جو did کے ساتھ سیکنڈ فارم آف ورب بڑے ہی اہتمام سے لگاتے ہیں۔

دوسری جانب نصیبو لال کی وجہ شہرت جس قسم کے صنفی طور پر امتیازی گیت ہیں، اس کا برملا اظہار انہوں نے کچھ برس قبل خود کیا تھا کہ ایسے گیت دھونس اور دھمکی کے زیر اثر گائے جاتے رہے ہیں۔ دھونس اور جبر سے تو اس ملک کے بازار حسن بھی رواں دواں ہیں جن کو آباد بھی یہیں کے باسی رکھتے ہیں جو کہ الگ داستان ہے۔

لیکن مدعا یہ تھا کہ ہر بات پر اتنی نفرت کہاں سے آتی ہے؟ بات بات پر نظریات کیسے مجروح ہو جاتے ہیں؟ آپ کو کیوں ناگوار گزر رہا ہے اگر ایک لڑکی نتھیا گلی میں کھڑے ویڈیو بنا کر اپلوڈ کرتی ہے؟ ویڈیو کو ملنے والے ردعمل سے وہ خوش ہے تو سوشل میڈیا پر بیٹھے اجنبیوں کو کاہے کو اس کی عزت اور وقار کی فکر لاحق ہو رہی ہے؟ حافظ یاسر کے نکاح نشید پر بھی معترض لوگوں کی لمبی قطار ہے جو ہر آنے والی بے ضرر چیز پر برہم ہو جاتے ہیں۔ آپ امتیازی اور متشدد چیزوں پر تو برہم نہیں ہوتے۔ ایسی چیزوں کی ریٹنگز مثبت جاتی ہے۔ بلال سعید کی بدمعاشی کو بڑا مثبت جواب ملا ہے، لوگ بہت پرجوش بھی دکھائی دیے۔ ٹی وی پر براجمان ہو کر “آہ تھو” کرنے والے کو ٹی وی کی دنیا کا ولی مانا گیا ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ جن امور پر برہم ہونا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے، ان پر ہم چپ سادھے گوشوں میں دبک جاتے ہیں یا پھر وہاں ہر ایسی بات اور ضرر رساں شوشہ چھوڑنے سے بعض نہیں آئیں گے جو مظلوموں کے لئے سود مند ثابت ہونے کی بجائے ان کے دکھوں اور ناانصافی کو طول دے گا۔ غرض کہ ہم اندر اور باہر سے اس قدر تعفن زدہ ہیں کہ بہتری کے لئے بڑھنا ہی نہیں چاہتے، گھٹن اور ذہنی غلامی کے کھنڈروں میں بھوت پریت کی مانند بسیرا کیے ہوئے ہیں کہ کھلی فضا اور شخصی اور سماجی آزادی کی کرنوں کو پار بھی نہیں ہونے دیتے۔ دوسروں کی چھوٹی چھوٹی بے ضرر خوشیوں کو نظریات کی بلی چڑھا کر اپنے جذبۂ نفرت کو خون پلا کر ہی خوش رہتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ مغرب کی لوک داستانوں کی ایسی جادوگرنی بن چکا ہے جو اپنے ہی گلے ہوئے سر کے کیڑے نکال کر کھاتی رہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply