مُردوں سے ریپ کا معاملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میں نے منٹو کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ منٹو کو فحش لکھنے پر مقدمات کے علاوہ عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس سے مجھے ایک بات کا اطمینان بھی ہوا کہ برصغیر جب دولخت ہوا تو معاشرہ بے حس نہیں تھا،ردعمل دیتا تھا، گو کہ اس وقت سوشل میڈیا تھا اور نہ ہی الیکٹرانک میڈیا کی یلغار تھی، وہ لوگ پڑھتے تھے اور پھر بولتے تھے۔ اب عوام نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور بولنا شروع کر دیا ہے۔

منٹو نے معاشرے کی بے حسی، بے مروتی اور بدحالی کو برہنہ الفاظ میں بیان کر کے معاشرے کو ننگا کر کے رکھ دیا۔ برصغیر کے لوگوں کے اجڑنے کے احوال ہی تو لکھے ہیں منٹو نے۔ وہ دنگے فساد ہوں یا فرنگیوں کے زیر تسلط پروان چڑھتا معاشرہ اور اس میں ہونے والی نمایاں تبدیلیاں ، منٹو سب لکھنا چاہتا ہے لیکن شاید عوامی ردعمل اور قانون کی عمل داری آڑے آتی رہی اور وہ چڑ گیا،  پھر وہ الفاظ عریاں کرتا گیا اور نتیجتاً اس نے وہ سب لکھ دیا جو کوئی دوسرا نہ لکھ پاتا۔

منٹو فحش نگار نہیں معاشرہ نگار تھا ، وہ دیکھتا تھا لکھتا تھا اور پھر معاشرے کے منہ پر دے مارتا تھا۔ اگر آپ کو اس کی تحریریں فحش نظر آتی ہیں تو سمجھ جائیے معاشرہ ہی فحش تھا۔

منٹو اپنی والدہ کے انتقال پر قبرستان کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بمبئی میں بڑا خوبصورت قبرستان تھا۔ قبرستان میں داخل ہوتے ہی ایک خوبصورت مسجد دکھائی دی جس کے باہر ایک بہت بڑے بورڈ پر ”ضروری اطلاع“ کے عنوان سے یہ عبارت لکھی ہوئی تھی، ”اگر کوئی شخص اپنے وارث کا کچا اوٹا بنانا چاہے تو وہ گور کھودو بنا دیں اور کوئی نہیں بنا سکتا۔ بڑی قبر بنانے کے دو روپیہ چار آنے، جس میں سوا روپیہ گور کھودو کی مزدوری اور ایک روپیہ قبرستان کا حق، چھوٹی قبر کا سوا روپیہ جس میں گور کھودو کی مزدوری بارہ آنے اور قبرستان کا حق آٹھ آنے، اگر نہ دیں گے تو ان کا اوٹا نکال دیا جائے گا، قبرستان میں کسی کو رہنے کی اجازت نہیں۔ ہاں میت کے ساتھ آویں اور اپنا توشہ لے کر باہر چلے جاویں۔ خواہ مرد ہو یا عورت۔‘‘

مجھے یاد آ گیا کہ پچھلے دنوں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے مُردوں کی بے حرمتی اور ان سے جنسی زیادتی یا ریپ کا بل کمیٹی میں پیش کیا اور سزا تجویز کی کہ میت کے ساتھ ریپ کی بھی وہی سزا ہونی چاہیے جو زندہ انسان سے ریپ کی ہوتی ہے۔ میت کے ساتھ ریپ کے کیسز بہت زیادہ ہیں ساتھ ہی کہا کہ اگر یہ بل پاس نہ ہوا تو کل کو ہمارے اپنوں نے بھی قبر میں جانا ہے، جس کے بعد کمیٹی نے مشترکہ طور پر بل پاس کر دیا۔ ساتھ ہی قبرستانوں کے گرد چار دیواری اور سیکورٹی بڑھانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ ملک خداداد میں تاحال ایسا کوئی قانون موجود نہیں کہ میت کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اب ایک طرف آپ اپنے ملک کے قبرستانوں اور ان میں پڑی میتوں بارے سوچیں اور دوسری طرف بمبئی کے وہ قبرستان جہاں ایلیٹ کلاس اور غریبوں کی قبروں کی دیکھ بھال کا نہ صرف ریٹ مختلف تھا بلکہ ماحول بھی تبدیل محسوس ہوتا ہے ، ایک طرف پھول لگے ہوتے تھے تو دوسری طرف جھاڑیاں نظر آتی تھیں۔ گڑے مردے اکھاڑنے کا محاورہ تو سن رکھا ہو گا، اب اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو یہ سچ ہوتا نظر آئے گا اور وہ بھی اس بدتہذیبی کے ساتھ کہ آپ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائیں گے لیکن ایک سوال ہے؟ آخر ایسا کیوں؟

الزام معاشرے کو دینا بنتا ہے یا معاشرے کے معماروں کو یا پھر عمامہ والوں کو؟ یقیناً یہ پورے معاشرے کی عکاسی نہیں ہے لیکن یہ بھی تو معاشرے کا ہی حصہ ہیں جو اس نیچ حرکت پر اتر آتے ہیں۔ اس پنپتی معاشرتی فحاشی کو روکنے کے لئے کیا کسی اور منٹو کی ’فحش نگاری‘ کا انتظار کیا جا رہا ہے یا یہ کام ہم سب مل کے کر سکتے ہیں؟ بات صرف احساس کرنے کی ہے سمجھنے کی ہے اور سمجھانے کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار حیدر

وقارحیدر سما نیوز، اسلام آباد میں اسائمنٹ ایڈیٹر کے فرائض ادا کر رہے ہیں

waqar-haider has 54 posts and counting.See all posts by waqar-haider

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *