انتہا پسند سوچ اور رابعہ بصری کا فلسفۂ انسانیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم آج مذہبی انتہاپسندی کے دور میں جی رہے ہیں، مختلف مذہبی برانڈ والے لوگوں نے مختلف ناموں کے ساتھ اپنا اپنا مذہبی دائرہ قائم کیا ہوا ہے اور ان مخصوص دائروں میں صرف روایتی مذہبی لوگوں کی اجارہ داری ہے، غیر روایتی اذہان کے لیے ان مخصوص دائروں میں داخل ہونے کی بالکل گنجائش نہیں۔ یہ تسلسل ایک ایسے کلچر میں ڈھل چکا ہے جس میں سوال کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے، جن مسلمان نوجوانوں کے ذہن میں مختلف قسم کے سوالات کلبلاتے رہتے ہیں، ان کے سوالات کا جواب دینے کی بجائے ”لاحول“ کی تسبیح کا ورد تجویز کر کے شیطانی وسوسوں کو رام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یا سوال کرنے والوں پر مختلف کفریہ ٹیگ لگا کر تضحیک کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہی شدت پسندانہ روش نئی سوچ کے دروازے بند کر دیتی ہے اور یہی پر تشدد مائنڈ سیٹ نجانے کتنے معصوم لوگوں کی جانیں لے چکا ہے، ہم اپنی مخصوص محدود سوچ کے ساتھ صرف اپنے مذہب کو فوقیت دیتے ہیں جبکہ دوسرے مذاہب اور عقائد کے لوگوں کو اچھا نہیں سمجھتے۔

اس قسم کی کم ظرفی ہمیں پیار و محبت کا درس دینے والے صوفیاء میں بالکل نظر نہیں آتی حالانکہ یہ بزرگ روایتی مذہبی تصورات پر تنقید کرتے رہے اور مختلف مذاہب کے لوگوں میں پیار بانٹتے رہے۔ بلھے شاہ، سلطان باہو، فرید الدین عطار، رومی، رابعہ بصری جیسے بزرگ انسانیت پرست تھے اور انسانیت کو مذہب سے اوپر جانتے تھے، ان کی تعلیمات میں کسی بھی قسم کی تفریق نہیں ہے۔ دانائی کل کو پانے کے لیے صوفیاء کی دو روایات بہت مشہور ہیں۔

1۔ وحدت الوجود: اس فلسفہ کو ماننے والے بزرگوں کا خیال ہے کہ ایک خالق کائنات ہے اور ساری کائنات اس کی مخلوق ہے۔

2۔ وحدت الشہود: اس فلسفہ کو ماننے والے بزرگوں کا خیال ہے کہ ہر چیز خدا ہے، ہر چیز میں نیچر کی تمام چیزیں آتی ہیں اور ہم سب خدا کا حصہ ہیں۔

انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہونے والی رابعہ بصری جس کی پیدائش پر والدین کے پاس چراغ میں تیل ڈالنے کے پیسے نہیں تھے اور اس کی زیادہ تر زندگی غلامی میں گزری مگر وہ ایک بہت بڑا ذہن تھیں، انہوں نے خالق کائنات سے اپنی وابستگی مضبوط کرنے کے لیے انتہائی خوبصورت ہونے کے باوجود شادی نہیں کی اور اپنی زندگی خالق سے حقیقی جڑت پیدا کرنے کی جستجو میں تیاگ دی اور انسانیت کو ایک ایسا فلسفہ دیا جو روایتی مذہبی تصورسے بالکل مختلف تھا۔

رابعہ بصری کے حوالے سے بہت سے عجیب و غریب قصے مشہور ہیں جنہیں روایتی مذہبی ذہن فوری قبول کر لیتا ہے مگر ریشنل مائنڈ تذبذب کے درمیان جھولتا رہتا ہے مگر ان سب کے باوجود ان کہانیوں میں انسانیت کا وہ سبق ملتا ہے جسے آج کے شدت پسند مذہبی عناصر ترک کر چکے ہیں۔ رابعہ اپنے نقطۂ نظر میں کتنی وسیع النظر تھیں اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ

جب سے میں نے اپنے خالق کو پہچانا ہے، میں نے اس دنیا کو چھوڑ دیا ہے، مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ کیا حلال اور حرام ہے۔

اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم زندگی کی کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہماری روایتی فکر چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے محدود مذہبی دائرے سے نہ جانے کتنے لوگوں کو روزانہ نکال باہر کرتے ہیں۔ دوسری جگہ وہ فرماتی ہیں کہ میری روح کے اندر ایک مندر، درگاہ، ایک مسجد اور چرچ موجود ہے جو ایک خدا میں تحلیل ہو جاتا ہے ۔

یہ جملہ بین المذاہب ہم آہنگی کی کتنی خوبصورت عکاسی ہے۔ دانائی کل کی جستجو کرنے والا تمام قسم کی تفریق سے اوپر اٹھ کر کائنات کا مشاہدہ کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے، اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی خالق کو کس نام سے پکارتا ہے، وشنو، کرشنا، بھگوان اور اللہ یہ سب سچائی کو دیکھنے کے مختلف انداز ہیں مگر راستہ سب کا ایک ہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے روایتی ملا، فادر اور پنڈت چھوٹی چھوٹی باتوں کو مسئلہ بنا کر انسانوں کو دھرم کے نام پر تقسیم کر کے ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتے ہیں، حالانکہ سچائی کو پرکھنے کے مختلف پیمانے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح بدھا، کبیر داس، مہاویرا اور ٹیگور کا اپنا راستہ اورطریقہ تھا اور سچائی کو پانے کے یہ جدا جدا راستے انسانی فکر کی ایک خوبصورت مالا ہے۔

ایک دفعہ صوفیوں کے ایک گروہ نے دیکھا کہ رابعہ بصری ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے ہاتھ میں پانی لیے تیز تیز چلی جا رہی تھیں۔ ایک نے پوچھا کہا جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اس آگ سے میں جنت کو جلاؤں گی اور اس پانی سے میں جہنم کی آگ کو بجھاؤں گی تاکہ اپنے خالق کی فرمانبرداری بلا خوف و طمع کی جائے یعنی لالچ اور خوف کے عنصر کو درمیان میں سے ہٹانا ضروری ہوتا ہے تاکہ مخلصانہ انداز میں حقیقی منزل تک پہنچا جا سکے۔رابعہ بصری کے مطابق سچی لگن کو پانے کے لیے جنت کا لالچ اور جہنم کا خوف ختم کر دو چونکہ خوف اور طمع سے انسان کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے۔ محبت کے راستوں میں اسٹک اینڈ کیرٹ کا اصول نہیں چلتا۔

ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک بارابراہیم بن ادہم حج کرنے گئے تو کعبہ کو غائب پایا، کچھ دیر بعد پتا چلا کہ کعبہ خود چل کر رابعہ کا طواف یعنی استقبال کرنے گیا ہے ۔ اب یہ باتیں کہاں تک درست ہیں، اس کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی کیونکہ عقیدے کی دنیا اور حقائق کی دنیا میں بہت فرق ہوتا ہے مگر اس علامتی واقعہ کے اندر ایک اہم پیغام ہے کہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل بذات خود انسان ہے اور علامتی طور پر کعبہ کا خود چل کر جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسانیت سب سے اوپر ہے اور سب مذاہب نیچے ہیں۔

اسی جہالت اور تنگ نظری پر مبنی رویے نے منصور حلاج کی جان لے لی تھی،  جب اس نے انا الحق کا نعرہ لگایا تو اس وقت کے لوگوں کو یہ جملے توہین آمیز لگے۔ حالانکہ وہ لوگ اس جملے کی گہرائی کو سمجھ ہی نہیں پائے تھے، اس توہین آمیز جملے پر اس دور کے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک خدائی دعوٰی ہے جبکہ کچھ لوگ اسے mystical annihilation of the ego (نفی ذات) قرار دیتے تھے ۔ دراصل یہ ایک ایسی کیفیت ہے کہ جس میں انسان بے خود ہو جاتا ہے۔ مگر فتوٰی بازی کے تناظر میں حلاج کو دریائے دجلہ کے کنارے قتل کر دیا گیا ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے تنگ نظری کے دائرے سے باہر نکل کر اوروں کو قبول کرنا سیکھیں اور مختلف سوچ رکھنے والوں کو بلاوجہ کافر، ملحد، مرتد اور دجال جیسے القابات سے نوازنا چھوڑ دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply