کیا تبدیلی سرکار ملازمین کو دھوکا دے رہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’ہم آئے تو ائی ایم ایف سے قرضے نہیں لیں گے، کیا آپ کو اچھا لگے گا کہ آپ کا وزیراعظم بھیک مانگتا پھرے، سن لو اے آئی ایم ایف والو! آج کی تاریخ کے بعد اگر کوئی قرضہ پاکستان کو دیا تو ہم (پی ٹی آئی کی پاکستانی حکومت) اس قرضے کی ایک پائی بھی واپس نہیں کریں گے، پٹرول، بجلی اور گیس سستی کریں گے کیونکہ یہ غریبوں کا ایندھن ہیں، اگر نوبت قرض لینے کی آ گئی تو میں، (عمران خان، ملک کا وزیراعظم) خود کشی کر لوں گا، آپ کو ایک کروڑ نوکریاں دوں گا بلکہ اتنی آسامیاں پیدا کروں گا کہ جتنے بھی لوگ غیر ممالک میں بسلسلہ روزگار جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، وہ سب کے سب پاکستان آنے پر مجبور ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔‘‘

یہ تو تھے وہ وعدے اور دعوے جو قوم سے ویسے تو 22 برسوں سے کیے جا رہے تھے لیکن اسلام آباد میں 126 دنوں کے دھرنوں کے دوران ہر دن 100 مرتبہ دہرائے جاتے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ایک ایک تھوکے کو جس بری طرح چاٹا گیا اس کی مثال پوری تاریخ انسانیت میں ڈھونڈے نہیں ملتی۔

وہ کون سی سیاسی پارٹی ہے جو عوام کے سامنے بلند و بانگ دعوے کر کے کرسیٔ اقتدار پر فائز نہ ہوئی ہو لیکن ایسا پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا کہ پارٹیاں اقتدار میں آنے کے بعد اپنی زبان سے اس بری طرح پلٹی ہوں کہ کوئی ایک وعدہ اور دعویٰ بھی پورا نہ کیا ہو۔

خبر ہے کہ جناب عمران خان صاحب، وزیراعظم پاکستان، بالکل حال ہی میں کیے گئے معاہدے سے پھر کر ایک نئی تاریخ رقم کرنے لگے ہیں۔ ”وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 18 محکموں کی تنخواہوں میں 25 فیصد مجوزہ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایکسٹرا الاؤنسز لینے والے محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، جن میں ایوان صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ملازمین بھی شامل ہیں جبکہ ان 18 محکموں کے مجموعی طور پر 3 لاکھ 26 ہزار 745 ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ حکومتی فیصلے کی روشنی میں ایف بی آر، شعبہ صحت، نیب، اعلیٰ عدلیہ اور وفاقی پولیس کے ساتھ ساتھ موٹروے پولیس کے ملازمین کی تنخواہیں بھی نہیں بڑھائی جائیں گی جبکہ ایئرپورٹ سیکورٹی فورس، انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی اور ایف آئی اے، لا اینڈ جسٹس کمیشن، پارلیمانی افیئر ڈویژن اور اسلام آباد ماڈل پولیس کے ملازمین بھی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے سے محروم رہیں گے“ ۔

اس سے قبل جتنے بھی وعدے اور دعوے وہ کرتے آئے تھے وہ زبانی گولہ باری تک ہی محدود تھے لیکن اب جھوٹ اپنا حدود اربعہ اس حد تک بڑھا چکا ہے کہ وہ لکھے گئے معاہدوں کو بھی خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں۔

تاریخ میں لکھے گئے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اہل باطل سے تو وابستہ ضرور رہی ہیں اور ایسا ایک بار نہیں، متعدد بار ہوتا رہا ہے لیکن اہل ایمان نے درختوں کے پتے، جوتوں کے چمڑوں کے تلے، مردار اجسام کا گوشت اور درندوں کا شکار کر کے اپنے شکم کی آگ تو ضرور بجھائی ہے لیکن لکھے اور کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کسی قیمت گوارا نہیں کی۔ یہ معاہدے کا نتیجہ ہی تھا کہ سلمان فارسی جیسے اہل ایمان کو اپنے ہمراہ نہ لانے کا حکم تو دیا گیا لیکن کافروں سے کیے گئے معاہدے کی خلاف جانا گوارا نہ کیا۔

ایک ایسی حکومت جس کا اقتدار کی کرسی سنبھالتے ہی دعویٰ تو یہ تھا کہ وہ پاکستانی معاشرے کو ریاست مدینہ کا نمونہ بنا کر دم لے گی، وہ پہلے تو صرف زبانی کلامی وعدوں سے انحراف کرتی رہی تھی، اب مکر و فریب کی یہ نوبت آ گئی ہے کہ اس کے نزدیک لکھے اور باقاعدہ دستخط کیے گئے معاہدوں کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہ گئی ہے۔

ویسے سچی بات یہ ہے کہ اگر ایک جانب اپنے کیے گئے وعدوں اور دعوؤں سے نہایت بے رحمی کے ساتھ انحراف در انحراف سامنے آ رہا ہے تو دوسری جانب باتوں سے مکر جانے والے پر کیے جانے والے اعتماد در اعتماد میں اب تک کسی مقام پر بھی کوئی کمی یا کمزوری دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

معذور افراد نے لاٹھیاں اور ماریں کھانے کے باوجود بھی بار بار کے جھوٹے وعدوں پر اپنی ہڑتالیں ختم کیں۔ ڈاکٹرز ہوں، اساتذہ کرام ہوں، لیڈی ہیلتھ ورکرز ہوں یا سڑکوں پر نکل کر ٹھوکریں، جوتے اور گولیاں کھانے والے مزدور، ہر مرتبہ جھوٹوں کی باتوں پر یقین کر لینے کے بعد اپنے اپنے گھروں کی جانب لوٹتے دیکھے گئے ہیں۔ افسوس اس پر نہیں کہ جھوٹوں، مکاروں، تھوک کر چاٹنے والوں اور فریبیوں نے موجودہ تحریری معاہدوں کی خلاف ورزی کیوں کی، حیرت اس بات پر ہے کہ سرکاری ملازمین نے ان ہی جھوٹوں کے ساتھ معاہدہ کر لینے کے بعد اطمینان اور سکون سے بیٹھ جانا گوارا کیسے کر لیا۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ جھوٹوں کو جب تک ان کے گھر کے دروازے تک نہ چھوڑ آتے، سکون کا سانس لینا حرام سمجھا جاتا۔

معاہدہ ہو گیا تھا تو اس وقت تک کام پر واپس آنے کا فیصلہ نہ کیا جاتا جب تک 25 فیصد اضافے کی رقم مع بقایا جات تنخواہوں کے ساتھ لگ کر وصول نہیں ہو جاتی۔ ابھی تو صرف 18 محکمہ جات کے اضافے کو ہی روکا گیا ہے جو کہ ایک ٹیسٹ کیس بھی ہو سکتا ہے یہ دیکھنے کے لئے کہ رد عمل کیا آ سکتا ہے لیکن موجودہ حکومت سے کچھ بعید بھی نہیں کہ پورے کا پورا معاہدہ ہی ردی کی ٹوکری میں ڈال دے، لہٰذا ضروری ہے کہ یا تو ”اب کے مار کے دیکھ“ کا اصول اپناتے ہوئے دوسرا گال بھی پیش کر دیا جائے یا پھر وہی کیا جائے جو معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر مدینے میں آباد یہود کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ان دو راستوں سے ہٹ کر جو بھی راہ اپنائی جائے گی، خسارہ کے سودے کے علاوہ اور کچھ نہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply