نیا مکان اور پرانی یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن سے طبیعت لکھنے کی جانب مائل نہ تھی، شاید اس لیے کہ میں وہ پرانا مکان چھوڑ آیا ہوں جہاں کی قد آدم کھڑکیاں، پچھلا صحن اور وہاں قطار میں کھڑے عمر رسیدہ درخت تخلیق کی تحریک فراہم کرتے تھے۔ اب میں نسبتاً ایک نئے مکان کا باسی ہوں جو پہلے سے کافی بہتر ہے۔ نو کمروں پر مشتمل یہ جگہ دو حصوں میں منقسم ہے، جس سے دو خاندان آسانی سے ایک ہی گھر میں بہتر انداز سے رہ سکتے ہیں۔

چند دن تو اسے بنانے سنوارنے میں خوشی خوشی گزر گئے، پھر یاد آیا کہ چاہے یہاں کمروں کی تعداد زیادہ مگر کھڑکیاں چھوٹی ہیں۔ پچھلا صحن اب بھی نظر آتا ہے مگر وہاں پرانے لمبے درختوں کی جگہ لکڑی کی ایک باڑ نصب ہے۔ میرے اس کمرے میں بہت سا نیا سامان آ گیا ہے مگر اب وہ پرانا دروازہ نہیں رہا جو ہر کسی کی آمد کا اعلان چرررررر کی آواز سے کرتا، اور نہ ہی میرا بوڑھا پلنگ جو ہر بار اٹھنے بیٹھنے پر چوں چاں کا احتجاج کیا کرتا تھا۔ واحد غسل خانے کے باہر لگی لمبی قطار بھی نہ رہی جہاں گھر میں مقیم افراد اپنی باری کا انتظار کرتے گپ شپ لگاتے اور گھر کا ہر بڑا نہانے سے پہلے ہر چھوٹے سے پوچھتا کہ جانا تو نہیں؟

میری بیٹی کو پرانی سیڑھیاں یاد آتی ہیں جن پر بیٹھ کر اس نے سامنے لگے آئینے میں اپنی چٹیا بنانی سیکھی تھی۔ اور میرا بیٹا اور بھانجا ان تمام پابندیوں سے باغی ہیں جو ہم اس نئی جگہ اور نئے سامان کی حفاظت کی غرض سے ان پر عائد کرتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ اپنی مرضی سے الٹی سیدھی چھلانگیں نہیں لگا سکتے۔

وہ پرانی طرز کا بڑا سا مکان ٹورنٹو میں ہمارا پہلا پڑاؤ تھا اور اپنی کمی بیشی کے باوجود ہمارے سر کی پہلی چھت۔ شروع کے چند ماہ کسی فرنیچر کے بنا ہی فرشی بستروں پر گزر گئے۔ وہ تو بھلا ہو میری بیٹی کا جس نے ایک دن احتجاجاً ایسا واویلا مچایا کہ دو ہی دن میں گھر کو نئے پرانے فرنیچر سے بھرنا پڑا۔ اسی گھر کی بدولت راجی جیسے ہمدرد ہمسائے سے ملاقات ہوئی جس نے پہلی مناسب نوکری کا انتظام کروایا، اور جوزف اور سٹیفنی کی شفقت جو ہمارے گھر کے پراٹھے کھاتے اور ہمارے لان میں اگی خود رو جڑی بوٹیاں صاف کرتے۔

پھر برابر کے گھر میں ترک باشندہ رضا جو شکار کی مچھلی لاتا اور رات گھر پہنچنے پر سگریٹ کے کش لگاتے گپ شپ کرتا۔ سامنے کے مکان میں کم نامی بیوہ جو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بس اپنی بلی سے دل لگاتی اور حیدرآباد انڈیا سے آئے امجد بھائی جو اپنی نگرانی میں بنوائے نئے نکور بڑے سے گھر میں ماضی قریب ہی میں منتقل ہوئے تھے۔ ان سب کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کبھی احساس ہی نہ ہوا تھا کہ ایک نئی دنیا کے باسی ہیں۔

اس پہلے گھر کے حاصل ہونے کی کہانی بھی عجیب تھی، ہر نئے آنے والے کی طرح ہمیں بھی ٹورنٹو کے مضافات میں آباد صرف مسی ساگا یا برامپٹن جیسے شہروں کے ناموں سے آگاہی تھی کہ پاکستانی اور ہندوستانی امیگرینٹس کی ایک بڑی تعداد انہی دو شہروں میں مقیم ہے۔ یہ علاقہ گریٹر ٹورنٹو ایریا کا مغربی حصہ ہے۔ اور پرانے جاننے والے ایک آدھ دوست بھی یہیں آباد تھے۔ اب ہم اور ہماری چھوٹی بہن دونوں خاندان یہاں ایک ساتھ منتقل ہوئے اور ایک معصوم سی خواہش تھی کہ ایک ہی بڑا سا گھر لے کر شروع کا کچھ عرصہ اکٹھا گزارا جائے کہ ایک دوسرے کا ساتھ اور سہارا ہو۔

مگر یہ چھوٹی سی آرزو گھر حاصل کرنے کے ایسے آڑے آئی کہ بے حد کوشش کہ باوجود کوئی گھر دینے کو راضی نہ ہوا۔ وجہ وہی کہ نئے آئے ہیں، کوئی کریڈٹ ہسٹری نہیں، جانے انہیں نوکری ملے نہ ملے، کرایہ ادا کر پائیں یا نہیں۔ کسی نے دو علیحدہ تہہ خانوں کا مشورہ دیا کہ کینیڈا میں اکثر گھروں میں بیسمنٹ پورشن تعمیر کیے جاتے ہیں جو کرایہ پر نسبتاً آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ تو کسی نے ایسے فلیٹوں کی راہ دکھائی جہاں کی وجہ شہرت ہی ان کے کھٹمل تھے۔

ایسے میں ہمارے دوست نوید کے ابا مسعود چودھری نے اپنے دوست سرفراز صاحب سے رابطہ کیا۔ سرفراز صاحب بھلے وقتوں سے یہاں مقیم ہیں اور ایک کنسٹرکشن کمپنی کے مالک۔ ایک دبنگ اور یار باش آدمی جن کے گھر میں دوستوں کی محفلیں آباد رہتی ہیں۔ قسمت کا لکھا کچھ ایسا تھا کہ اسی وقت سرفراز صاحب نے ایک پارٹنر کے ساتھ مل کر وہ گھر خریدا تھا جو ہمارا مسکن بنا۔ انہوں نے ایک لفظ پوچھے بنا مسعود انکل کو جواب دیا کہ اگر تعلق والے ہیں تو گھر ایک سال کے لیے ان کو کرایہ پر مل جائے گا۔ اس کے بعد انہیں اسے دوبارہ تعمیر کرنا تھا۔ اور ایسے ہم پکرنگ نامی اس چھوٹے اور خوبصورت سے شہر میں آباد ہوئے جو ٹورنٹو ایریا کے اکثر شہروں کی نسبت کم آباد اور جھیل اور جنگلات سے گھرا پرسکون شہر ہے۔

کوئی ڈیڑھ سال یہاں گزر گیا تو اب باری تھی اس گھر سے نکل کر ایک نیا مکان تلاش کرنے کی۔ خدا کا شکر کہ دونوں خاندان ابھی ایک دوسرے سے تنگ نہیں پڑے تھے تو دونوں خواتین کی رضامندی کے بعد اپنے بہنوئی علی خان کے ساتھ مشاورت کی اور نئے مکان کی تلاش شروع کی۔ اب ایک بار پھر تقدیر نے کرم کیا اور جو پہلا ہی گھر دیکھا وہ پسند آ گیا اور کوئی پچاس صفحات پر مشتمل ہماری کرایہ دار بننے کی درخواست جس میں ہر فرد کی کریڈٹ ہسٹری، بینک اکاؤنٹ، نوکری کی تفصیلات، اور عادات و مشاغل کا تفصیلی ذکر تھا، کافی پس و پیش کے بعد قبول ہو گئی۔

ہم اپنے پراپرٹی ڈیلر کو یہ بتانا نہ بھولے کہ بھیا اس سے آدھی معلومات میں اپنے پاکستان میں رشتہ مل جایا کرتا ہے۔ اب اگلا امتحان سامان یہاں سے وہاں کرنا تھا کہ جو کاٹھ کباڑ اس عرصے میں جمع کر چکے ہیں اسے اگلے گھر کیسے پہنچایا جائے۔ یہ ہماری کاروں میں تو جانے سے رہا۔ پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے کسی مدد کی امید بھی کم ہی تھی۔ ایسے میں ولید ایک بڑا ٹرک لے کر پہنچ گیا اور رضوان بھائی نے سب لوگوں کا کھانا پہنچانے کی ذمہ داری لے لی۔ یوں دوستوں کی محبت سے یہ مرحلہ بھی باآسانی مکمل ہو پایا۔

یہاں کے ہمسایوں سے البتہ ابھی کوئی خاص تعارف نہیں ہوا کہ شدید سردی کی اس لہر میں ہر کوئی صرف ضرورت کے تحت ہی باہر نکلتا ہے۔ البتہ جھیل کے زیادہ نزدیک اور اس کے راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے ہر شام بچے بڑے قطار در قطار سامنے پیدل گزرگاہ سے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔

اتنی محنت اور مشکل سے ملنے والے اس گھر میں جب سنبھل کر رہنا پڑتا ہے تو کبھی سوچتا ہوں وہ پرانا مکان بھی تو پاکستان جیسا تھا، جہاں زندگی یاروں کی محفل میں اچھلتے کودتے کسی پابندی کے بنا گزرتی۔ جس کا پچھلا صحن کسی گاؤں کے کھیت کھلیان کی یاد دلاتا اور جو ہمیں کسی تگ و دو کے بنا بڑے بزرگوں کی مہربانی سے ایسے ہی مل گیا تھا جیسے ہماری نسل کو ہمارا ملک۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply