بلوچستان کے لاپتا افراد اور ان کی مائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھبیس اپریل 2014  کو مستونگ تھانے میں دو افراد سعید احمد اور عبداللہ کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ یہ دونوں افراد لیویز میں ملازم تھے اور کوئٹہ سے واپس مستونگ جاتے ہوئے لاپتا ہوئے۔

لاپتہ سعید احمد کے والد صاحب نے کئی جگہ درخواست دی اور اپنی درخواست میں انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ کس طرح کوئٹہ سے واپسی پر راستے میں اسے غائب کر دیا گیا۔ بیٹے کی جدائی میں ماں کو دو مرتبہ دل کا دورہ پڑ چکا ہے ، وہ اس وقت بھی شدید بیمار ہے۔

متعدد بار کمشنر مستونگ کو سعید احمد کے والد نے درخواستیں دیں اور یہی التجا کی کہ اگر میرے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

اس سلسلے میں سعید احمد کے والد نے ایک درخواست وزیراعلیٰ بلوچستان کو بھی دی، جس میں سعید احمد کی گمشدگی کا بتایا گیا اور اس کے غائب ہونے کے بعد اس کی ماں کا غم سے بیمار پڑنے کی روداد بتائی گئی اور التجا کی کہ اسے بازیاب کرایا جائے۔

سعید احمد کے والد بھی لیویز کے ریٹائر ملازم ہیں اور خود سعید احمد اور اس کے ساتھ غائب ہونے والا اس کا کزن بھی لیویز کے ملازم تھے اور آن ڈیوٹی تھے۔

سعید احمد کے والد نے ایک درخواست مؤرخہ بیس فروری دو ہزار اٹھارہ کو جناب میجر جنرل ندیم انجم صاحب (فرنٹیئر کور کے سدرن کمانڈر) کو بھی دی اور انہیں یہ یقین بھی دلایا کہ ان کے بچے بازیاب ہو گئے تو وہ ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو محب وطن بنا کرچھوڑیں گے، جو غداری کے بجائے وطن کے لئے اپنا سر تن سے جدا کر دیں گے۔ انہیں بس ایک موقع فراہم کیا جائے۔

اس کیمپ میں یہ غمزدہ ماں اکیلی نہیں تھیں۔ ان کے ساتھ ریاض احمد کی والدہ بھی انصاف کے لئے جھولی پھیلائے بیٹھی تھی۔

انہی خواتین میں ایک باوفا خاتون حانی گل بھی تھی جو اپنے منگیتر کے واپس آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ خود بھی تین مہینے کے لیے لاپتا کر دی گئی تھی۔

بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے، وہاں تعلیم کا فقدان ہے ، لوگ زیادہ تر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ جغرافیائی طور پر دیکھیں تو بلوچستان چٹانی علاقہ ہے اور علاقائی لوگ بھی بالکل چٹانوں کی طرح سخت جان اور محنت کش ہیں۔

پسماندہ صوبہ ہونے کی وجہ سے باقی دنیا سے یہ کافی پیچھے ہے، وہاں انٹرنیٹ کی مناسب سہولت ہے نہ لائبریریاں اور نہ ہی اچھے اسکول و کالج۔ ایسے میں ستم یہ ہے کہ وہاں کے نوجوانوں کو ایک اندھی جنگ میں جھونک دیا گیا ہے اور یہ جنگ خودساختہ ہے۔ آپ زبردستی نوجوان نسل کو غدار بنا دیتے ہیں جبکہ وہ جوان اپنی جملہ ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔

بلوچستان خود ایک امیر صوبہ ہے، اس کے پاس معدنیات کی کمی نہیں۔ سوئی جہاں سے گیس نکلتی ہے اور پورا پاکستان مستفید ہوتا ہے وہاں کے لوگ لکڑیاں جلانے پہ مجبور ہیں۔ بلوچستان ایک شورش زدہ علاقہ بن چکا ہے ، وہاں ایک نہ سمجھ میں آنے والی جنگ چل رہی ہے۔

بلوچستان کا تھانہ ہو ، کمشنر ہو ، وزیراعلیٰ ہو یا کوئی جنرل سب کسی قوت کے آگے بے بس ہیں۔ بلوچستان کی شورش اور وہاں لگی آگ کی لپیٹ میں کتنے لوگ آتے ہیں، اس کا اندازہ ان ماؤں بہنوں کو دیکھ کر ہوتا ہے جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے سردی گرمی دیکھے بغیر کیمپ لگا کر بیٹھتی ہیں۔ ان کا صرف یہی مطالبہ ہے کہ کم از کم یہ بتایا جائے ان کے پیارے کہاں ہیں۔

اس وقت بھی اسلام آباد پریس کلب کے باہر بلوچستان کے لاپتا افراد کے لواحقین اپنی فریاد لے کر بیٹھے ہیں ، ان کی یہی استدعا ہے کہ خدارا ان کے لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے ، ان پر اگر کوئی جرم ثابت ہو تو سزا دی جائے، لیکن اس طرح برسوں انہیں غائب نہ رکھا جائے۔

ایسی کون سی قوت ہمارے ملک پہ قابض ہے جس کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ اگر ہمارے ملک کی عدلیہ آزاد ہے تو بلوچستان کے یہ لوگ بھی مملکت پاکستان کے شہری ہیں ، انہیں ان عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جزا و سزا کا اختیار عدالتوں کو سونپا جائے۔

عدالتیں منصفانہ فیصلہ کریں، کمیشنز کی ان رپورٹس کا بھی آڈٹ کریں جو عدالت میں جمع کرائی جاتی ہیں۔ دیکھا جائے کہ کیا اعداد و شمار کی جانچ صحیح طریقے سے ہو رہی ہے؟

عدالتی کارروائی سے کچھ لوگ بازیاب تو ہوئے ہیں لیکن لاپتا ہونے کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ انسانیت اور ملک کی نیک نامی اسی میں ہے کہ ملک میں قانون کی پاسداری کی جائے اور پوری دنیا میں پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply