میں نے رشتے سے کیوں انکار کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بیس سال کی عمر ہونے کے باوجود مجھے خود پتا نہیں تھا کہ حقیقت میرا روپ تھی یا بہروپ!
جب میں پہلی بار حیات سے ملی تھی تو بغیر میک اپ کیے سادہ کپڑوں میں ملبوس تھی اور حیات کو پسند آ گئی۔ لیکن کیا میں نے اس کو ایک دھوکا دیا تھا؟

پتا نہیں کیوں لڑکیاں بچتی ہی نہیں تھیں ہمارے گھر میں، کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو جاتیں کم عمری میں ہی۔ میری عمر درازی کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے گئے، دعائیں، منتیں، نیازیں، ان کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اور ان کے ساتھ ساتھ میری ضدیں بڑھتی رہیں اور پوری بھی ہوتی رہیں۔ آخر لاڈلی جو تھی سب کی اور اکلوتی لڑکی پورے ددھیال میں۔ ماموں جان نے کئی مرتبہ کہا بھی کہ اس کو پرائے گھر جانا ہے، کوئی سسرال والے اتنے ناز و نخرے برداشت نہیں کر سکتے لیکن سب نے ان کی سنی ان سنی کر دی۔

پڑوس میں خالہ آپا رہتی تھیں بلکہ اب بھی یہیں ہیں۔ مجھ سے کوئی دس پندرہ سال بڑی، ہر وقت بنی سنوری۔ مجھے ایک گڑیا سمجھ کر پیار کرتیں۔ جیسے ہی موقع ملتا میں خالہ آپا کے پاس پہنچ جاتی اور خالہ آپا کی لپ اسٹک، طرح طرح کی کریمیں، ناخن کی پالش، ان کے زیورات اور نہ جانے کیا کیا استعمال کر کے اپنے آپ کو سجاتی۔ خالہ آپا کو دیکھ کر میرا بننے سنورنے کا شوق ایک جنون کی حد تک بڑھتا چلا گیا۔

پندرہ سال کی عمر میں میں نے بیوٹی پارلر جانا شروع کر دیا۔ نت نئے بالوں کے اسٹائل بنواتی، ناخنوں کے عجیب و غریب رنگ، میرا درزی مسلسل میرے لئے کپڑے سیتا رہتا۔ کئی میک اپ کی برانڈز میرے استعمال میں تھیں۔ ہر علاقے کے زیورات کا میں نے ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔ میں ہر وقت اتنی بنی سنوری ہوئی رہتی تھی کہ بعض لوگوں کا یہ گمان تھا کہ میں ماڈلنگ کرتی ہوں۔ آہستہ آہستہ مجھے اپنا اصلی روپ بھولنا شروع ہو گیا، اپنی جلد اور بالوں کی رنگت، اپنا قدرتی ناک نقشہ سب کچھ بھول گیا بلکہ شاید میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ میں اسی بہروپ کو ہی سچ سمجھنے لگی تھی۔

وقت کی کتاب صفحے پلٹتی رہی۔ ایک دن امی نے مجھے اپنے پاس بٹھا کر کہا۔ ’حیات ایک بہت ہی کامیاب لڑکا ہے لیکن وہ بہت سادہ ہے۔ تمہیں اس سے بہتر رشتہ نہیں مل سکتا ، اس لئے تمہیں بہت سادگی کے ساتھ اس سے ملنے جانا ہے۔ کوئی میک اپ وغیرہ نہیں کرنا ہے، بالکل سادہ لباس پہننا ہے۔‘ امی کا لہجہ معمول کے خلاف بہت سخت تھا۔

’امی، یہ کیسے ممکن ہے۔ میں تو کبھی اس طرح باہر نہیں گئی جیسے سو کر اٹھتے ہی باہر نکل جاؤں۔‘

’لڑکی، تم لاڈ پیار میں بہت بگڑ چکی ہو۔ اس سے ملنے کے لئے تمہیں ایسے ہی جانا پڑے گا۔ میں یہ رشتہ کسی بھی صورت میں کھونا نہیں چاہتی۔‘ انہوں نے حکم جاری کیا۔

میں بھی حیات سے ملنا چاہتی تھی، بہت تعریفیں سن رکھی تھیں میں نے اس کی۔ لیکن کیا میں اس سے اپنی اصلی حالت میں نہیں مل سکتی؟ یہ تو بہروپ ہے کہ میں ہیئر اسٹائل نہ بناؤں، لپ اسٹک نہ لگاؤں، اپنے گالوں کو بلش سے محروم کر دوں، آئی شیڈو اور مسکارے سے آنکھیں نہیں سنواروں، اپنے ناخنوں کو خوبصورت نہ بناؤں، دلکش کپڑے نہ پہنوں، ہائی ہیل والی سینڈل سے اپنے قد کو اور اجاگر نہیں کروں۔ یہ بہروپ نہیں تھا یہی میرا روپ تھا، کیا سچ تھا کیا جھوٹ مجھے کیسے پتا، میں تو جیسے اپنے آپ کو رکھتی تھی وہی میرا سچ تھا۔

انہی سوچوں کے ساتھ میں نے دو دن گزار دیے۔ ملاقات والے دن میں نے بالکل سادہ کپڑے پہنے جو میں کبھی کبھار گھر میں پہن لیتی تھی، بالوں کو آئینے کے ایک کونے سے دیکھ کر سنوارا۔ مجھ میں اتنی سکت نہیں تھی کہ آیئنے کے اندر کی لڑکی کا سامنا کر سکوں۔ اور میں سمٹتے سمٹاتے، اپنی حالت کو چھپاتے حیات سے ملنے کے لئے ریسٹورنٹ پہنچ گئی۔ جب میں اس سے ملی تو اس کو ایسا ہی پایا جیسا کہ اس بارے میں سن رکھا تھا، انتہائی سادہ اور تمیز دار۔ شکل و صورت تو اس کی عام سی تھی لیکن اس کے چہرے پر ایک جادوانی تأثر تھا۔ میں اس کی نرم اور مہذب شخصیت سے بہت متأثر ہوئی۔ اس نے ایک دفعہ بھی مجھ سے نہیں پوچھا کہ میں اتنی گھبرائی ہوئی کیوں تھی۔ میں بہانہ بنا کر جلدی اٹھ آئی اور پھر محلے والوں کی نظروں سے بچتے بچاتے گھر واپس آ گئی۔

اگلے روز امی خوشی خوشی میرے کمرے میں آئیں۔ ’ابھی ابھی حیات کی بڑی بہن کا فون آیا ہے، حیات نے تمہیں پسند کر لیا ہے۔ ارے کتنی خوش قسمت ہے میری بیٹی! خدا نے میری دعاؤں کو سن لیا، بس اب اگلے ہفتے جا کر بات پکی کر لوں گی۔‘

میں خاموش رہی۔ مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آیا اس نے میرے سچ کو پسند کیا یا میرے جھوٹ کو! میں تذبذب کا شکار ہو گئی۔
’بیٹی تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو کیوں؟ یہ تو خوشی کا موقعہ ہے۔‘
’امی جی، امی جی‘ پھر میں نے آنسو پہنچتے ہوئے بہت آہستہ سے کہا۔ ’مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے، آپ منع کر دیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply