فرانس میں مسلمانوں کی نگرانی سخت کرنے کا قانون، اثرات کیا ہوں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فرانس کی قومی اسمبلی نے مسلم شدت پسندوں کے حالیہ حملوں کے بعد اسلام سے نمٹنے کے حوالے سے ایک بل کی منظوری منگل کو دے دی ہے . فرانسیسی قومی اسمبلی کے 347 ارکان نے اس قانون کے حق میں اور 151 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا جب کہ 65 اراکین ایوان سے غیر حاضر رہے۔ اب یہ متن ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں میکرون کی پارٹی اکثریت نہیں رکھتی ہے۔

فرانس کی جانب سے مختلف قوانین ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں تاہم گزشتہ برس توہین آمیز خاکوں کی اسکول میں تشہیر کرنے والے استاد کے قتل کے بعد سے فرانس میں اسلام کی مخالفت کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے اور یہ قانون سازی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

سیموئل پیٹی کو ایک حملہ آور نے اپنے شاگردوں کو پیغمبر اسلام کے کارٹون دکھانے پر قتل کر دیا تھا۔ مسودہ قانون کافی عرصے سے زیر غور تھا لیکن شدت پسندوں کی جانب سے حالیہ حملے اسے منظور کروانے کا سبب بنے ہیں۔ مسودہ قانون صدر ایمینوئل میکخواں کی طویل مدتی مہم کا حصہ ہے جس میں فرانس کی سکیولر اقدار کو برقرار رکھنے، گھر پر تعلیم اور نفرت انگیز تقاریر سے متعلق اصولوں کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ میکرون کے پیش کردہ ’چارٹر‘ میں مذہب اسلام کے مبینہ ’سیاسی پہلو‘ کو کلی طور پر مسترد کرنا شامل ہے۔

مسلمان مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہوں گے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ مساجد کو قوم پرستی اور دوسرے ممالک کی حکومتوں کی حمایت کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ مسلمانوں کو ملک کے سیکولر تشخص کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہونا ہو گا۔ خاص طور پر ایسی مسلم تنظیموں اور مساجد کی نگرانی کو ضروری قرار دیا گیا ہے، جو انتہا پسندانہ عقیدے کو فروغ دینے میں مصروف ہیں اور ان تعلیمات سے خاص طور پر نوجوان جہادی مسلمان بننے کی راہ کو اپنا رہے ہیں۔

حکومت نے تجویز کیا ہے کہ مساجد کے آئمہ کی تربیت کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ مساجد میں اماموں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی امام کونسل کی تشکیل کی جائے گی، فرانس میں مساجد کے اماموں کی ایک کونسل بنائی جائے گی جو مساجد میں اماموں کے لئے باقاعدہ اجازت نامہ جاری کرے گی۔ اگر کسی امام کے متعلق پتہ چلا کہ وہ فرانسیسی اقدار کے خلاف بات کرتا ہے تو اسے معزول کیا جا سکے گا۔ اس سے حکومت یہ امید کر رہی ہے کہ اگلے سال تک بیرون ممالک سے تعلق رکھنے والے امام جن کی تعداد 300 تک ہے ، ان کو واپس ان کے ملک بھیج دیا جائے گا۔

اس قانون سے مذہبی تنظیموں اور عبادت گاہوں کو بند کرنے کے حکومتی اختیارات کو نمایاں طور پر بڑھایا جائے گا۔ ترکی، قطر یا سعودی عرب جیسے ممالک سے دینی مالی اعانت کے خاتمے کے لئے، اس قانون کے تحت انجمنوں کو 10ہزار یورو سے زیادہ کے عطیات کو ڈکلیئر کرنے کی ضرورت ہو گی اور ان کے کھاتوں کی جانچ پڑتال ہو گی۔ مسلم تنظیموں کے لیے مالی شفافیت کے نئے اصول وضع کیے جائیں گے اور مالی اعانت کے بدلے میں انہیں فرانس کی جمہوری اقدار پر عمل کے لیے دستخط کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کو مذہبی مقامات کو عارضی طور پر بند کرنے کا اختیار بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد کسی شخص یا قوم کے خلاف ان کی نسل، مذہبی عقائد، جنسی رجحان اور صنف کی بنیاد پر پائے جانے والے تعصب، نفرت، تشدد کو روکنا ہے۔ کسی بھی شخص یا ادارے کو (جس میں نجی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو ریاستی خدمات فراہم کر رہی ہیں) ’سیکولر ازم کے اصولوں کا احترام اور عوامی خدمات کی غیر جانبداری کو یقینی‘ بنانا ہو گا۔ جس کا مطلب ہے کہ پبلک سوئمنگ پولز میں اب مذہبی بنیادوں پر خواتین اور مردوں کے لیے الگ وقت مقرر کرنے پر پابندی ہو گی۔ پبلک سروس کو ان خدمات کی خلاف ورزی پر مجبور کرنے کی کسی بھی کوشش پر پانچ سال کی سزا اور 75 ہزار یورو کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ نئے آنے والے قانون کے تحت کسی سرکاری ملازم کو مذہبی بنیاد پر ڈرانے دھمکانے والوں کو سخت سزا ہو گی۔ اسی طرح کسی سرکاری ملازم کی معلومات شیئر کرنا اور لوگوں کو اس کے خلاف اکسانا بھی جرم ہو گا۔

اس قانون میں ’خفیہ طور پر چلائے جانے والے‘ سکولوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو اسلام پسند نظریات کو فروغ دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ گھروں پر سکولنگ کی کڑی نگرانی شامل کی گئی ہے۔ فرانسیسی حکومت کا کہنا کہ ان کے ملک میں لوگ موجود ہیں جو شادی سے پہلے لڑکی کے کنوارے پن کا ٹیسٹ کرواتے ہیں ، یہ غیر قانونی ہے۔ لڑکیوں کے کنوارے پن کے ٹیسٹ کروانے پر ڈاکٹروں کو جرمانہ، جیل یا ان پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح زبردستی کی شادی روکنے کے لئے حکومتی اداروں کو اختیار ہو گا کہ وہ لڑکے اور لڑکی کا علیحدہ علیحدہ انٹرویو کریں جس سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کہیں ان کی شادی والدین کی جانب سے زبردستی تو نہیں کروائی جا رہی۔

فرانس کے قانون کے تحت ایک سے زیادہ شادیاں تو ویسے ہی منع ہیں لیکن اس نئے قانون کے تحت ایسے امیگرنٹس کو فرانس میں رہائشی اجازت نامہ نہیں مل سکے گا جو ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں۔ فرانس میں اور بیرون ملک کچھ ناقدین نے ان کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے اس قانون کا استعمال کر رہی ہے۔ لیکن وزیر اعظم جین کاسٹیکس نے اسے ’تحفظ کا قانون‘ قرار دیا ہے جو مسلمانوں کو بنیاد پرستوں کی گرفت سے آزاد کرے گا۔

انھوں نے زور دیا کہ یہ قانون ’مذاہب کے خلاف یا خاص طور پر اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ فرانسیسی وزیراعظم جین کاسٹیکس نے بدھ کے روز اخبار لی مونڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند اسلام، جمہوریہ فرانس کا دشمن نظریہ ہے جس کا مقصد فرانسیسیوں کو تقسیم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بجائے اس کا مقصد مسلمانوں کو بنیاد پرستی کے چنگل سے آزاد کروانا ہے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ اس بل سے مسلمانوں کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے بلکہ اعتدال پسند مسلمانوں کے تحفظ کے لیے یہ قانون لایا گیا ہے۔

صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کا موقف ہے کہ فرانسیسی اقدار جیسے صنفی مساوات اور سیکولرازم کے تحفظ کے لئے، اور بنیاد پرست نظریات کو جڑ سے اکھاڑنے اور تشدد سے متأثر کرنے سے روکنے کے لئے اس بل کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل قدامت پسند اور دائیں بازو کے ووٹروں کو جیتنے کے لیے میکرون کی سیاسی چال کے طور پر بیان کیا۔ فرانس میں ہی بائیں بازو کے کچھ سیاست دانوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ قانون سازی، مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ اس قانون سازی سے مسلمان مزید امتیازی سلوک کا نشانہ بنیں گے۔ کئی مسلم اکثریتی ممالک نے صدر میکرون اور ان کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ترکی، جس کے ساتھ فرانس کے پہلے سے کشیدہ تعلقات ہیں، حالیہ صورتحال اس کشیدگی میں اضافے کا سبب بنی ہے اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس قانون سازی کو‘ کھلی اشتعال انگیزی ’قرار دیا تھا۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور لبنان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں بھی فرانس اور صدر میکرون کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی مندوب سیم براؤن بیک نے بھی اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے :‘ صورتحال اور بھی خراب ہو سکتی ہے۔ فرانس میں مقیم مسلمان اس قانون کے حوالے سے دو واضح گروپوں میں تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا گروپ یہ سمجھتا ہے کہ یہ امتیازی قانون ہے اور قانون فرانس کے جمہوری روح کے بھی خلاف ہے۔ فرانس کا قومی مقولہ ’آزادی، برابری اور اخوت‘ ہے۔ لیکن اس قانون میں صرف ایک مذہب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

کسی فرد کے ذاتی جرم یا گناہ کو پورے مذہب کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے۔ مسلمان پہلے سے ہی فرانس میں معاشی طور پر بہت پیچھے ہیں اور اس قانون کے بعد مسلم کمیونٹی اپنے آپ کو اس ملک میں مزید غیر محفوظ سمجھے گی۔ اس قانون سے مذہبی آزادی کو محدود اور جان بوجھ کر ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ بنیاد پرستی کا باعث بنے گا۔‘

جبکہ دوسرا گروپ یہ سمجھتا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے فرانس بھر میں جو دہشت گردی کے واقعات ہوئے اس کے بعد فرانسیسی حکومت کے پاس سخت اقدامات کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا اور اس مسودے میں بہت سے ایسے نکات ہیں جو اعتدال پسند مسلمانوں کے لیے بہتر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون اسلام کے خلاف نہیں بلکہ انتہا پسندی کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ فرانس میں 60 لاکھ کے قریب مسلمان آباد ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ماضی میں فرانسیسی نوآبادیات رہنے والے افریقی ممالک، الجیریا اور ماروک سے ہے۔ چھ کروڑ سے زیادہ کی آبادی والے ملک میں اس اعتبار سے مسلمان ملک کی دوسری سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply