لال حویلی کے لعل کی گل افشانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لگتا ہے کہ قدرت ہم سے کچھ زیادہ ہی ناراض ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو موجودہ وزیراعظم اور نا اہل ٹولے کو ہم پر مسلط نہ کرتی۔ ایک تو ان کی بچگانہ پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور اوپر سے ہمہ وقت اپنی شعلہ نوائی اور ہرزہ سرائی سے ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں مصروف ہیں۔

کسی کو اس ہائبرڈ حکومت کی غیر سنجیدہ روش دیکھنا ہو تو ایک نظر اس کے ترجمانوں اور ان کی ”شیریں بیانی“ پر ڈال لے۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والی فردوس عاشق اعوان کی فتویٰ بازی، الزام تراشی اور بہتان طرازی ہو، شہزاد اکبر کی بد زبانی اور بے مغز سمع خراشی ہو، سب و شتم کے نئے نئے گل کھلانے والے شہباز گل ہوں، فوجی بوٹوں سے بے لوث محبت کے مارے فیصل واؤڈا کی آتش مزاجی اور تند بیانی ہو، فیاض الحسن چوہان کی تلخ نوائی اور لغو بیانی ہو، مراد سعید کی کذب بیانی اور جولانیٔ طبع ہو، زرتاج گل کی غیر منطقی اور استدلال سے خالی لا ابالی باتیں اور رویہ ہو یا تازہ تازہ وزارت داخلہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر ہواؤں میں اڑنے والے شیخ رشید کی شیخیاں و شوخیاں اور زبان و بیان کی شر انگیزیاں ہوں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب نے دھونس، دھمکی، ڈھٹائی، بد زبانی، الزام تراشی اور اتہام بازی میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لے رکھی ہیں۔

ہمارے شیخ رشید صاحب نے ماشاءاللہ پندرہ وزارتوں کی بہار دیکھی ہے۔ ریلوے کا سوا ستیاناس کرنے کے بعد جب قبضہ گروپ نے انہیں وزارت داخلہ دی تو خوشی سے ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے تھے۔ غالباً پہلی ہی پریس کانفرنس میں اعلان کر دیا کہ نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں ہو گی اس لیے کہ وہ عدالت سے مفرور اور اشتہاری ہیں۔ کسی دل جلے صحافی نے فوراً سوال داغ دیا کہ جنرل پرویز مشرف بھی تو مفرور اشتہاری ہیں، ان کا پاسپورٹ بھی ختم کیا جائے گا؟ شیخ صاحب اس غیر متوقع سوال پر جھنجھلائے اور سٹپٹائے، پھر گھبراہٹ کے عالم میں یہ معنی خیز جملہ کہا کہ میں وہی کام کروں گا جس کا مجھے ”مینڈیٹ“ ملا ہے۔

شیخ صاحب کی دروغ گوئی، ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی شروع ہی سے مشہور ہے۔ کس کو یاد نہیں کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں سب کے سامنے دختر پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو پر پیلی ٹیکسی کی پھبتی کسی تھی اور انہیں جوتے مار کر اسمبلی سے نکالنے کی بات کی تھی۔ نصرت بھٹو کو **** عورت کہا تھا۔ اپنے پشتی بانوں کی شہ پر بلاول بھٹو زرداری کو بلو رانی جیسے لقب سے یاد کیا تھا۔ ویسے تو ان کی زبان کبھی بھی قابو میں نہیں رہی مگر وزیر داخلہ بنائے جانے کے بعد اور بھی کھل کھیلنے لگے ہیں۔ اب تو اپنے سرپرستوں کے اشارے پر گالیوں کے ساتھ منہ بھی چڑانے لگے ہیں۔ بدن بولی بھی گولی کی طرح ہو گئی ہے اور پی ڈی ایم کو للکارتے ہوئے آنکھوں سے شعلے، منہ سے جھاگ، لفظوں سے آگ اور لہجے سے انتقام نکل رہا ہوتا ہے۔ غالبؔ نے ایسی ہی صورت حال کے بارے میں کہا تھا کہ

لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دھن بگڑا

ابھی چند روز قبل انہوں نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر آنسو گیس کے بے دریغ گولے برسائے۔ بے شمار مظاہرین زخمی ہوئے۔ کچھ بے ہوش بھی ہو گئے۔ اس روز اسلام آباد میدان جنگ بنا رہا۔ بعد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے سرکاری ملازمین کا ٹھٹھہ اڑاتے اور ان کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے بڑی رعونت اور تکبر سے فرمایا کہ آنسو گیس کے شیل بیکار پڑے ہوئے تھے۔ ہم نے سرکاری ملازمین کو نشانہ بنا کر ان کی بھرپور آزمائش کی۔

ان کے اس رعونت بھرے جملے پر سوشل میڈیا پر بڑی تنقید ہوئی۔ لال حویلی جیسی نرم و گداز جذبوں کی تاریخ کی حامل عمارت کے مکین سے اس سفاکی، زہرناکی اور بے حسی کی توقع کم لوگوں کو تھی۔ دھن راج سہگل کی محبت میں سب کچھ تج دینے والی لال حویلی کی مالکن اور پوتر جذبات رکھنے والے بدھو بائی کی روح بھی شیخ صاحب کا یہ جملہ سن کر ایک بار کانپ اٹھی ہو گی۔ برسبیل تذکرہ سرکاری ملازمین وہ سہانا وقت یاد کر کے ضرور پچھتائے ہوں گے جب وہ دفتروں میں بیٹھ کر ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگایا کرتے تھے۔

سب جانتے ہیں کہ موصوف نے یہ بیان ”کن“ کی طرف سے پی ڈی ایم والوں کو پہنچایا ہے۔ ہائبرڈ حکومت آنے کے بعد عوام یوں بھی جیتے جی مر گئے تھے۔ رہی سہی کسر کورونا نے نکال دی۔ اب آئے دن ان پر مہنگائی، بے روزگاری، پٹرول، بجلی اور گیس بم گرائے جا رہے ہیں۔ کچھ سخت جان قسم کے پاکستانی اب بھی زندہ درگور ہونے سے بچے ہوئے ہیں۔ شیخ صاحب اپنے سرپرستوں کے حکم سے ان پر ایٹم بم بھی چلا کر ٹیسٹ کر لیں۔ وہ بھی کئی سالوں سے پڑا پڑا بیکار نہ ہو گیا ہو۔ لال حویلی کا لعل پہلے صرف لعل تھا، اپنے سرپرستوں کا منظور نظر بننے کے بعد لعلوں کا لعل ہو گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply