تمہیں مجھ سے محبت ہے!(دوسرا حصہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلی تحریر میں ہم نے محبت اور اس کی خوشبو کو اپنے رشتوں میں قائم رکھنے کی بات کی اور کچھ آسان سے نکات کا ذکر کیا جن کی مدد سے چاہت کے سوکھتے گلابوں کو تروتازہ رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

اب آئیے مسئلوں کے سلجھاؤ کی جانب۔ مسئلے ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن فریقین کے مزاج اور فہم کی بنیاد پہ ان سے نمٹنے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے عموماً مختلف لوگ مختلف طریقے اپناتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ آیا یہ صحیح بھی ہیں یا نہیں۔

یہاں ہم کچھ طریقوں کا ذکر کریں گے۔

شارک اسٹائل

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ انداز شارک کی طرح جارحانہ ہوتا ہے اس میں طاقت ور فریق کمزور پہ حاوی رہتا ہے اور میرے خیال سے کسی بھی اختلاف کو حل کرنے کا بدترین طریقہ ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ سب سے زیادہ رائج ہے۔

اس میں مخالف غصے میں آ کر فوری ردعمل کا اظہار کرتا ہے اور اپنی بات منوانے کے لیے طاقت کے تحت زور دیتا ہے ”مائی وے یا ہائی وے“ یعنی یا تو میری مانو یا اپنی راہ لو۔ نتیجتاً اختلاف وقتی طور پہ تو ختم ہو جاتا ہے لیکن اندر کہیں زخم چھوڑ دیتا ہے۔

ٹرٹل اسٹائل

ٹرٹل یعنی کچھوا کا انداز اپنانا یا چھپ جانا  ایسا ہے کہ مسئلے کے بارے میں بات ہی نہ کی جائے، اس کو مستقل نظرانداز کر کے ایسا ظاہر کیا جائے کہ مسئلہ ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ ایک بہت عام انداز ہے۔ جب لوگ بات کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے یا اپنے آپ کو قصوروار محسوس کرتے ہیں تو مسئلے سے آنکھیں چرانا انہیں آسان لگتا ہے لہٰذا اختلاف وہیں موجود رہتا ہے اور روٹین کے معاملات ہونے کے باوجود کدورتیں اندر پنپتی رہتی ہیں۔

ٹیڈی بیر اسٹائل

اس میں ایک فریق امن برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن سمجھوتہ کرنے کو تیار رہتا ہے۔ اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود بھی خود کو قصوروار ٹھہرا کے امن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے لیکن کیونکہ اس کی اپنی ذات اس سارے معاملے میں پستی چلی جاتی ہے تو وہ اندر سے ہمیشہ جذباتی طور پہ جنگ کا شکار رہتا ہے۔

فاکس اسٹائل

فاکس اسٹائل یا لومڑی کا انداز اپنانا ایک ففٹی ففٹی صورت حال ہے یعنی اس میں ایک فریق تنازعے کے حل کے لیے وقتی سمجھوتہ تو کر لیتا ہے لیکن اندر سے اسے صحیح نہیں سمجھتا اور تمام تر نارمل روٹین کے ساتھ اس کی رائے اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور مسئلہ مکمل طور پہ ختم نہیں ہوتا۔

آول اسٹائل

تنازعے کے حل کے سلسلے میں الو کا طریقہ کار بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے تحت مسئلہ کا حل باہم اشتراک سے ممکن ہے۔ اس میں مقابلہ یا کسی ایک کی ہار یا جیت نہیں ہوتی بلکہ فریقین کی رائے کو مقدم جان کے اختلاف ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک فریقین برابر نہ تصور کر لیے جائیں اور کھل کے بات چیت نہ کی جائے۔

اگر حقیقت پسندی سے دیکھیں تو یہ سب طریقے صورتحال کے مطابق تنازعے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اختتام الو یا اشتراک کے طریقہ کار پر ہو یعنی اگر وقتی طور پہ امن کے لیے سمجھوتہ، خاموشی، یا دباؤ کو قبول کر بھی لیا جائے تو اس کا اختتام آخر میں بات چیت اور اپنی رائے کے اظہار پر ہونا چاہیے تاکہ کدورت سے بچا جا سکے اور تعلق خوشگوار رہے۔

گرین زون فلسفہ الو یعنی اشتراک کے طریقے کی حمایت کرتا ہے اور اس کے مطابق تنازعے کے حل کے تین اسٹیپس ہیں

Resolving

یعنی بات چیت کے ذریعے اس کا حل۔ اس میں زبانی بات چیت بھی کی جا سکتی ہے۔ ایک دوسرے کو اپنی کیفیات سے لکھ کے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے اور اگر لکھنے میں کسی بھی قسم کا کوئی خدشہ ہو تو اپنا لکھا پڑھ کے بھی سنایا جا سکتا ہے۔ لکھنے سے آپ کی سوچیں مرکوز رہتی ہیں۔

Dissolving

یعنی اگر بات کہنے اور سننے کا کوئی فائدہ نہیں تو ذہنی امن اور سکون کے لیے دوری اختیار کر لی جائے جو کہ ہمارے معاشرے میں ایک مشکل فیصلہ ہے۔

Mediation

تیسرا حل یہ ہے کہ اگر بات کرنا اور چھوڑنا دونوں ممکن نہیں تو کسی تیسرے شخص کو شامل کیا جائے جو دونوں کی بات غیر جانبداری سے سن کر حل نکال سکے۔ یہ تیسرا شخص کوئی مشترکہ دوست یا رشتہ دار بھی ہو سکتا ہے یا پھر کسی ماہر نفسیات سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

اب آپ بھی سوچیں اور غور کریں کے آپ شارک، لومڑی، کچھوے، بھالو یا الو میں سے تنازعہ کے حل کے لیے کون سا طریقہ اپناتے ہیں اور اس سے آپ کس طرح کے احساسات کا شکار رہتے ہیں اور کس طرح بات چیت کا طریقہ اپنا کے بہتری لائی جا سکتی ہے۔

تحریر کو شیئر کرنا نہ بھولیں، شاید کسی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔
خوش رہیں
خیال رکھیں!
پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply