بالزاک کا ناول اور رؤف کلاسرا کا ترجمہ: تاریک راہوں کے مسافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سال کے آغاز میں ہی یہ عہد کیا کہ ہر مہینے کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھنی ہے۔ اسی سلسلے کا آغاز رؤف کلاسرا صاحب کا ترجمہ کیا ہوا ناول ”تاریک راہوں کے مسافر“ سے کیا۔ یہ ترجمہ دنیائے ادب کے عظیم فرانسیسی ناول نگار ہنری ڈی بالزاک کی لاجواب تخلیق ”یوجین گرینڈ“ کا ہے۔ جو کہ انہوں نے انقلاب فرانس کے پس منظر میں لکھا ہے۔

میں بغیر کسی تردد کے یہ کہہ سکتا ہوں کہ بلاشبہ یہ ایک شاہکار ہے اور کلاسرا صاحب نے اس کا کمال ماہرانہ ترجمہ کیا ہے۔ اگرچہ پڑھنے کی میری رفتار اتنی اچھی نہیں مگر یہ ناول اتنا پرتجسس تھا کہ اس کو پانچ سے چھ نشستوں میں ہی ختم کر ڈالا۔

رؤف کلاسرا صاحب کی صحافتی میدان میں آراء اور تبصروں سے آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان کی ادبی خدمات سے شاید انکار حق نہیں ہو گا۔

وہ لیہ کی ایک بستی جیسل کلاسرا سے اٹھ کر آج قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ وہ اور عامر ہاشم خاکوانی صاحب دونوں کتابوں کے عاشق ہیں اور ان کے کالموں میں اکثر اوقات آپ کو کتابوں کا حوالہ ملے گا۔ خاکوانی صاحب کی کتاب ”زنگارنامہ“ تو کیا ہی بہترین کتاب ہے جو کہ مسلسل میرے مطالعہ میں ہے اور میں نے زنگارنامہ کو ”کتابوں کی لغت“ کا عنوان دیا ہے کیونکہ خاکوانی صاحب نے اس میں بے شمار کتابوں کا حوالہ دیا ہے اور کتابوں پر وہ مسلسل لکھتے بھی رہتے ہیں۔ زنگارنامہ کی تکمیل پر بھی اپنا تبصرہ ضرور پیش کرنا چاہوں گا۔ اس کے علاوہ کلاسرا صاحب کی ہی ایک اور کتاب ”گمنام گاؤں کا آخری مزار“ بھی زیر مطالعہ ہے جس میں انہوں نے عام لوگوں کی سچی کہانیاں لکھی ہیں۔

جہاں تک اس ناول کی بات ہے تو اس میں ساری کہانی مرکزی کردار لڑکی یوجین کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ایک ایسی لڑکی کی عشق کی داستان ہے جس نے ایک ایسی تاریک راہ کا انتخاب کیا، جس کا سفر کافی مشکل، صبر آزما اور دھندلا تھا۔ ایک ایسی خوبصورت اور پر خلوص لڑکی جس نے مادیت پرستی کے بجائے عشق جیسے انسانی زندگی کے بنیادی حقیقی جذبے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے دنیاوی مال و متاع کی بجائے ایک ایسے اندھیرے راستے کا انتخاب کیا جس سے واپسی کی راہ اکثر ممکن نہیں ہوتی۔

وہ ایک انتہائی امیر مگر کنجوس موسیو گرینڈ کی بیٹی ہوتی ہے۔ ان کے والد کی زندگی کا واحد مقصد سرمایہ کا حصول اور دولت جمع کرنا ہوتا ہے۔ وہ بنیادی حقوق سے ناواقف ایک ایسی شخصیت ہے جن کو اپنے گھر کے افراد کی بھی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ناول پڑھتے ہوئے آپ جب یوجین اور ان کے والد کے کرداروں کے درمیان موازنہ کریں گے تو آپ کو جہاں ترجیحات کا ٹکراؤ نظر آئے گا وہیں آپ کے سامنے اس وقت فرانسیسی معاشرے کا خوفناک چہرہ بھی ابھر کر سامنے آئے گا جس میں دولت ہی واحد ترجیح رہی ہے۔

اور یقیناً جس معاشرے میں سب کچھ دولت ہی کے گرد گھومتا ہو وہاں انسان اور انسانی جذبوں کی کوئی قدر نہیں رہتی۔ یہی کچھ یوجین کے ساتھ ہوا۔ پہلے موسیو گرینڈ نے اس کی حقوق کا استحصال کیا، اس کے بعد جب انہوں نے پیرس سے آئے ہوئے اپنے ایک کنگال اور بے وفا کزن سے دل لگا لیا تھا، تب اس کو محسوس ہوا کہ جذبات آخر کیا ہوتے ہیں اور ایک دن وہ آیا جب اس نے دولت پر مبنی اس بدنما نظام کے سامنے بغاوت کا جھنڈا اٹھایا اور جو اس کے دل نے کہا وہی کیا۔

یہ ناول لکھتے ہوئے بالزاک کے لئے جو بنیادی موٹویشن تھی وہ یہ تھی کہ ”اگر نپولین ایک عام سپاہی سے ترقی کر کے فرانس کا مالک بن سکتا ہے تو پھر ہر شخص کچھ بھی کر کے ترقی کر سکتا ہے“ وہ اس ناول کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہ کر سکا، وہ میں اپنے قلم سے کروں گا ”

میں ناول کی کہانی مزید بیان نہیں کروں گا، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی ایک بار اس ناول کو ضرور پڑھیں اور اس ناول میں بیان کیے گئے منظرنامے کا موازنہ موجودہ پاکستانی اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے کریں کہ جس میں انسان ایک پروڈکٹ بن گیا ہے اور سرمایہ کا حصول ہی واحد مقصد۔ چاہے اس کے لئے انسانیت کی جتنی بھی تذلیل کی جائے۔

انسانی معاشروں کی ترقی وہاں کے باسیوں کو بنیادی حقوق اور ان کی ضروریات کو پوری کرنا ہی ہونا چاہیے نہ کہ سرمایہ کا ایک طرف منتقل ہونا۔ آج آپ دیکھ لیں ہمارے معاشرے میں ایک طرف ایسا طبقہ موجود ہے جس کے پاس سرمایہ اور مراعات کی فراوانی ہے جب کہ دوسری جانب ایک ایسا پسا ہوا طبقہ موجود ہے جو دو وقت کی روٹی کے لئے بھی پریشان ہے۔

اس کے علاوہ آپ کو اس ناول میں چرچ کے نمائندوں کا کردار بھی نظر آئے گا ، جن کا موازنہ آپ ہمارے معاشرے میں موجود مذہبی طبقے کے منفی کرداروں سے بھی کر سکتے ہیں۔ الغرض یہ ناول صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ سماج کے ایک کریہہ پہلو کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے اور یہی بالزاک کا کمال ہے۔ اس لحاظ سے یہ ناول منفرد بھی ہے اور شعور کے نئے پرت کھولنے کا باعث بنتا ہے۔ رؤف کلاسرا صاحب کے ترجمے نے اس ناول کا حظ اور مزا باقی رکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply