چارلس ڈارون:ایک کھلنڈرے لڑکے سے عظیم سائنسدان تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”تمہیں کسی چیز کی پروا نہیں۔ سوائے شکار کرنے، کتوں اور چوہوں کا پیچھا کرنے کے۔ تم اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے رسوائی کا باعث ہی بنو گے۔“

بہت سے باپ اپنے لاابالی بیٹوں کو اس قسم کے طعنوں سے نوازتے ہیں۔ لیکن یہ جملے مشہور سائنسدان چارلس ڈارون کے والد نے انہیں کہے تھے۔ ان کے والد رابرٹ ڈارون کامیاب ڈاکٹر اور کافی جائیداد کے مالک تھے۔ اور ان کے دادا ایرسمس ڈارون ایک دانشور اور مصنف تھے اور علمی حلقوں میں ان کا نام معروف تھا۔

چارلس ڈارون ایسے طالب علم نہیں تھے جنہیں کامیاب طالب علم کہا جا سکے۔ انہیں لاطینی اور یونانی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ الجبرا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ انہیں کسی چیز سے علمی دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ سکول کے کمرے میں بیٹھ کر دنیا کے بارے میں نہیں سیکھنا چاہتے تھے۔

وہ کئی کئی گھنٹے سیر کرتے رہتے۔ مختلف پھولوں اور جانوروں کے نمونے جمع کرتے۔ وہ دیر تک مختلف پرندوں کو دیکھتے رہتے اور ان کے بارے میں مختلف نوٹس لکھتے رہتے۔ لیکن یہ شوق کسی معزز سمجھے جانے والے پیشے کا متبادل نہیں ہو سکتے تھے۔ سوال یہ تھا کہ یہ لڑکا کیسے کمائے گا؟

ہمارے معاشرے میں بزرگ عمومی طور پر ایسے لا ابالی لڑکوں کا یہ علاج تجویز کرتے ہیں کہ اس کی شادی کر دی جائے تاکہ ایک کی بجائے دو لاابالی افراد مزید غیرذمہ دار بچوں کو پیدا کرنے کا فریضہ سر انجام دیں۔ لیکن ان کے والد نے انہیں 1825 میں ایڈنبرا کے میڈیکل سکول بھجوانے کا فیصلہ کیا۔ اسی میڈیکل سکول میں ان کے بڑے بھائی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

اس میڈیکل کالج میں بھی عملی تجربہ سے سکھانے کی بجائے لیکچروں کے ذریعہ تعلیم دینے کا رواج تھا۔ سردی میں صبح آٹھ بجے پروفیسر ڈنکن کا ادویات پر لیکچر سننا ایک ذہنی اذیت تھی۔ علم الأبدان کے پروفیسر کے لیکچر اتنے ہی بور تھے جتنی ان کی شخصیت بور تھی۔ ڈارون کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ مُردوں کے اجسام پر علم الأبدان سکھانے کی بجائے انہیں یہ بور لیکچر سننے پر کیوں مجبور کیا جاتا ہے۔ وہ اپنی رخصت کے دنوں میں بھی پرندوں کے نمونے جمع کرتے رہتے اور اس کا ریکارڈ مرتب کرتے۔

دو سال بعد ان کے والد نے کچھ خود محسوس کیا اور کچھ ان کی بہنوں نے انہیں بتایا کہ یہ ڈاکٹر نہیں بننا چاہتے۔ ایک بار پھر اسی سوال کا سامنا تھا کہ اس لڑکے کا کیا کیا جائے؟ ان کے والد نے یہ تجویز کیا کہ انہیں چرچ آف انگلینڈ کا پادری بنایا جائے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ ان کے پاس کسی معزز یونیورسٹی کی ڈگری ہو۔ اس وقت زیادہ تر پادری آکسفورڈ اور کیمبریج کے تعلیم یافتہ ہوتے تھے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انہیں 1828 میں کیمبریج یونیورسٹی بھجوایا گیا۔

کیمبرج میں بھی ڈارون کو تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی خاص دلچسپی پیدا نہ ہو سکی۔ ریاضی اور الجبرا سیکھنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ لیکن پودوں میں اپنے شوق کی وجہ سے ڈارون نے نباتیات کے مضمون میں بہتر کارکردگی دکھائی اور اس مضمون کے پروفیسر ہینسلو (Henslow) سے دوستی بھی ہو گئی۔ دو تین سال کے بعد والد کی توجہ کی وجہ سے ڈارون بڑی مشکل سے کیمبرج یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اب گھر والوں کو یقین ہو گیا کہ اس لڑکے کی تعلیم کا اذیت بھرا سفر ختم ہو گیا ہے۔

تعلیم کی تکمیل پر وہ سیر پر نکلے اور واپس آئے تو گھر میں ایک خط ان کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ خط ان کے نباتیات کے پروفیسر ہینسلو کا تھا، انہوں نے لکھا تھا کہ چند ماہ میں بیگل نام کا ایک بحری جہاز چند سال کے سفر پر جنوبی امریکہ کی طرف روانہ ہو رہا ہے اور اس جہاز کے کیپٹن فٹز رائے اس بات پر آمادہ ہوئے ہیں کہ ان کے کیبن میں ان کے ساتھ ایک ایسا شخص سفر کر سکتا ہے جو کہ دنیا کے مختلف ممالک سے جانوروں اور پودوں کے نمونے جمع کر کے انگلستان بھجوائے۔ لیکن اس کٹھن سفر اور مشکل کام کی تنخواہ کچھ نہیں ملے گی۔

ان کے والد نے تجویز سنتے ہی اسے ویٹو کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کون بے وقوف بغیر تنخواہ زندگی کے کچھ سال یہ کام کرے گا۔ اس پیشکش کو قبول کرنے کے بعد اس بات کا کوئی امکان نہیں رہے گا کہ چارلس ڈارون بطور پادری اپنے کام کا آغاز کر سکیں اور ڈھنگ کی زندگی گزارنے کے قابل ہوں۔ وہ تو صحیح معنوں میں سائنسدان بھی نہیں ہیں کہ اس سائنسی مہم کو سر انجام دیں۔لیکن ایک رشتہ دار کی مداخلت پر انہیں اس مہم پر جانے کی اجازت مل گئی۔

شروع کے دنوں میں وہ سمندری سفر کی وجہ سے الٹیوں کا عذاب جھیلتے رہے۔ جہاز کا کیپٹن فٹز رائے ایک نہایت مذہبی شخص تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ ڈارون اس سفر میں بائبل میں مذکور ایک عالمی سیلاب کے شواہد ڈھونڈنے کا کام کریں۔ انہیں ارضیات کا زیادہ علم نہیں تھا، انہوں نے دن رات ارضیات کی کتب پڑھ کر اپنے علم کو بڑھانا شروع کیا۔

وہ جس ملک یا دور افتادہ جزیرے تک پہنچتے وہاں پودوں اور جانوروں کے نمونے اور ہزاروں سال قبل کے جانوروں کے حجریات (Fossil) جمع کر کے ان کا ریکارڈ درج کرتے اور ان نمونوں کو انگلستان بھجوا دیتے۔ ہر دن ان کے تجربے اور علم میں اضافہ کر رہا تھا۔ خاص طور پر مختلف انواع کے جانوروں کا فرق اور ان میں پائے جانے والی مماثلت ان کے ذہن میں کئی سوالات کو پیدا کر رہی تھی کہ جانداروں کی بعض اقسام کیوں ختم ہو جاتی ہیں اور بعض قائم کیوں رہتی ہیں؟

ان کے جمع کردہ نمونے انگلستان میں توجہ کا مرکز بن رہے تھے اور ان پر نئی بحثیں شروع ہو رہی تھیں۔ وہ اب تک خود بھی اپنے کام اہمیت سے بے خبر تھے۔ ان کا یہ سفر دسمبر 1831 سے لے کر ستمبر 1836 تک جاری رہا۔

جب ان کا سفر ختم ہو رہا تھا تو انہیں اپنی ایک بہن کا خط ملا۔ اس خط میں بہن نے لکھا کہ کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور سائنس دان پروفیسرسیجوک (Sedgewick) ان کے والد کو ملنے آئے اور ان سے کہا آپ کا بیٹا دنیا کے عظیم سائنسدانوں میں اپنی جگہ بنا لے گا۔ جب کئی سال بعد وہ اپنے گھر پہنچے تو ان کے والد ان کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور اپنی بیٹیوں کی طرف دیکھ کر کہنے لگے اس کے تو سر کا سائز بھی بدل گیا ہے۔

ڈارون نے ایک ولولے سے اپنی جمع کردہ اشیاء پر تحقیق پر کام شروع کر دیا۔ اور تحقیق کا یہ سفر بیس سال سے زائد عرصہ جاری رہا، تب جا کر انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب Origin of Species کو تیرہ ماہ کے عرصہ میں تحریر کیا۔ جب نومبر 1859ء میں یہ کتاب شائع ہوئی اور ان کا نظریہ ارتقاء سامنے آیا کہ کس طرح جانداروں ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے تو سائنس کی دنیا میں ایک زلزلہ آ گیا۔

ایک ایسا زلزلہ جس کے بعد سائنس کی دنیا ہمیشہ کے لئے بدل گئی۔ پہلے ایڈیشن میں 1250 کتب شائع کی گئی تھیں۔ پہلے ہی روز ساری کتب فروخت ہو چکی تھیں۔ دوسرا پھر تیسرا ایڈیشن اور پھر اس کتاب کی طباعت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک نالائق کھلنڈرے لڑکے نے ہمیشہ کے لئے سائنس کی دنیا کو بدل دیا تھا۔ مختار مسعود نے اپنی کتاب ”آواز دوست“ میں لکھا ہے کہ ”وہ مقام جہاں خواہش قلبی اور فرض منصبی کی حدیں مل جائیں، اسے خوش بختی کہتے ہیں۔“

ڈارون نے صحیح وقت پر اس مقام کو دریافت کر لیا تھا۔

[تفصیلات کے لئے ملاحظہ فرمائیں : The Autobiography of Charles Darwin by Charles Darwin]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply