فواد چودھری صاحب! خدارا، ماؤں اور بہنوں کے زخموں پر نمک مت چھڑکیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کی مائیں اور بہنیں بھی کتنی بد نصیب ہیں کہ ان کے پیارے جب لاپتا ہو جاتے ہیں تو ان کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا ان کی موت واقع ہو چکی؟ یعنی وہ ان کے آنے کی امید قائم رکھیں یا ان کو مردہ سمجھ کر صبر شکر کر کے بیٹھ جائیں؟ لیکن خونی رشتے ہوتے ہی ایسے ہیں جو انسان کو امید قائم رکھنے پر ہی مجبور کرتے رہتے ہیں۔ اسی لیے یہ بدنصیب اپنے پیاروں کی محبت میں ان کی بازیابی کے لئے ہمیں کبھی کہیں تو کبھی کہیں دہائی دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ کبھی کراچی، کبھی کوئٹہ اور اب کبھی اسلام آباد کا رخ کرتی ہیں۔ روتی ہیں، بین کرتی ہیں کہ ان کو بس اتنا ہی بتا دیا جائے کہ ان کے پیارے زندہ بھی ہیں یا نہیں اور اگر زندہ ہیں اور انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کو سامنے لا کر ان پر مقدمات چلائے جائیں۔

ان میں سے ایک حسیبہ قمبرانی ہے جس کا بھائی لاپتا ہوئے ایک سال بیت چکا ہے اور زرینہ بلوچ بھی ہے جس کا خاوند شبیر بلوچ پچھلے چار سال سے لاپتا ہے۔ اور ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی بھی ان لاچار لوگوں میں شامل ہے جو اپنے بوڑھے باپ کے لئے ہمیں دہائی دیتی نظر آتی ہے۔ ان کے ساتھ وہ مائیں بھی ہیں جن کے بیٹے لاپتا ہیں اور وہ بھی اپنے پیاروں کے لیے ایسے دربدر دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ مگر ریاست کے حالات یہ ہیں کہ بجائے اس کے ان بدنصیب ماؤں اور بہنوں کے پاس جا کر ان کے دکھ سن کر ان دکھوں کے مداوے کی کوشش کی جائے الٹا ایسے بیانات دیے جا رہے جو کہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔

وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چودھری صاحب سے جب کل پریس کانفرنس میں بلوچ ماؤں اور بہنوں کے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج اور دھرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا جواب کچھ یوں دیا کہ ”مسنگ پرسنز کے معاملات کو حکومت دیکھ رہی ہے مگر یہ بھی پتا کرنا چاہیے کہ لاپتا ہونے والے افراد میں کون ایسے ہیں جو خود ہی لاپتا ہو گئے ہیں۔“ ریاست کے ایک اہم وفاقی وزیر کی جانب سے یہ کس قدر غیر سنجیدہ بیان ہے۔ کیا کوئی سالہا سال سے خود اپنے پیاروں کو چھوڑ کر ایسے لا پتا ہو سکتا ہے؟ مگر فواد چودھری صاحب یہاں ہی نہیں رکے، انہوں نے آج اس حوالے سے ایک ٹویٹ بھی کر دی جو کچھ یوں ہے۔

” یہ مائیں پنجاب میں احتجاج کر سکتی ہیں یہاں کوئی ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر گولی نہیں مارے گا، لیکن پنجاب کی ان ماؤں کے دکھ کا کیا کریں جن کے بچوں کو بسوں سے نکال کر صرف پنجابی ہونے پر بلوچستان میں (گولیوں سے) چھلنی کیا جاتا ہے؟ یہ تو کہیں کہ ظلم، ظلم ہے اور خون کا رنگ پنجابیوں کا بھی لال ہی ہے۔“

فواد چودھری صاحب، پہلی بات تو یہ ہے کہ ریاست کا کوئی بھی شہری اگر مارا جاتا ہے یا اس کو لاپتا کیا جاتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی علاقے سے ہو اور اس کی شناخت کوئی بھی ہو، وہ قابل مذمت ہے۔ اور ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے ان کو کیفرکردار تک پہنچائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ بلوچستان کے مسنگ پرسنز اور وہاں پر مارے جانے والے پنجابیوں کے معاملے کو ایک ساتھ کیسے ملا سکتے ہیں؟ کیا مسنگ پرسنز اور پنجابیوں کے مارے جانے کی تعداد برابر ہے؟ اور تیسرا آپ ان ماؤں اور بہنوں کو اس طرح کا طعنہ کیسے دے سکتے ہیں؟ کیا بلوچستان میں مار دیے جانے والے پنجابیوں کی ذمہ دار یہ نہتی مائیں اور بہنیں ہیں؟

ارے صاحب! آپ ان سے پوچھ کر تو دیکھیں جس قدر مشکل حالات سے یہ گزر رہی ہیں۔ اگر آپ ان سے بلوچستان میں مارے جانے والے پنجابیوں کے حوالے سے بات کریں گے تو یہ ان کے لئے بھی ایسے ہی غم زدہ ہوں گی جیسے اپنے پیاروں کے لئے ہیں۔ اور سب کے خون کا رنگ ہی لال ہے۔ آپ میں اتنی ہمت تو ہے نہیں کہ آپ بلوچستان کے سیکورٹی اداروں پر بات کر سکیں کہ وہاں پر مارے جانے والے پنجابی مزدوروں کے واقعات دراصل ان اداروں کی نااہلی ہے جس پر ان کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ مگر الٹا آپ ان دکھی ماؤں اور بہنوں کو طعنہ دے کر پنجابی کارڈ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ اپنی اس بات پر نادم ہونے کی بجائے آپ بڑے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کی اس بات کو تو بہت پسند کیا گیا ہے اور جو آپ پر تنقید کر رہے ہیں، ان کے کوئی ذاتی عزائم ہیں۔

اللہ نہ کرے کبھی آپ کے گھر کا کوئی فرد لاپتا ہو جائے تو ہم دیکھیں کہ آپ تب بھی ایسی غیر سنجیدہ باتیں کریں گے؟ آپ کو کس نے منع کیا ہے کہ آپ پنجابی مرنے والوں کے لئے بات نہ کریں، آپ ضرور کریں مگر قبلہ، بات کرنے کا کوئی ڈھنگ ہوتا ہے، کوئی موقع محل دیکھا جاتا ہے۔ ذرا تصور تو کریں جب آپ کی یہ باتیں ان دکھی ماؤں اور بہنوں تک پہنچیں گی تو ان کے دل پر کیا گزرے گی؟ کہ ہماری اس ریاست پر یہ کیسے لوگ مسلط ہو گئے ہیں۔ جن کو یہ احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں؟

کبھی اس ریاست کا وزیراعظم لاشیں رکھ کر احتجاج کرنے والے ہزارہ برادری کے لوگوں کو بلیک میلر کہہ دیتا ہے۔ اور کبھی آپ جیسا اہم وفاقی وزیر ان ماؤں اور بہنوں پر یہ احسان جتلانے کی کوشش کرتا ہے کہ ان کو یہاں پر مارا نہیں جائے گا۔ فواد چودھری صاحب! ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ آپ مسنگ پرسنز کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کر سکتے آپ بے بس ہیں کیونکہ ان معاملات کا تعلق ان حلقوں سے ہے جن کے بارے میں بات کرتے ہوئے بڑے بڑوں کے پر جلتے ہیں۔

آپ اگر ان لاچار ماؤں اور بہنوں کے زخموں پر کوئی مرہم نہیں رکھ سکتے تو نہ رکھیں لیکن خدارا ایسی باتیں کر کے ان بیچاروں کے زخموں پر نمک تو مت چھڑکیں۔ یہ بدنصیب تو بس اپنی فریاد کر کے آج نہیں تو کل واپس چلے جائیں گے۔ کیونکہ ان کو ریاست سے انصاف کی کوئی امید نہیں ہے بس اپنے پیاروں سے جدائی کی مجبوری ان کو بار بار ایسے سڑکوں پر لے آتی ہے۔ ورنہ کس کا دل کرتا ہے کہ وہ ایسے کھلے آسمان تلے راتیں گزارے اور پھر آپ جیسے مہان لوگوں کی ایسی باتیں سن کر اپنے دل بھی چھلنی کروائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply