انسانوں کی طرح لڑنے والے پرندے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتحانات کا موسم ہو اور ہر سو اداسی طاری نہ ہو ناممکن ہے۔ بے زار دل کے ساتھ سویرے سویرے اندھیرے اندھیرے درد کیمیا کم کرنے کے جتن کرتے کرتے تھک ہار کے چند ساعتوں کے لیے آنکھیں موند لیں ، ابھی چند سیکنڈز ہی گزرے تھے کہ چیں چیں کی آوازوں نے دماغ کی بتیاں گل کر دیں۔

اف یہ ننھے پنچھی پھر لڑ رہے ہیں۔

باہر جا کر دیکھا تو پنجرے میں بند آسٹریلین طوطے یوں لڑ رہے تھے گویا صدیوں سے دشمن ہوں۔ بہت کوشش کے بعد ان کو چھڑانے میں کامیاب ہوئی تو دیکھا کہ ایک کے سر سے خون کا فوارا ابل رہا تھا۔ مرتی کیا نہ کرتی بجھے دل کے ساتھ مرہم پٹی کرنے لگی ہی تھی کہ ڈور بیل نے متوجہ کر لیا۔ ننھی بسمہ نے اندر آتے ہی چلانا شروع کر دیا۔ یہ پھر لڑے ہیں، یہ کتنا لڑتے ہیں؟ بالکل انسانوں کی طرح لڑتے ہیں۔

اس آخری فقرے نے چند لمحات کے لیے میری سانسیں روک لیں۔ ششدر و پریشان بچی کو تکتی رہی پھر ہمت جمع کر کے سمجھایا کہ نہیں انسان ایسے نہیں لڑتے ہیں۔ بچی بضد تھی کہ انسان اس سے زیادہ برے طریقے سے لڑتے ہیں۔ ثبوت کے لیے اس کے پاس چند خبریں تھیں جو اس نے گزشتہ شب سن کر اپنے دماغ کے نہاں خانوں میں انسانوں کو ظالم اور سفاک تصور کیا تھا۔

اس ایک ذرا سی بات نے جو کہ حقیقت میں ذرا سی نہیں ہے ، مجھے بہت کچھ سوچے پہ مجبور کیا۔

ذہن میں فوراً خیال کوندا کیا ہم اس حد تک اخلاقیات سے پیدل ہیں کہ ہماری نسلیں انسانوں کو حیوانوں سے بدتر سمجھتی ہیں؟ بچپن میں ہماری والدہ ہمیں کہتی تھیں جانوروں کی طرح مت لڑو اور آج کے بچے جانوروں پرندوں کو لڑتا دیکھ کر انسان سے تشبیہہ دے رہے ہیں۔ ہم اخلاقیات کے کس درجے پہ ہیں اور بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ بچے ہم سے کیا سیکھ رہے ہیں؟

موجودہ نسلیں یہ سبق لے رہی ہیں کہ لڑنے جھگڑنے میں انسان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

’’تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں۔‘‘

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک بہترین انسان کی شخصیت کا روشن پہلو اس کا اخلاق ہوتا ہے۔ آج کل اردگرد نظر دوڑائیں تو ہر شخص زخمی ہے ۔ کسی کے دل پہ اپنوں نے نشتر چلائے ہوتے ہیں تو کسی کو راہ چلتے نے لہولہان کیا ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص تنقید کا کلہاڑا اٹھائے دوسرے کی زائد جھاڑیوں کو کاٹنے پہ تلا ہے ، صد افسوس کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکنے سے قاصر ہیں۔ تنقید کرنے کے لیے تو ہماری زبانیں ہمہ وقت زہر میں بجھے تیر نکالنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر تنقید سننے اور برداشت کرنے کا ظرف کہیں کھو گیا ہے۔

بات صرف تنقید پر ہی نہیں رکتی بلکہ ہمارا معاشرہ ہر لحاظ سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔ ہمارے معاشرے سے اخلاقیات رفتہ رفتہ کوچ کرتی جا رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ کون سے عوامل ہیں جو ہمیں انسانیت کی دہلیز سے اترنے پہ اکسا رہے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو اکثر ذہن میں مدار سے نکلے سیارے کی طرح بھٹکتے رہتے ہیں۔ مگر جواب کی منازل طے کرنے سے قاصر ہیں۔

ہم سب لینے کے لیے تیار ہیں پر دینے کا ظرف بہت کم لوگوں کے پاس ہے۔ ہم اخلاقیات کی سیڑھی سے رفتہ رفتہ جہالت کی عمیق دلدل میں اترتے جا رہے ہیں۔ ہم لڑ کر مرنے کے لیے تیار ہیں مگر افسوس صد افسوس معافی مانگ کر سکون سے جینے کے لیے نہیں۔

آج کے دور کا کتا بھی انسان سے پناہ مانگتا ہو گا۔ ہم انسانیت بھولتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ نفسانفسی کے عالم میں ہر درس بھول کے  دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

آئے دن دل لرزا دینے والی خبریں ٹی وی اور اخبارات کی زینت بنی ہوتی ہیں۔ کہیں باپ نے اولاد کے خون سے ہاتھ رنگے تو کہیں اولاد باپ کا خاتمہ کر کے جہنم واصل ہوتی ہے۔ کہیں کسی جوان لڑکی کا ریپ ہو گیا تو کہیں کوئی ننھی کونپل کچل کے اپنی راہ ہو لیا۔

ہم آخر کب تک تبصرے کرتے رہیں گے اور عمل سے خالی رہیں گے؟ معاشرے کو ٹھیک نہیں کر سکتے تو کم ازکم ہم اپنی اصلاح کی کوشش تو کر سکتے ہیں تاکہ ہمیں دیکھ کے کوئی غلط نہ سیکھے۔

اپنی اصلاح کیجیے۔ چراغ بنیے۔ روشن خیالی کی شمع روشن کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply