آدمی کی قسمت کیوں خراب ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اس مسئلے کو چند لمحوں کے لیے سادہ اور عام فہم انداز میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام انسان کچھ امور میں مکمل طور پر بے بس مجبور اور لاچار ہیں۔ مثلاً ہم کہاں پیدا ہوں گے۔ ہمارے ماں باپ کون ہوں گے۔ ہمیں کیسے رشتہ دار نصیب ہوں گے۔ ہمارا جسم ، ہماری آنکھیں ، ناک ، کان کیسے ہوں گے۔ ہم گورے یا کالے ہوں گے۔ ہم کب پیدا ہوں گے ، کب اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور کب کسی حادثے یا بیماری کا شکار ہو جائیں گے۔ اور اس طرح کی بے شمار چیزیں جنہیں کنٹرول کرنا ہماری اوقات سے باہر ہے۔

یہ سب کی سب چیزیں پہلے سے لکھ اور طے کر دی جا چکی ہیں اور ان معاملات میں ہم مکمل طور پر بے بس ہیں۔ یہ ہماری تقدیر کا ایک حصہ ہے جبکہ دوسرے حصہ میں ایسے امور ہیں جن میں ہمیں چیزوں کے نتائج سے آگاہ کر کے انتخاب کا مکمل اختیار دے دیا گیا ۔ ہم چاہیں تو فلاں کام کر لیں اور چاہیں تو رہنے دیں ، یہ ہماری صوابدید پر ہے اور یہی وہ انتخاب ہے جو آگے چل کر ہماری تقدیر یا ہمارا مقدر بن جاتا ہے۔

گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں ایک تقدیر وہ ہے جو پہلے سے لکھی جا چکی ہے اور ایک جس کو ہم خود اپنے انتخاب و اختیار سے لکھتے ہیں مثلاً اگر آپ آگ میں ہاتھ ڈالیں گے تو کیا ہو گا؟  آپ اپنا ہاتھ جلا بیٹھیں گے۔آپ اگر اچھی غذا لیں اور صحت کے اصولوں کے عین مطابق زندگی گزاریں تو نتیجتاً آپ تندرست رہیں گے اور اگر اسی طرح آپ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھا کاروبار یا اچھی نوکری کریں گے تو ظاہر سی بات ہے آپ کو پیسے بھی ملیں گے اور آپ بہت جلد خوشحال اور آزاد بھی ہو جائیں گے لیکن اگر آپ لوگوں کو اونٹوں پر عمرہ کروانے والی ٹریول ایجنسی کھول کر بیٹھ جائیں گے تو آپ بری طرح پٹ جائیں گے۔

تقدیر اور انتخاب (تدبیر) کا یہی وہ اصل مسئلہ ہے جس کو ہم خلط ملط کر دیتے ہیں۔ میں دوبارہ عرض کرتا چلوں ہماری تقدیر ہمارے مقدر کا کچھ حصہ پہلے سے طے شدہ ہے اور بقیہ حصے سے بھی قدرت بخوبی واقف ہے لیکن اس کی تکمیل ہم نے کیسے کرنی ہے ، یہ مکمل طور پر ہمارے انتخاب پر منحصر ہے ۔ آپ خود سوچیں ، اگر سارے معاملات قسمت یا تقدیر نے طے کرنے ہیں تو پھر ہم سے کس چیز کا حساب لیا جائے گا۔ ہمیں خدا کی طرف سے جو صلاحیتیں ودیعت کی گئیں ہیں ، ان کا کیا کام ہے۔  پہاڑوں جیسا جوش و جذبہ استقلال اور محنت کس کھاتے میں جائیں گے۔

دنیا کے تمام انسانوں کا دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے ، ہماری چھت پر جتنی دھوپ پڑتی ہے اتنی ہی دوسروں کی چھت پر بھی ہوتی ہے۔ ہمارے دن اور راتیں بھی برابر ہوتی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہمارے ہمسائے ہم سے آگے نکل جاتے ہیں اور ہم تقدیر کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ ہم قسمت اور مقدر کا رونا روتے رہتے ہیں۔ بات صاف ہے ہمارے انتخاب ہمارے فیصلے غلط ہوتے ہیں اور جب ہمارے کیے گئے فیصلے اپنے ثمرات کے ساتھ ہم پر ظاہر ہوتے ہیں تو ہم اپنی نالائقی کو تسلیم کرنے کے بجائے بہت چالاکی کے ساتھ انہیں تقدیر کے سر تھوپ دیتے ہیں۔

ہم اپنے انتخاب کو بدلنے ، اپنے معیار ، اپنی ترجیح کو درست کرنے کے بجائے ڈھٹائی کے ساتھ اسے مقدر سمجھ کر گلے لگا لیتے ہیں اور ساری عمر یہ سوچ کر گزار دیتے ہیں کہ ہمارے مقدر میں یہی تھا جبکہ خدا نے تو یہ صاف صاف بتا دیا ہے تم جتنی کوشش کرو گے تمہیں اتنا عطا کیا جائے گا۔ جتنا مانگو گے تمہیں اتنا ہی نوازا جائے گا۔ ہم نے جن چیزوں کے نتائج واضح کر دیے ہیں ، ان میں تمہیں انتخاب کا حق دے کر یہ اختیار دے دیا ہے ۔ جاؤ ، اپنی قسمت خود لکھو ۔ ایک ہم ہیں جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ سارا مسئلہ ہی قسمت کا ہے۔

میری تقدیر مجھے کچھ کرنے نہیں دے رہی ، باقی لوگ مقدر کی وجہ سے آگے نکل گئے اور میں پیچھے رہ گیا حالانکہ ہم اپنے انتخاب کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ یاد رکھیں جن چیزوں کو آپ تبدیل نہیں کر سکتے وہ بھی آپ کی قسمت ہے اور وہ چیزیں جنہیں آپ بدل سکتے ہیں وہ بھی آپ کا مقدر ہیں لیکن یہ مقدر آپ اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے کی گئی غلطیاں کبھی قدرت کے کھاتے میں نہ ڈالیں۔ آپ گڑھے میں گرتے ہیں تو یہ آپ کا مقدر ہے لیکن یہ سمجھ کر کہ قدرت اسی میں راضی ہے گڑھے میں ڈیرہ جما لینا عقل مندی نہیں بلکہ سیدھی سادھی حماقت ہے۔

آپ کے پاس پورا پورا اختیار ہے ، آپ خود کو اس گڑھے سے باہر نکال کر اپنا مقدر بدل ڈالیں۔ آپ اگر غریب ہیں ، بے روزگار ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن غربت اور بے روزگاری کو قسمت سمجھ کر اس سے سمجھوتہ کر لینا آپ کی سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ انسان تو وہ ہے جس نے پہاڑوں کا سینہ چیر دیا، جو سمندروں کی تہوں میں اتر گیا۔ جس نے آسمانوں کے راز افشا کر دیے، جس نے چاند اور ستاروں کو مسخر کر ڈالا، جو بڑے سے بڑے طوفانوں سے ٹکرا گیا۔ جس نے اپنی جرأت ، اپنی ہمت ، اپنی بہادری ، اپنے انتخاب اور اپنی صلاحیتوں سے اپنا مقدر بدل ڈالا۔

آپ نے تو بس غربت اور بے روزگاری سے لڑنا ہے اپنی چند چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل کرنی ہے۔ آپ ایک مرتبہ کوشش کر کے تو دیکھیں کامیاب نہیں ہوتے تو پھر کوشش کریں،  اتنی مرتبہ کہ قسمت کی دیوی آپ کے قدموں میں گرنے پر مجبور ہو جائے۔ آپ اپنے خدا اپنے مالک اپنے رازق پر بھروسا کر کے تو دیکھیں۔

میں تقدیر کا منکر نہیں لیکن میرا تقدیر کی طرف جھکاؤ بھی نہیں کہ محنت اور کوشش کرنا ہی بھول جاؤں۔ میں انتخاب اور اختیار کو استعمال کرنا ہی بھول جاؤں۔ یہ تقدیر اور انتخاب کا کھیل ہر انسان کے لیے مختلف ہے۔ لیکن محنت ، لگن ، شوق اور جذبے سے وہ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی آپ خواہش رکھتے ہیں۔ محنت، لگن اور جذبے سے کام کرتے ہوئے اپنے مقصد اور شوق کو پورا کیجیے۔ وطن عزیز پاکستان کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارا ملک خوشحال ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply