کشمیریوں کی لاشوں سے خوفزدہ مودی سرکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیس دسمبر 2020 کو بھارتی افواج نے سرینگر کے مضافات میں 3 کشمیری لڑکوں کو دہشت گرد اور علیحدگی پسند قرار دے کر ایک مبینہ مقابلے میں شہید کر ڈالا۔ بعد میں ان کی شناخت اطہر مشتاق عمر سولہ سال، جو ایک گیارہویں کلاس کا طالب علم تھا، ایک اور کم عمر گریجویشن کا طالبعلم اعجاز گنائی۔ ان دونوں کا تعلق پلوامہ سے تھا اور تیسرا لڑکا زبیر لون جو شوپیاں میں بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ ان نوجوانوں کے گھر والوں اور رشتے داروں نے ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہوئے شہداء کی میتیں مانگنا شروع کر دیں۔ اس سلسلے میں کئی پرامن احتجاج بھی ہوئے اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی شہداء کے مبارک جسم ورثا کو لوٹانے کی اپیلیں کیں۔

ہندوستان کی مودی سرکار نے کچھ عرصہ سے کورونا وائرس کی آڑ میں شہداء کی میتیں لوٹانے کا سلسلہ بند کر دیا ہے اور سرکاری سرپرستی میں علیحدگی پسندوں کی قبریں دورافتادہ اور گمنام قبرستانوں میں بنا دی جاتی ہیں۔ اسی روایت کے مطابق ان نوجوانوں کی قبریں بھی ان کے ضلع پلوامہ سے 120 کلومیٹر دور بنا دی گئیں، جو بچے کے رشتے داروں اور خاص طور والد مشتاق وانی کو بالکل برداشت نہ ہوا اور انہوں نے ”میتیں لوٹاؤ“ کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کر دیا۔

ستم بالائے ستم یہ کہ ہندوستان کی حکومت کے ایماء پر ریاستی پولیس نے متنازعہ UAPA بل کے تحت غمزدہ باپ سمیت 7 لوگوں پر غیر قانونی اقدامات، لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوششوں اور حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کے الزامات میں مقدمہ قائم کر دیا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں اس طرح کے ظلم و ستم اور آخری آرام گاہوں تک سے انتقام لینے کی مثالیں ملنا مشکل ہیں۔

یو اے پی اے ترمیم بل 2019 کے آئینی جواز کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔ اس متنازعہ قانون کے تحت ہندوستان کو کسی بھی شخص کو دہشت گرد قرار دینے کا حق مل گیا ہے۔ حکومت کو اس طرح کا غیرمنطقی، ظالمانہ اور بے انتہا حق ملنا ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بل لوگوں کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔ اس ظالمانہ قانوں کے تحت 2016 سے 2019 تک 5922 افراد پر مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں۔

دوسری طرف مشتاق وانی نے اپنے گھر کے قریب اپنے لخت جگر کی آخری آرام گاہ اپنے ہاتھوں سے کھول رکھی ہے۔ یہ قبر کشمیر میں اپنے شہدا کے مبارک جسم کے لیے ترسنے والی پہلی یا آخری قبر نہیں ہے۔ اس مالا کی لڑی کا ایک اور دانہ ہے۔ یہ خالی قبر ہمیں آج سے کم و بیش 3 دہائیاں قبل سری نگر کی مرکزی عید گاہ کے کنارے پر آباد بہشت شہداء قبرستان کے لئے بنائی جانے والی پہلی قبر کی یاد دلاتی ہے جو آج بھی اپنے شہید کے جسم کا انتظار کر رہی ہے۔

تہاڑ جیل میں ہندوستان کے ظلم و خبر کی بھینٹ چڑھ جانے والے شہید کشمیر مقبول بٹ کی خالی قبر، جنہیں رات کی تاریکی میں ہی تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا تھا اور جیل کے اندر ہی ان کی تدفین کر دی گئی تھی۔ باوجود اس کے کہ ان کی میت نہیں لوٹائی گئی، آج بھی لوگ ان کی خالی قبر پر عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔

2013 کی ایک سرد شام کو دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی کے گھاٹ چڑھائے جانے والے ایک اور کشمیر کے سپوت افضل گرو کی خالی قبر بنائی گئی۔ مقبول بٹ کی طرح اس قبر کے کتبے پر یہ تحریر نمایاں ہو کر ضمیر عالم کو جھنجھوڑتی ہے کہ ”شہید کا جسم ہندوستان کی حکومت پر قرض ہے۔“ بہشت شہداء میں اب تک 1500 شہداء کی تدفین عمل میں آ چکی ہے۔ ابتدا میں قبرستان شہداء کو پوری ریاست کے شہداء کے لئے مرکزی قبرستان کے طور پر مختص کیا گیا تھا۔ مگر بعد ازاں اس نوعیت کے قبرستان کئی اور اضلاع میں مختص کر دیے گئے۔

ہندوستان کی حکومت شہداء کی تدفین پر ہونے والے بڑے بڑے اجتماعات سے خوفزدہ ہے۔ کشمیر کے فرزند جب ہندوستانی ظلم و استبداد سے لڑتے ہوئے لیلیٔ وطن پر فدا کر دیتے ہیں تو ہمیں جنازوں میں غم و اندوہ کے بجائے جوش و جذبہ کا مظاہرہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ شہدا کے جسموں کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ میں کر آزادی کے نعروں کی گونج میں رونمائی کے لئے لایا جاتا ہے۔ کشمیری قوم کا عزم و حوصلہ اب ان حدوں کو چھو رہا ہے جہاں گولی کی آواز کا جواب چیخوں اور آہ و بکا سے نہیں،نعرے سے آتا ہے۔

مائیں نوحہ کناں ہونے کے بجائے ”ہم کیا چاہتے ہیں“ کا آوازہ بلند کتی ہیں اور پرجوش عوام جواباً نعرہ بلند کرتے ہیں ”آزادی“ ۔ یہ جشن کا سا سماں تب تک جاری رہتا ہے جب تک شہید کا جسد خاکی بہشت شہدا تک پہنچ کر ابدی آرام گاہ میں محو استراحت نہ ہو جائے، جہاں خاندان کے کسی نہ کسی فرد کا جگہ پا لینا پورے خاندان کے لئے باعث فخر ہوتا ہے۔ بعد ازاں بھی یہ پرنور مرقد لوگوں کی آمد و رفت کا مرکز بنی رہتی ہے۔

ہندوستان ان آوازوں اور ان کے جوش و جذبے سے خوفزدہ ہو کر شہداء کے اجسام ورثا کے حوالے نہیں کر رہا مگر اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ آزادی کے نعرے اور حریت پسندوں کی داستانیں اب لوک کہانیوں اور ماؤں کی لوریوں تک آ چکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply