کشمیریوں کی لاشوں سے خوفزدہ مودی سرکار
تیس دسمبر 2020 کو بھارتی افواج نے سرینگر کے مضافات میں 3 کشمیری لڑکوں کو دہشت گرد اور علیحدگی پسند قرار دے کر ایک مبینہ مقابلے میں شہید کر ڈالا۔ بعد میں ان کی شناخت اطہر مشتاق عمر سولہ سال، جو ایک گیارہویں کلاس کا طالب علم تھا، ایک اور کم عمر گریجویشن کا طالبعلم اعجاز گنائی۔ ان دونوں کا تعلق پلوامہ سے تھا اور تیسرا لڑکا زبیر لون جو شوپیاں میں بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ ان نوجوانوں کے گھر والوں اور رشتے داروں نے ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہوئے شہداء کی میتیں مانگنا شروع کر دیں۔ اس سلسلے میں کئی پرامن احتجاج بھی ہوئے اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی شہداء کے مبارک جسم ورثا کو لوٹانے کی اپیلیں کیں۔
Read more
