مذہب کے نام پر قتل کا سلسلہ کبھی تھمے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

65 سال کا ایک بوڑھا شخص اپنے گھر کی گھنٹی بجنے پر جب دروازہ کھولنے جاتا ہے تو ایک بیس سال کا نوجوان اس پر گولی چلا دیتا ہے، جس سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس بوڑھے شخص کا نام عبد القادر ہے جو کہ پشاور کے علاقے بازی کھیل میں ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے۔عبدالقادر اپنے علاقے کے غریب لوگوں کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں تھے کیونکہ ان کی فیس اور دوا کی قیمت بہت کم ہوتی تھی۔ ان کو قتل کرنے والے نوجوان کو جب پولیس نے پکڑ کر اس قتل کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ اس نے احمدی ہونے کی وجہ سے عبدالقادر کو جان سے مارا اور اسے کوئی پچھتاوا بھی نہیں ہے۔

عبدالقادر پر اس سے پہلے بھی جان لیوا حملہ ہو چکا تھا۔ ان کے علاقہ کے لوگوں نے اس وقت ان کو بچا لیا تھا مگر اب ان کی موت سے وہ بہت رنجیدہ تھے کیونکہ انہوں نے ایک مسیحا کو کھو دیا تھا۔ پشاور میں اگست 2020 کے بعد سے اب تک عبدالقادر پانچویں احمدی شخص ہیں جن کو ان کے عقیدے کی وجہ سے جان سے مار دیا گیا۔ ان میں پشاور کی عدالت میں مارے جانے والے طاہر خان بھی شامل ہیں۔ جن کو مارنے والے نوجوان خالد کو ہیرو بنایا گیا۔

ایسا ہی کچھ چند ماہ پہلے جھنگ میں بھی دیکھنے کو ملا جب وہاں ایک بنک کے سیکورٹی گارڈ نے بنک مینجر پر توہین مذہب کا الزام لگا کر جان سے مار دیا۔جس کے بعد لوگوں نے اس کے حق میں نہ صرف نعرے لگائے بلکہ جب وہ پولیس سٹیشن پہنچا تو اس نے وہاں لوگوں سے خطاب کر کے اسلام سے محبت کا بھاشن بھی دیا۔

ہمارے ملک میں عقیدے کی بنیاد پر کسی کو جان سے مارنا بہت آسان ہے۔ آپ کسی کو بھی جان سے مار دیں اور بعد میں یہ کہہ دیں کہ اس نے توہین مذہب کی تھی تو بجائے آپ کو برا بھلا کہنے کے آپ کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے گا۔ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر، عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان اور لاہور کے علاقہ کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کا ماردیا جانا اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اگر آپ کو کسی کے عقیدے سے اختلاف ہے یا کوئی ذاتی رنجش ہے تو آپ اس پر توہین مذہب کا الزام لگا دیں ، پھر اس انسان کی ساری عمر اس الزام کو غلط ثابت کرنے میں گزر جائے گی۔

کوئی تو آسیہ مسیح جیسی خوش قسمت ہوتی ہے۔ جس کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے انصاف مل جاتا اور وہ ہمیشہ کے لئے یہاں سے چلی جاتی ہے۔ مگر زیادہ تر لوگ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے پروفیسر جنید حفیظ کی طرح بد قسمت ہی ہوتے ہیں جن کی زندگی جیل میں ہی گزرتی رہتی ہے۔ اور کئی بدنصیبوں کو تو جیل میں ہی مار دیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں پچھلے کچھ عرصہ کے دوران توہین مذہب کے مقدمات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس حوالے سے انسانی حقوق اور پسماندہ گروہوں کے لئے سماجی انصاف سے متعلق تحقیق سے منسلک ادارے ’سینٹر فار سوشل جسٹس‘ کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس کے مطابق سال 2020 میں سب سے زیادہ 200 افراد کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات قائم کیے گیے ہیں۔ یہ تعداد توہین مذہب کے قانون میں سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں کی گئی ترمیم کے 37 سال بعد سب سے زیادہ ہے۔

اس سے قبل 2009 میں سب سے زیادہ 113 افراد کے خلاف ایسے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 1987 سے 2020 تک کل 1855 افراد پر ایسے مقدمات قائم کیے گئے۔

عمومی طور پر یہاں اقلیتیوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر ہی توہین مذہب کے الزامات زیادہ لگتے ہیں مگر سینٹر فار سوشل جسٹس کی اس رپورٹ کے مطابق یہ رجحان بھی اب شاید بدل رہا ہے کیونکہ سال 2020 میں جن 200 افراد پر توہین مذہب کے مقدمات قائم کیے گئے ، ان میں سے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد صرف 25 فیصد تھے جبکہ باقی 75 فیصد تو مسلمان تھے۔ اقلیتی افراد میں 20 فیصد کا تعلق احمدی کمیونٹی اور مسلمان افراد میں 70 فیصد شیعہ مسلک سے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں مذہبی انتہا پسندی میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کا اپنے فائدے کے لیے مذہبی کارڈ کا استعمال اور مذہبی تنظیموں کی سرپرستی کرنا بھی ہے۔

ماضی میں بھی ہمیں یہ دیکھنے کو ملتا رہا اور اب بھی ایسا ہو رہا ہے جس کی ایک مثال پچھلے کچھ برسوں میں تحریک لبیک پاکستان کا منظر عام پر آنا ہے۔ جن کے ساتھ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک معاہدہ کیا ہے جس کی رو سے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پارلیمنٹ میں فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کرنے اور ان کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد لائی جائے گی۔ اگر یہ قرار داد منظور ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مذہبی انتہا پسند عناصر مزید مضبوط ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کا کوئی اچھا پیغام نہیں جائے گا۔

ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب جو کہ پوری دنیا کو اسلاموفوبیا اور ہندوستان کے مظالم کے حوالے سے لیکچر دیتے رہتے ہیں ، کیا اپنے ملک کی اس صورتحال پر بھی کچھ غور فرمائیں گے؟ مگر وہ ایسا نہیں کریں گے، اور شاید کر بھی نہیں سکتے کیونکہ جس ریاست کی بنیاد مذہب پر رکھی گئی ہو اور جہاں پر حکمران اپنے فائدے کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوں ، وہاں پر نہ تو وہ ملک کی اعلیٰ عدالت کے حکم کے باوجود مذہب سے جڑے کسی قانون کے غلط استعمال کے حوالے سے کوئی قانون سازی کر سکتے ہیں اور نہ مذہبی تنظیموں سے بلیک میل ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس لیے ہمارے ملک میں مذہبی انتہا پسندی بھی مزید بڑھے گی اور مذہب کی بنیاد پر شاید لوگ بھی ایسے ہی مارے جاتے رہیں گے تاوقتیکہ ریاستی آئین کے بنیادی ڈھانچے میں اس حوالے سے کوئی بنیادی تبدیلیاں نہ کر دی جائیں، مستقبل قریب میں تو اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply