تم سے اگر ہو گفتگو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ لوگ فطرتا کتنے ہی سخت گیر کیوں نہ ہوں مگر اتنے نادر ہوتے ہیں کہ ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ ان کے چلے جانے سے وقت کی سانسیں رک جائیں گی، فضا تھم جائے گی، ہر منظر سوگواری کی چادر اوڑھ لے گا۔ اس لئے ہم تصور بھی نہیں کرنا چاہتے کہ وہ کبھی جا بھی سکتے ہیں۔ اور پھر ہوتا بھی یوں ہی ہے۔ وقت کی سانسیں تھم جاتی ہیں، فضا سوگوار ہوجاتی ہے، ہر منظر دھندلا جاتا ہے، ایسی تاریک گہری سرمئی رات چھا جاتی ہے کہ گویا اب سحر ہی نہ ہونے پائے گی۔

ان کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ گھر کے ہر فرد کی آنکھوں کے سامنے گزرنے لگا۔ زین جن کو ایک اتھارٹی سب سے بڑی اولاد کی حیثیت سے والدین کی طرف سے دی گئی تھی، انہوں نے اپنے تعلیمی سلسلے کو جوں جوں آگے بڑھایا، باقی بہن بھائیوں کے ساتھ اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے دوستانہ تعلقات استوار کرنا شروع کئیے۔ تمام تر دوستانہ اطوار کے باوجود اکثر وہ اپنی غصیلی طبیعت کے ہاتھوں بے بس ہو جاتے۔ مگر ان کی صحبت میں لوگ ان کے مزاج کی ترشی بھی برداشت کرنے کو تیار رہتے تھے۔

ممکن ہے کچھ کو ان کے اس رویے سے اختلاف بھی ہو۔ مگر بہن بھائیوں نے اپنے بھائی کی برتری کے آگے سر تسلیم خم کر دیا تھا اور میرا شمار بھی انہی میں سے ہوتا تھا۔ اپنے بڑے بھائی سے ان کی رہنمائی اور دوستی میں بہت کچھ سیکھنا شروع کیا۔ مجھے یاد ہے جب پہلی بار ایک آرٹیکل پر میرا لکھا ہوا تنقیدی تجزیہ ان کی نظر سے گزرا تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے پوچھا ”میرے تحریری انداز کی نقل کی ہے؟“ میں نے ان کی کوئی تحریر اس وقت تک نہیں پڑھی تھی تو میرے انکار پر تھوڑی سی حیرانی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے مضبوط پنجے میرے سر پہ ہلکا سا گاڑھتے ہوئے کہا ”بہت اچھا لکھا ہے“ ۔

اس کے بعد سے انہوں نے میرا باقاعدہ تدریسی سلسلہ شروع کر دیا۔ اس وقت تک میں کافی ڈرپوک، کم گوانسان اور انٹرمیڈیٹ کی طالبعلم ہوا کرتی تھی مگر ان کی رہنمائی میں میرے اندر کا ایک الگ ہی پر اعتماد انسان پروان چڑھنے لگا۔ وہ ایک غصیلے اور ہیجانی کیفیت کے مالک انسان تھے اور کبھی کبھی ان کے رویے عزت نفس پہ گراں بھی گزرتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ ایک معمار شخصیت بھی تھے۔ عجب انسان تھے وہ۔ انہوں نے مجھے سب سے پہلی کتاب جو پڑھنے کے لئے دی وہ سبط حسن کی ”موسیٰ سے مارکس تک“ تھی۔

اس وقت میری انگریزی کافی کمزور تھی تو انگریزی تدریس کے ساتھ انہوں نے میرے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے اردو تراجم میں کئی کتب دیں جن میں چارلس ڈکنس کی ترجمہ شدہ ناول ”دو شہروں کی ایک کہانی، اس کے علاوہ“ عذرا ”وغیرہ ان کے علاوہ زبیر رعنا کی عشق، وول ڈیورانٹ کی مارکسی فلسفہ اور جدید سائینس کے ساتھ انسانی ارتقا پر ترجمہ کتاب“ انسان بڑا کیسے بنا، سرمایہ داری پر ”یورپ امیر کیسے بنا، بھگت سنگھ، کمیونسٹ مینی فیسٹو کے ساتھ ہی دیگر کتب مثلاً تصور خدا، روشن خیالی کی فکری اساس، سبط حسن کی لکھی ہوئی ماضی کے مزار، نوید فکر، مارکس کا فلسفۂ بیگانگی، ڈاکٹر مبارک علی کی المیۂ تاریخ، علما اور سیاست، مغل دربار وغیرہ، علی عباس جلال پوری کی عام فکری مغالطے، روایات فلسفہ، روح عصر اور انگریزی کی تعلیم کے ساتھ کارل سگان کی کوسموس اور ڈاکٹرحمزہ علوی کے مضامین وغیرہ شامل ہیں۔

انگریزی کی کلاس کے بعد رات سے صبح تک تاریخ ہو یا فلسفہ، رومانیت ہو یا انقلابات یا پھر انسانی ارتقا، ہر موضوع پہ ہماری گفت و شنید ہوتی۔ کچھ کتب وہ میرے تنقیدی نظر کو چیک کرنے کے لئے بھی دیتے اور ایسی دی ہوئی کتب پر میرے تنقیدی نقطۂ نظرکو وہ بہت اہمیت دیتے اور میرے سوالوں پر گفتگو کرتے ہوئے جیسے ان میں توانائی سی بھر جاتی تھی۔ ان کی یہ روش میرے ساتھ ہی نہیں تھی بلکہ ان علمی موضوعات پہ ان کے میرے دوسرے بھائی سے مکالمات نے ہی میرے ذہن کو اس طرف راغب کیا تھا۔ ہمارے علمی دائرے اور مشاہدے کو وسیع کرنے کی غرض سے انہوں نے مختلف فلمیں بھی ہمیں لاکر دیں جن میں فلاسیفیکل، سوشل، تاریخی، پولیٹیکل اور کامیڈی موضوعات پہ مبنی فلمیں شامل ہیں۔

The Devil ‘s Advocate, Life of David Gale, The Insider, Scent of a woman, Simone,
چاندنی بار اور بہت سی فلمیں شامل ہیں کہ اگر ان کی دی ہوئی کتابوں، مضامین اور فلموں کی فہرست لکھنے بیٹھوں تو ایک پورا آرٹیکل ان پر الگ سے لکھا جاسکتا ہے۔

جہاں انہوں نے سائینسی فلسفہ پڑھایا وہیں انہوں نے مذہب کے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے فلسفے کو بھی جس خوبصورتی سے واضح کیا شاید ہی کوئی کر سکتا ہو۔ شاعری کو بے حد خوبصورتی سے پڑھنے، سمجھنے اور وضاحت کرنے میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا۔ مجاز، فیض اور جون ایلیا ان کے پسندیدہ شاعر تھے۔ ان کے علاوہ اقبال، منیر نیازی، ندا فاضلی، گلزار اور ساحر کی شاعری کو بھی وہ بہت پسند کیا کرتے تھے۔ کتابیں پڑھنا، مغربی موسیقی، جگجیت کی کچھ غزلیں، اور موویز دیکھنے کے دلدادہ تھے۔ فلم میں کس خاص کیمرہ ڈائریکشن میں ہدایت کار دراصل کیا پیغام دے رہا ہے وہ جس طرح سمجھتے تھے لوگوں کو حیران کر دیتے تھے۔ مگر ہمارے لئے وہ سب کچھ زیادہ حیران کن نہیں تھا کیونکہ ہم نے انہیں کافی کم عمری سے ایسا ہی پایا تھا۔

مارکس کی تھیوری آف سرپلس ویلیو کی ابھی چند کلاسز ہی لے پائی تھی کہ چند انتہائی ذاتی نوعیت کے تنازعات جو صریح غلط فہمی و غلط بیانی کا نتیجہ تھے ہماری دوری کا باعث بن گئے اور علم کا یہ ادھورا پن اب ان کے گزر جانے کے بعد ایک روگ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ زین سے دوری کے ایک سال بعد میں جامعہ کراچی میں ایک ایسی طالبہ کی حیثیت سے موجود تھی جو سوشیالوجی اور بین الاقوامی تاریخ کے موضوعات پر مارکسسٹ نقطہ نظر اور مباحث کے باعث اپنے ساتھی طلبا آور اساتذہ میں مشہور، پسند و ناپسند کی جاتی رہی۔

لیکچرز ہوں یا سیمینار یا پھر کانفرنس، میرے تنقیدی سوالات کے باعث مجھے ایک نمایاں طالب علم کا مقام حاصل تھا اور یہ سب کچھ صرف اس علم اور اعتماد کی بدولت تھا جو زین نے بطور رہنما مجھے عطا کیا تھا۔ مگر جیسا کے جون نے کہا ”ہے شعور غم کی اک قیمت مگر“ سو یہاں اپنی ذاتی، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگیوں میں ہر قدم پر ان کے بہن بھائیوں کو اپنے نظریات کی قیمت بھی دینی پڑی جس سے زین قطعاً لاعلم رہے۔ اپنے تعلیمی سال آخر 2010 میں مجھے اس وقت کے بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین نے ان کے خیالات کے برعکس بولنے پر میرا پورا تعلیمی سال ذاتی پرخاش پہ روند کے رکھ دیا، میں جو جرمنی کی اسکالرشپ کے لئے تقریباً کوالیفائی کر گئی تھی محض اس تنازعے کے باعث حاصل نہیں کر پائی۔

جہاں عزت و احترام ان کی دی ہوئی نظریاتی تعلیم کی بدولت تھا وہاں ایسی جدوجہد اور قربانی بھی انہی کی نظریاتی رہنمائی کی قیمت بھی تھی۔ میرے لئے تو ان تک پہنچنے کے راستے مفقود تھے مگر ہر راستہ جو ان تک پہنچ سکتا اس کا در میں نے کھٹکھٹایا تاکہ ان کی تحریریں ان کے ریکارڈڈ لیکچرز مجھے حاصل ہوجائیں اور میں اس ”غیر معمولی ذہن“ کو آیٓندہ نسلوں کے لئے محفوظ کرلوں۔ بس یہی ایک مقصد بن گیا مگر اس دور کی مفاد پرست اقدار میں کس کو علم و آگہی سے بھلا غرض۔ اس دور میں جہاں لوگ چند پیسوں کی خاطر اپنا ضمیر اور وقار با آسانی بیچ دیتے ہیں بھلا ان تک پہنچنے کی کوشش بھی کیونکر کرتے۔

وہ اپنے نظریات اور فکر میں انتہا کے با اصول مگر معمولات زندگی اور ذاتی معاملات میں ایک انتہائی لاپروا اور انسان تھے۔ وہ اپنا خیال رکھنے والے انسان تھے ہی نہیں۔ اپنے اہل خانہ سے دوری سے قبل ان کی ذاتی زندگی میں ہر چیز ان کے آگے گویا پلیٹ میں پیش کی جاتی تھی۔ مجھ سمیت میرے گھر کا ہر فرد ان کے مزاج اور فطرت کے رنگ سمجھتا تھا۔ انہیں تو اپنے پانی پینے تک کا ہوش نہیں ہوتا تھا۔ من پسند کھانے ہوں، کپڑوں کی شاپنگ یا میڈیکل کیئر وہ ہمیشہ اہل خانہ پر ہی انحصار کرنے والے انسان تھے۔

ان کی اہل خانہ سے دوری کے بعد ہم سب کو یہی شدید فکر لاحق تھی کہ الگ ہو کر ہر بات پر فیملی پر انحصار کرنے والا یہ انسان کیسے گزارا کر پائے گا۔ مگر وقت کہ ساتھ بظاہر نظر آنے والی پیشہ ورانہ کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے لگا کہ انہوں نے اب خود انحصاریت کو اپنا لیا ہے اور تسلی کرلی کہ شاید اب واقعی انہیں فیملی کی ضرورت نہیں رہی اور یہیں ہم سے چوک ہو گئی کیوں کے ایسا نہیں تھا جیسا ہم نے سمجھا۔ ان کے اطراف میں ان کی فیملی نہیں تھی، خود کا خیال نہ رکھنے والے اس انسان نے کیسا وقت گزارا؟

کیا کر دیا اپنے ساتھ ان چند سالوں میں کہ ایک مضبوط، صحت مند اور توانائیوں سے بھر پور شیر کی مانند دکھنے والا یہ جوان صحت کے اتنے گمبھیر مسائل کا شکار ہو گیا کے زندگی کی بازی ہار گیا؟ ہمیں کیوں بے خبر رکھا گیا؟ بس یہی کچھ سوالات لے کر بوجھل دل کے ساتھ جب ہم ان کے گھر پہنچے تو گمان تھا کے ان کی موت سے چھا جانے والا اندھیرا کم از کم ان کے اطراف میں موجود احباب کے لئے بھی یکساں ہی ہوگا۔ یہ نقصان محض کسی سگے رشتے کا نہیں بلکہ اس دور کا اہم ترین علمی و نظریاتی نقصان بھی تو ہے مگر ان کا غم منانے کے چند دعویدار جنہیں ایسی قیامت خیز ساعتوں میں بھی ٹھیک سے پہننے اوڑھنے کا ڈھنگ یاد تھا، ان سے واسطہ پڑا۔

گھر کی گیلری سے جھانکنے والوں کی تعداد آپس میں یوں ہنس بول بھی رہی تھی کہ گویا یہ نقصان ان پر قیامت بن کر نہیں ٹوٹا تھا اور دل سوچ پر مجبور ہو گیا کہ یہ لوگ تھے ان کے اطراف؟ کیا یہ لوگ ہمارا نعم البدل ہو سکتے تھے؟ ان دعویداروں کے جانب سے ذہنی پستی کی تمام حدیں پار کی گئیں۔ ہمیں گھر کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا اور گھر کے دروازے پر نہایت کم ظرفی کے ساتھ ایک خاتون جن سے کسی دور میں رسمی تعلق بھی بمشکل رہا تھا وہ کچھ ان الفاظ کے ساتھ وارد ہوئیں ”ہم نے کی ہے تدفین، تم لوگ کون ہوتے ہو؟

تم لوگوں کو کچھ نہیں دیا جائے گا“ ”یہ الفاظ ہمارے لئے نہایت حیران کن تھے۔ تصور کیجیے، یہاں علم کا سمندر سوکھ گیا، اس سے بڑا کیا نقصان؟ ؟ ماں کی زندگی میں اس سے ملائے بنا، اس کو چہرہ دکھائے بنا تدفین کا حق محفوظ کرنے والے آخر یہ کون لوگ تھے؟ ان کی نیت کیا تھی؟ کیا اسی نیت سے وہ سب ان کے اطراف میں تھے؟ کس حیثیت سے وہ یہ سب باتیں کر رہے تھے؟ ہمارے تعلقات کے حوالے سے وہ جانتے ہی کیا تھے؟ پھر میڈیا اور سوشل میڈیا۔

جس کا جو اندازہ تھا، جس کو جو ان کی فیملی لائف کے بارے میں پتہ تھا بنا تصدیق کے لکھ رہا تھا۔ دوسری طرف ترقی پسندوں میں ان کے مخالفین میری تحریریں ان کے حق میں چھاپنے سے معذرت خواہ تھے کہ وہ ان کو“ سپر مین ”نہیں مانتے اور گویا میں نے زین کو سپر مین بنا دیا تھا۔ جبکہ یہ وہی ادارے تھے کہ جن کے نقطۂ نظر کو زین نے باوجود مخالفت کے اپنی عملی زندگی میں سپورٹ کیا۔ مگر ظرف کا معیار دیکھیں کہ وہ ایسے انسان کے لئے چند حروف چھاپنے سے قاصر تھے۔ احباب میں سے اکثریت نے زین کی تدفین میں محض کووڈ کے پیش نظر بنا تصدیق کیے کہ انہیں کووڈ ہوا بھی تھا یا نہیں شرکت نہیں کی۔ اتنے وسیع حلقۂ احباب رکھنے والے زین کی تدفین تین سے چار افراد نے کی۔ کیا ان احباب میں سے کوئی بھی فیملی کا نعم البدل ہوسکتے تھے؟

سب احباب (سوائے چند کے ) اپنے کار زندگی میں مصروف ہو گئے۔ یہاں زندگی اندھیرا اور وہاں کاروبار زندگی اسی انداز میں رواں دواں۔ زین کے حلقۂ احباب میں چند لوگوں نے دو چار تحریریں لکھیں اور پھر وہی روٹین کی سوشل میڈیا پوسٹنگ؟ زندگی کا پہیہ سب کے لیے چل رہا ہے پر زندگی یہاں تھم گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے جانے کے بعد کھونے لے لئے کچھ باقی ہی نہیں رہ گیا۔

ایک طرف میڈیا پر ان کی فیملی لائف سے متعلق غلط انفارمیشن پر محاذ آرائی چل رہی تھی جہاں تحریر پہ کسی ڈکٹیٹر کی طرح کمنٹ کی آزادی پر پابندی لگادی گئی تھی اور ہمارے کمنٹس پوسٹ نہیں ہونے دئے جا رہے تھے تو دوسری طرف ترقی پسندوں میں ان کے مخالفین سے بحث کہ جو شخص باوجود مخالفت کے اپنی عملی صحافیانہ تاریخ میں آپ کے مقاصد کی ترویج کرتا رہا، آج آپ اس کی عظمت کو ماننے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ اس کے حق میں چند کلمات بھی چھاپنے سے معذرت کر رہے ہیں؟

ایک طرف دیدار کو ترستی ہوئی ماں سے موت کی اس خبر کو چھپانا بھی ہے اور دوسری طرف بے خبر رکھنے والوں سے باز پرس بھی کرنی ہے اور سب سے بڑھ کے وہ خلا جو اس صدمے کے باعث ہماری شخصیتوں میں رچ بس گیا ہے اس سے نبرد آزما ہونا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا ۔ ایسے میں معاشرے کے کئی کریہہ رویوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کوئی خطہ اگر ابتدا سے ہی ایک ڈکٹیٹوریل ریجیم رہا ہو تو اس سماج کے سیاسی، معاشرتی، حتیٰ کہ انفرادی رویے خواہ ان معاشروں میں کتنے ہی ترقی پسند، انقلابی اور لبرل عوامل مسلسل جدوجہد کا حصہ ہوں، آمرانہ تسلط کے خلاف پیکار ہوں، اپنے اپنے دائرۂ کار میں ڈکٹیٹرز کی طرح ہی برتاؤ کرتے ہیں۔ گویا ہم یہ رویے اپنے گھروں، درس گاہوں اور پھر عملی زندگی میں جھیلتے رہتے ہیں اور اسی طرح برتاؤ بھی کرنے لگتے ہیں۔ یہ رویے سیاسی جنگوں میں بھی اکثر توڑ پھوڑ کا باعث ہی بنتے ہیں۔ مگر ہم سبق نہیں سیکھتے۔ ہم اجتماعی تجزیہ تو کرلیتے ہیں مگر انفرادی سطح پر اس کے نقصان کا احاطہ نہیں کر پاتے۔

یہاں ترقی پسند، بائیں بازو کے انقلابی اور دائیں بازو کے سخت گیر ٹولے سب ایک ہی قطار میں کھڑے ہیں جن کے رویوں میں سطحیت، مفاد پرستی، آمرانہ طرز، کم ظرفی، رجعت پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ہم ریاست کی کیا بات کرتے ہیں کہ ہمیں ریاستی سطح پر ہی آمریت کے خلاف جہاد کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے اندر موجود سب سے بڑے آمر کو نیست و نابود کرنا ہمارا اولین فریضہ ہونا چاہئے ورنہ تمام تر جدوجہد کے بعد آمریت دائیں بازو سے بائیں بازو کی طرف تو شاید آ جائے مگر فنا کبھی بھی نہیں ہو پائے گی۔

باقی رہی زین کی بے وقت موت تو بات کچھ یوں ہے کے غلط فہمی نے کم ظرفی اور موقعہ پرستی کو جگہ دی اور خوب دی۔ ایک عرصے سے زین کے اطراف میں موجود موقعہ پرستی اور کم ظرفی کے چند ٹولے اب کوئی نیا راستہ اور موقع تلاشیں گے۔ مگر ایک لمبی دوری کے بعد بھی زین کے اہل خانہ ہی نہیں بلکہ ان کے گھر کر درو دیوار بھی بے روح ہی رہیں گے۔ کاش کے روح کا کوئی وجود ہوتا تو ہم زین کے بچپن سے جوانی تک کے ساتھی و ہمراز اور ان گنت یادوں کے امین کم از کم ان سے یہ تو کہہ پاتے

تم سے اگر ہو گفتگو، چہرہ بہ چہرہ، روبرو
شرح غم وفا کروں، نقطہ بہ نقطہ مو بہ مو
ہجر کے غم میں ہے رواں، آنکھ سے میری خون دل
دریا بہ دریا یم بہ یم چشمہ بہ چشمہ جو بہ جو


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments