کارکن کی رومانویت اور اس کا قیادت سے تعلق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوانیاں لٹائیں گے انقلاب لائیں گے

اچانک نمودار ہونے والی تبدیلی سے عموماً نوجوانوں کی جذباتی وابستگی ہوتی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہوئے کسی کو نجات دھندہ بھی بنا لیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ طلسماتی اور معجزاتی لیاقتوں کا حامل قائد ہے، اس لیے اس کے پاس تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ اس ساری صورتحال کو رومانویت کہا جا سکتا ہے جو حقیقت کے برعکس ہوتی ہے۔ رومانویت منطق و استدلال کی بجائے جذبات کی نمائندہ ہوتی ہے۔ یہ عظمت رفتہ کی بحالی کا ایک موضوعی (Subjective) خواب ہوتا ہے جو معروضی (Objective) حقائق سے ماوراء دنیا تشکیل دیتا ہے، جس کی بنیاد جذباتیت اور ہنگامیت ہوتی ہے۔

رومانویت پسند ذہن سماجی تغیر و ارتقاء کا واحد سرچشمہ اسی ’مفروضہ‘ نجات دھندہ کو سمجھتا ہے۔ جبکہ کسی تحریک کا سربراہ بحیثیت فرد کوئی قوت نہیں رکھتا، وہ معاشرتی طاقت اور تاریخی حقیقتوں سے ہی قوت حاصل کرتا ہے۔ یہ قوت اخلاص، استقلال اور جہد مسلسل کی متقاضی ہوتی ہے۔ کہیں کہیں اس کا حصول سرفروشی پر بھی منتج ہوتا ہے۔

استحصالی اور غیر متوازن سماج کی وجہ طاقت ہوتی ہے۔ اس طاقت کو محض شعلہ بیانی اور رطب اللسانی سے پسپا نہیں کیا جا سکتا۔ اس استحصالی طاقت کو چت کرنے کے لیے عملی مداخلت درکار ہوتی ہے۔ عملی جدوجہد کرنے والوں کی نسبت رومانوی ذہن محض جوشیلے خطبات سے مرعوب ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مطلوبہ سماجی تغیر ( Desired Social Change) کا حصول خواب بن کر رہ جاتا ہے۔

بولیں تو خطیب شہر ہیں یہ
گھولیں تو سیاسی زہر ہیں یہ
کچھ ان میں بلا کی لہر بھی ہے
کچھ ان میں خدا کا قہر بھی ہے

رومانویت کا یہ بچپن کہیں کہیں پچپن کے بعد بھی ہمراہی ہوتا ہے۔ موجود حقائق عقیدت، جذباتیت اور سطحیت کے پردوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔

کارکن قائد کے مطمح نظر سے انحراف کو، اس کے قول و فعل کے واضح تضاد کو، اس کی جذبات فروشی کو دیکھنے کی صلاحیت سے اس رومانویت کی وجہ سے محروم ہوتا ہے۔ وہ اسی طرح کے سراب کو امید انقلاب سمجھنے کے عارضے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ رومانویت (یعنی حقیقت پسندی کا الٹ) کا نتیجہ اندھی عقیدت ہوتا ہے اور یہ عقیدت امیر تحریک کی شکل میں مجسم بت تراش لیتی ہے۔ پھر اس بت کے غلط کو بھی صحیح ثابت کرنے کی پرستش شروع ہو جاتی ہے، اور پھر ایک لکیر کھینچ دی جاتی ہے جس میں لکیر کے اس طرف مطلقاً حق، سچ اور صحیح ہے اور دوسری جانب فقط باطل، جھوٹ اور غلط تصور کیا جاتا ہے۔

گویا حقیقی تصویر اس بت کی چکا چوند کے پیچھے کہیں اوجھل ہو جاتی ہے اور انسان خود کو ایک کنویں میں محصور کر لیتا ہے جبکہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ محیطِ بے کراں کی وسعتوں کا مسافر ہے۔ جب اسے یہ آگاہی حاصل ہوتی ہے کہ یہ کنواں ہے اور جس کو پوجا جا رہا ہے وہ بے چارہ تو بے ثمر بت ہے، تب انحراف کا دور شروع ہوتا۔

انحراف کا دور ارتقائی صورت میں وارد ہوتا ہے، یہ اچانک کسی عقدہ کشائی کی صورت عیاں نہیں ہوتا بلکہ سلسلہ وار فکروعمل کے تضاد کے ظاہر ہونے کے بعد بتدریج کھلتا چلا جاتا ہے۔ تضاد، تنگ نظری، جذباتیت اور گھٹن کا احساس اندر ہی اندر سوالات کی صورت پیہم سفر کرتا ہے۔ جو ایک نتیجے پر پہنچ کر آزادانہ اور حقیقی رخ دیکھنے کی جسارت کرتا ہے اور یہ سفر انحراف پر منتج ہوتا ہے۔

انسان انحراف کے باعث ردعمل میں جذباتی ہو کر اس بت کو توڑنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ یعنی اس نظریے کی مخاصمت میں وہ امیر کے قول و فعل کے تضاد اور جذبات فروشی کے اس گھناؤنے کھیل کے خلاف انتہائی جذباتی انداز میں برسر پیکار ہو جاتا ہے جس کو علامہ نے کیا جامعیت سے دو سطروں میں بیان کیا ہے۔

و لیکن سرگزشتم این سہ حرفست
تراشیدم، پرستیدم، شکستم
ترجمہ: لیکن میری تمام تر سرگزشت انہیں تین حروف پر مشتمل ہے
مین بت تراشتا ہوں، اس کی پرستش کرتا ہوں اور اسے توڑ دیتا ہوں۔

مگر مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے بت توڑنے کے اس عمل کو معقول نہیں جانا۔ اور کہا ”کہ آپ چاہتے ہیں کہ جس بت کو تراشنے میں آدھی عمر صرف کر دی کیا باقی آدھی اب اسے مسمار کرنے پر صرف کر دوں“

کسی تحریک سے الگ ہونے والوں کو راندۂ درگاہ بھی متصور کیا جاتا ہے اور منحرف لوگوں کے ایمان پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ اس رویے کی نشاندہی امین احسن اصلاحی صاحب نے یوں کی ہے۔ ”تو اور ان (مذہبی جماعتوں) کے ایجنٹ اور کارندے سادہ لوح عوام میں یہ وسوسہ اندازی شروع کر دیتے ہیں کہ جو ان کی دکان سے سودا نہ خریدے اس کا ایمان ہی سلامت نہیں رہتا“ ۔

کچھ مذہبی تحریکوں کے کارکن امیر تحریک میں بیک وقت شاہ ولی اللہ جیسا عالم، علی ہجویری جیسا صوفی، سرہندی جیسا مجدد، منڈیلا جیسا سیاستدان، ایدھی جیسا فلاحی، اشعری جیسا متکلم، ارسطو جیسا فلسفی، جابر بن حیان جیسا سائنس دان، بدھا جیسا رغبات دنیا سے منزہ، نوم چومسکی جیسا اسکالر اور ایڈم سمتھ جیسا معیشت دان دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور مذکورہ شخصیات کے تمام کمالات بدرجۂ اتم موصوف میں مجتمع ہونے کا عقیدہ بھی تراشتے ہیں۔

تحریک سے انحراف کی صورت میں جذباتی ردعمل بھی آتا ہے، بت مسمار کرنے کے کوشش بھی کی جاتی ہے۔ گویا توازن بھی برقرار نہیں رہتا، اعتدال بھی رخصت ہوتا ہے، ابلاغ میں اخلاق بھی ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ کارکن پہلے محبت میں یکتائی اور پھر نفرت میں دوسری انتہاء پر موجود دکھائی دیتے ہیں۔

جب اعتدال دامن میں آتا ہے، جذباتیت کی جگہ آزادانہ سوچ لیتی ہے تو یہ نکتہ عیاں ہوتا ہے کہ آپ کسی قائد کے حسن ظن پر شک کر سکتے ہیں، آپ کی نظر میں وہ جذبات فروش ہو سکتا ہے، آپ کی رائے میں اس کا مطمح نظر محض شہرت، طاقت اور اولاد کے مستقبل کا تحفظ ہو سکتا ہے مگر اس کے باوجود اس کے صحیح کو غلط تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس شخص کی لیاقتیں اپنی جگہ ہیں اور رویے اپنی جگہ۔ جو خدمات عامۃالناس تک اس کی وساطت سے پہنچ چکی ہیں وہ حقیقت ہیں۔اس سے انکار بھی آدھی حقیقت دیکھنے کے مترادف ہو گا۔ اسی طر ح ارتقاء کی یہ بنیاد بالکل بے سود نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ کارکن پر اس کے اثرات راست انداز میں بھی مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی فکر سے جڑنا، حریت کی طرف بڑھنا اور بامقصد چلنا، یہ تجربات کے قابل ذکر مراحل ہوا کرتے ہیں۔ گویا جو چیز جیسی ہے اسے ویسے دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply