سیاست کا کھیل اور مالی مفادات سے بندھے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک کھیل تو وہ ہوتا ہے جو جیتنے یا ہارنے کی خاطر کھیلا جاتا ہے۔ یہ دراصل کھیل کا مقابلہ ہوتا ہے کہ کون اچھا کھیلتا ہے اور کون کم اچھا۔ ایک کھیل وہ ہوتا ہے جو سٹیج پر کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل میں مختلف سماجی، معاشرتی اورنفسیاتی مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے اور عموماً کوئی سبق دیے جانے کی کوشش کی جاتی ہے البتہ ایسے کھیل تجریدی نوعیت کے بھی ہوتے ہیں جن کو ہر کوئی چاہے تو اپنے مطابق سمجھ لیتا ہے اگر سمجھ نہ آئے تو تنقید کر دیتا ہے۔

ایک کھیل وہ ہوتا ہے جو عام زندگیوں میں کھیلا جاتا ہے جو پوشیدہ مقاصد کو پورا کیے جانے کی خاطر فرد، افراد یا  قوم کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کرنے، ان کے اذہان میں اپنی مرضی کا کچھ ڈالنے، کسی خاص معاملے، خاص شخصیت، خاص گروہ یا خاص ملک کے بارے میں اپنی مرضی کے خیالات ٹھونسنے کی صورت میں کھیلا جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کھیل کو خوبصورتی کے ساتھ کھیلا جائے، اسے بہت بھدے طریقے سے کھیلا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی ہر حال میں تعریف کرنے والے پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں شخصیت پرستی کا رجحان ہو اور جہاں پارٹیاں بھی ایک خاص تناظر میں خاص مقاصد کی خاطر بنی ہوں۔ بالخصوص اس ملک میں جہاں کوئی ایک حکومتی ادارہ حکومت کے باقی اداروں سے زیادہ قوی اور مضبوط ہو۔

ایسا بھی ضروری نہیں کہ یہ کھیل ویسے ہی ملک اور ان کے ادارے اور شخصیات کھیلتی ہوں جن کا تذکرہ کیا جا چکا ہے۔ یہ کھیل بڑے بڑے ملک ایک دوسرے کے عوام کے ساتھ یا وہ ملک جو معاشی طور پر خوشحال ہوں لیکن سیاسی طور پر اتنے اہم نہ ہوں، اپنی اہمیت کو بنائے رکھنے کی خاطر ایسا کھیل کھیلتے ہیں۔ سیاسی و معاشی کشیدگی، تصادم اور جنگ کے حالات میں ایسے کھیل کھیلے جانا اخلاقی طور پر بھی درست خیال کیا جاتا ہے۔

ایسا کیے جانے کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے کہ اپنے موقف کو درست ثابت کرتے ہوئے اپنی اہمیت، بالادستی اور یا اقتدار قائم رکھا جا سکے۔ ایک زمانے میں جب ذرائع ابلاغ اتنے وسیع اور مؤثر نہیں ہوئے تھے تب حکام یہ کھیل اپنے کارندوں، اپنے کاسہ لیسوں اور اپنے ماتحت افراد کی مدد سے کھیلا کرتے تھے۔ اب یہ کھیل ذرائع ابلاغ کے ذریعے کھیلا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک سرکاری اور ایک نجی۔ نجی ذرائع ابلاغ کو زیادہ مؤقر، زیادہ بااعتماد اور زیادہ غیر جانبدار تصور کیا جاتا ہے لیکن عموماً ایسا نہیں ہوتا۔

ذرائع ابلاغ بھی سرمایہ دارانہ معاشرے کا حصہ ہیں اور آج ایسے معاشرے صارفین کے معاشرے بن چکے ہیں جہاں ہر چیز بیچے جانے کے لیے ہے۔ آج خبر خبر نہیں بلکہ ”سٹوری“ کہلاتی ہے یعنی کہانی۔ کہانی کبھی مکمل طور پر سچی نہیں ہو سکتی۔ اس میں دلچسپی پیدا کیے جانے اور دلکش بنائے جانے کی خاطر اس میں تھوڑا سہی لیکن افسانوی مواد ضرور شامل کیا جاتا ہے۔

ذرائع ابلاغ خاص طور پر الیکٹرانک ذرائع ابلاغ اور بالخصوص ٹیلیویژن چینلوں میں کسی معاملے، کسی بات یا کسی خبر کو بار بار دکھایا جانا اسے اچھالنے کے زمرے میں آتا ہے جو دراصل لوگوں کے ذہن نشین کرانے کی خاطر کیا جاتا ہے ، ویسے ہی جیسے پرانے وقتوں کے اساتذہ اسباق کو بار بار دہرانے کی تلقین کرتے ہیں۔

کھیل کا ایک بنیادی عنصر ”سپن“ یعنی گھمانا کہلاتا ہے۔ بات چاہے غلط ہو اور سننے و دیکھنے میں بھی غلط لگ رہی ہو، پھر بھی اس بات کو چونکہ، چنانچہ، تاویلوں اور دلیلوں کے ایسے جال میں گوندھ دیا جاتا ہے کہ وہ سچی لگنے لگ جائے۔

سیاست میں یہ کھیل اس لیے زیادہ کھیلا جاتا ہے کہ حکام کی غلطیوں پر پردہ رکھا جا سکے۔ حکام کے حامیوں کی تعداد کو برقرار رکھا جا سکے اور اس میں اضافہ بھی کیا جا سکے۔ حکام کے اقتدار کو گزند پہنچنے سے محفوظ بنایا جائے اور ممکن ہو تو اسے طول دیا جا سکے یا کم ازکم اقتدار کی اگلی مدت اپنے نام لکھوائی جا سکے۔ عوام کو خواب دکھائے جا سکیں یا مسائل کے بارے میں ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جائے۔ حزب اختلاف کی تنقید کو بے اثر کیا جائے اور ان کے حامیوں کی تعداد کو کم کیا جائے۔ حزب اختلاف کے اقتدار میں آنے کی خواہش کی تکمیل کو ناممکن بنایا جائے۔

ظاہر ہے کہ دوسرا فریق بھی چاہے وہ ملک ہو، مخالف ہو، حزب اختلاف ہو، یا گروہ ہو اپنے موقف کو اسی طرح سے پیش کرے گا کہ اس کا مد مقابل غلط، ظالم، ناجائز اور خود غرض دکھائی دے۔ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ یہ یا وہ فریق اپنی پیش کاری میں اس قدر مشاق نہ ہو یا اتنی رنگ آمیزی نہ کر سکے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کا ایک حصہ کسی ایک فریق کی رنگ آمیزی کو زیادہ نمایاں کر کے پیش کرتا ہو اور دوسرا حصہ کسی دوسرے فریق کے موقف کو زیادہ پھیلا کر پیش کرے۔

بات پاکستان کے نو آموز ذرائع ابلاغ کی نہیں ہو رہی جو اسی طرح بھیڑ چال کا شکار ہے جس طرح امریکہ میں بسنے والے اکثر پاکستانی سیون الیون سٹور کھول لیتے ہیں اور برطانیہ میں بسنے والے زیادہ تر اخباروں کے کیوسک۔ بات دراصل عالمی میڈیا کی ہو رہی ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ معاملے کی حقیقت کو کیونکر زیادہ درست طور پر سمجھا جائے؟

یہ کام بہت محنت طلب ہے۔ تاریخ، سیاست، معیشت اور سماجیات و عمرانیات سے متعلق خوب آگاہی ہونی چاہیے۔ ایسا زیادہ مطالعے سے ہی ممکن ہے۔ تاریخ یا تو فاتحین لکھتے لکھواتے ہیں یا تاریخ میں نمک مرچ شامل کیا جاتا ہے چنانچہ ایک ہی واقعے کے لیے تاریخ کے مختلف مصنف پڑھے جانا ضروری ہے۔ معلومات حاصل کرنے اور دیانت داری سے اپنی رائے بنانے کا شوقین کسی بھی نظریے، کسی بھی پارٹی اور کسی بھی مسلک سے ہو سکتا ہے لیکن اسے بہرحال یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ کون کیوں اور کس لیے کیا بات کہہ رہا ہے؟

زبان زد عام باتوں کو بالکل بھی خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ افواہوں کو تو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھنا چاہیے۔ شخصیات کی پرستش کی بجائے ان کی نفسیات اور مقاصد کو سمجھے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تو کبھی نہیں بھلانا چاہیے کہ ہر معروف شخصیت اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھنے اور اسے بڑھانے کے لیے کوشاں ہوتی ہے۔ اس کو ایک ایسے حلقے کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے حق میں پرچار کر سکے۔ ایسے لوگ بھی درکار ہوتے ہیں جو اس کے ہر درست عمل اور ہر صحیح بات کو زیادہ درست اور زیادہ صحیح بنا کر پیش کر سکتے ہوں۔

ایسے اکثر لوگوں کو آنکنے کا ایک عمومی پیمانہ ان کی دولت میں کمی نہ آنا بلکہ اضافہ ہونا ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ شخصیات چاہے اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں ان کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کی باتوں کو سننا ضرور چاہیے پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ انسان کو فرشتہ اور عام آدمی کو الوہی صفات کا حامل بنا دینا ایسے لوگوں کا ہی کام ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہر جگہ بشمول میڈیا میں موجود ہوتے ہیں۔

سچ بات کہیں سچ اور جھوٹ کے درمیان ہوتی ہے کیوں کہ سچ بنائے جانے سے سچ سچ نہیں رہتا اور جھوٹ بولے جانے کے بعد بھی سچ ہونے سے رہا۔ سیاست میں کھیل کو سمجھنا سب کا کام ہے بھی نہیں ، یہ دراصل ان لوگوں کا کام ہے جو باقی لوگوں کو معاشرے کی بھلائی اور پیشرفت کے ضمن میں کسی نہ کسی طرح آگاہ کرنے کا چلن رکھتے ہوں۔

ایک بات پلے باندھ لیجیے کہ اداروں، میڈیا، این جی اوز ہر اس جگہ سے بندھے ہوئے لوگ جہاں سے مالی مفاد، معاوضہ یا مشاہرہ ملتا ہے کبھی بھی پورا سچ نہیں بول سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply