ساکا ننکانہ کے سو برس اور نوری کیمبوکا کے ڈھولے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ وہ موضوع ہے جسے مذہب اور سیاست دونوں نے ہمیشہ سے اپنے گھر کی باندی سمجھا ہے۔ ان دونوں کی ہر چیز میشل فوکو کے مطابق مرکزیت کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ اسی لیے ان کا بیانیہ عام لوگوں کی تاریخ سے ہمیشہ متضاد نظر آتا ہے۔ مرکز معاشرے میں طاقت کا سب سے مضبوط ادارہ ہے۔ اسی لیے وہ اپنا بیانیہ پھیلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف مرکزیت کے زیر اثر پسنے والوں کی آواز کو نہ صرف دبا دیا جاتا ہے بل کہ ان کی سوچنے سمجھنے کی قوت کو ناکارہ بنا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ایک وقت آتا ہے جب مرکز اپنی ذات اور طاقت کے نشے میں دھت ہو کر متکبرانہ زندگی کو عیاش پسندانہ طرز پر گزارنے لگتا ہے۔ یہی کلچر پسے ہوئے طبقے میں بغاوت آمیز افکار کو پروان چڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ جس سے عام لوگوں میں ایسی سوچوں کی پیروی کرنے والے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس پیدائش کے پیچھے ایک خاص مکتبِ فکر کی کاوش کار فرما رہتی ہے۔ جن کے لیے جامع تعبیر radicals کی ہے جو کسی بھی شعبہ سے ہو سکتے ہیں۔ یہ اپنے کام (شاعری و نثر وغیرہ) سے مذکورہ بیانیے کو عام لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ مرکز کی زبان بولنے والے دائیں اور اس کو چیلنج کرنے والے بائیں بازو والے کہلاتے ہیں۔ یہ دائیں بائیں کی تفریق کم یا زیادہ کے فرق کے ساتھ ہر سطح پر پائی جاتی ہے۔ ایسی تفریق معاشرے میں، مذہبی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی تنازعات کی وجہ بنتی ہے۔

ایسی ہی ایک لڑائی آج سے سو سال پہلے سکھوں اور گردوارہ جنم استھان کے منتظم و نگہبان نرائن داس کے درمیان ہوئی۔ ننکانہ صاحب جسے صدیوں پہلے ”رائے بھوئے کی تلونڈی“ کے نام کے طور پر یاد کیا جاتا تھا۔ یہ نام پندرہویں، سولہویں صدی کی بات ہے جب کہ اس خطے کی تاریخ اور نام کے متعلق شواہد زمانہ قدیم کی تاریخ سے ملتے ہیں۔

ڈاکٹر سید سلطان محمود اپنی کتاب ”تاریخ شیخوپورہ“ میں اس کا پرانا نام ”رائے پور“ لکھتے ہیں۔ جب میں نے مشہور پنجابی ایکٹوسٹ اور تاریخ دان اقبال قیصر صاحب سے لمز (LUMS) کی کانفرنس میں اس بارے سوال کیا تو ان کے بقول زمانہ قدیم میں یہاں مختلف بستیاں آباد تھیں جن میں سے ایک کا نام ”رائے پور“ ہو سکتا ہے۔ جس کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ زبیر شفیع غوری اپنی کتاب ”راوی کنارے کی ہڑپائی بستیاں“ میں موجودہ تحصیل ننکانہ صاحب کے چھے ٹبوں یا ٹیلوں جن میں کھڈاں والا (الف) ، کھڈاں والا (ب) ، نولاں (دربار کوٹ) ، پنج پیر، پیڑاں والی اور مارٹن پور شامل ہیں۔ وہ ان بستیوں کی نشان دہی اور وہاں پائی جانے والی اشیاء سے ثابت کرتے ہیں کہ یہ خطہ وادی سندھ کی تہذیب کا اہم علاقہ رہا، جس کی بدولت ننکانہ صاحب کی تحصیل کو مصنف نے ہڑپائی تہذیب کا ایک اہم مرکز قرار دیا ہے۔

یوں یہ علاقہ تہذیبی اور مذہبی حوالے سے خاص اہمیت کا حامل تھا۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک ( 1539۔ 1469 ) اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔ ان کی جائے پیدائش سکھوں کے لیے قبلہ و کعبہ کا درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنی تعلیم اور عمر کے ابتدائی پندرہ بیس سال ننکانہ صاحب کی دھرتی پر گزارے۔ جہاں ان کا ایک عزت احترام کا رشتہ اس علاقے میں pluralistic سوچ رکھنے والے انسان رائے بلار احمد خاں بھٹی کے ساتھ پروان چڑھا۔ جنہوں بابا گرونانک میں پائی جانے والی غیر معمولی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے عقیدت مندوں میں شمار کروایا۔ نانک کی شاعری اور اس میں دیا جانے والا پیغام جو وحدانیت، انسان دوستی، مرد عورت کے رشتے، جدائی، برداشت اور بھائی چارے وغیرہ پر مشتمل تھا نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ تمام ہندوستان میں ان کی شخصیت اور شاعری و کردار کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ وہ لکھتے ہیں ”نیکی پر چلنے کے بعد جو موت آتی ہے وہی رب کو خوش کرتی ہے۔“

(گرونانک، بارہ ماہ:کاتک)

نانک کے انتقال کے دو سو ساٹھ سال بعد جب ان کا ایک عقیدت مند مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب کا حکمران ( 1839۔ 1800 ) بنا تو اس نے اپنے دور حکومت کے دوران میں ننکانہ میں نانک کی نسبت سے سات گردوارے تعمیر کروائے۔ ان میں سب سے بڑا گردوارہ ”جنم استھان“ جو بابا جی کی جائے پیدائش کی مناسبت سے تعمیر کیا گیا، اس گردوارہ میں سو سال پہلے ایک خونیں سانحہ پیش آیا جسے ”ساکا ننکانہ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہ سانحہ بیس فروری 1921 کو رونما ہوا۔ اس واقعے کو خشونت سنگھ، ڈاکٹر ٹن ٹائی یونگ اور عبدالکریم تبسم وغیرہ نے عام طور پر مذہبی حوالے سے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق سکھوں نے قربانی دے کر گردوارہ جنم استھان کے متولی مہنت نرائن داس اور اس کے ساتھیوں کے قبضے سے سبھی گردواروں کو چھڑانے کی کوشش کی۔ نرائن داس اداسی سکھ تھا، مغلوں نے گردوارہ کا انتظام و انصرام اس کے بڑوں کو دے رکھا تھا۔ وہ گردوارہ کا تقدس پامال کرتا تھا۔ وہ صرف میلے کے دنوں میں زائرین کی دیکھ بھال کرتا جب کہ باقی کے دنوں میں اپنے دوستوں کے ہمراہ گردوارہ کی حدود میں آئے دن شراب نوشی اور دیگر عیاشانہ سرگرمیوں سے گردوارے کا تقدس پامال کرتا تھا۔ یہ بات سکھوں کی طبیعت پر ناگوار گزرتی تھی۔ اس لڑائی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دو سو سکھوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔

ان ”شہادتوں“ کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ جسے اس سال پورے سو سال ہو گے ہیں۔ دوسری طرف ساندل بار کے مشہور ڈھولے کے شاعر نوری کیمبوکا ( 1960۔ 1870 ) جن کی شاعری آج بھی ساندل بار کے لوگوں کو زبانی یاد ہے۔ انہوں نے اڑتیس ڈھولے اس واقعے پر لکھے۔ جو مذکورہ صرف مذہبی پہلو کو deconstruct کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈھولا پنجابی شاعری کی ایک صنف ہے۔ اس میں وار (پنجابی شاعری کی صنف) کی طرح ایک قسم کی تاریخ ہی بیان کی جاتی ہے۔

وہ اس تناظر میں شیخوپورہ کے واقعے کا حوالہ دیتا ہے، جس میں دیوان سکھ اور نرائن داس کے درمیان شدید جھگڑا ہوا۔ اس لڑائی میں نرائن داس کو شدید ہزیمت اٹھانا پڑی۔ وہاں سے نرائن داس کسی طرح اپنے ملازم احمو ماچھی (احمد ماچھی) کی مدد سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تو سکھوں نے دھمکی دی کہ وہ تین ”پھگن“ (دیسی مہینہ) کو دوبارہ ننکانہ پر گردوارہ جنم استھان کا قبضہ چھڑانے آئیں گے، اب وہ چوکنا ہو گیا۔ سکھوں کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے اس نے راولپنڈی سے 400 پٹھان اپنی اور گردوارہ کی حفاظت پر مامور کر لیے اور ساتھ ننکانہ کے اردگرد اپنے دوستوں جن میں بھٹی، کھرل، شاہ، وٹو وغیرہ شامل تھے کو اپنی لڑائی اور دھمکی کے متعلق بتایا، ان کو مدد کے لیے تیار رہنے کو کہا۔

ساندل بار کا علاقہ ویسے بھی لڑائی ، مار کٹائی اور حملہ آوروں کے سامنے ڈٹ جانے والوں کے لیے مشہور تھا ، یہ پورس کی سکندر، دلے بھٹی اور مرزے جٹ کی اکبر، رائے احمد خاں کھرل کی انگریز کے خلاف مزاحمت اور جان کا نذرانہ پیش کر دینے والوں کی تاریخ کا حامل ہے۔

یوں جلد ہی علاقے میں لڑائی کے چرچے ہو گئے مگر سکھ مقررہ تاریخ کو نہ آئے۔ نرائن داس کچھ بے فکر ہو گیا۔ ایک دن وہ اپنے ملازم کے ساتھ لاہور جا رہا تھا، انہوں نے ننکانہ ریلوے اسٹیشن سے ٹکٹ خریدا اور گاڑی کا انتظار کرنے لگے۔ ریل گاڑی میں سوار ہونے لگے تو ایک مائی (عورت) جو گاڑی سے اتری تھی، نے ملازم سے پوچھا ”پترا! تواڈی لڑائی دا کیہ بنیا؟“ اس نے کہا: ”سکھ نہیں آئے۔“ جس پر وہ بولی ”وہ پچھلے اسٹیشن پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔اپنا بندوبست کر لو۔“ وہ دوڑتا ہوا نرائن داس کے پاس آیا اور مائی والی روداد سنائی۔ اس نے ٹکٹ واپس کی اور دوڑ کر اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو اس بارے چوکس کر دیا۔

سکھ انیس فروری 1921 کی رات کو ننکانہ پہنچے تو انہوں نے چوپڑا کاٹن رائس مل میں رات کاٹی اور سرگھی(سحر) کے وقت گردوارہ پر دھاوا بول دیا۔ نرائن داس جو پہلے ہی تیار بیٹھا تھا۔ اس نے سکھوں کو اندر داخل کر کے گیٹ بند کروا دیے۔ اس کے بندے مسلح تھے۔ انہوں نے نہتے سکھوں کو نہ صرف مارا بلکہ ان کے لیڈر سردار لچھمن سنگھ دھاریوالیاں کو ”جھنڈ“ کے درخت کے ساتھ الٹا لٹکا کر ”پگھڑی“ کھول کر سر کو آگ لگا دی اور باقیوں کے جسموں کو قصائیوں کے طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا اور بڑے برتنوں میں ڈال کر آگ پر رکھ دیا۔ ایسی قتل و غارت اور نعشوں کی بے حرمتی جس کا سن کر جسم کانپ اٹھے۔ پنجاب کی دھرتی پر جس کی مثال شاید ڈھونڈنے سے نہ ملے۔ نوری کے مطابق 382 سکھوں کو شہید کیا گیا۔ جیسے یہ خبر آس پاس کے سکھوں تک پہنچی وہ ہزاروں کی تعداد میں ننکانہ پہنچ گے تاکہ نرائن داس اور اس کے سہولت کاروں کی اینٹ سے اینٹ بجا سکیں۔

اسی قتل و غارت کے دوران میں کوئی دوڑ کر مانگٹانوالہ تھانہ گیا اور سارا واقعہ پولیس کے گوش گزار کیا۔ پولیس موقعہ پر آ گئی اور مزید خون خرابہ رک گیا۔ نرائن داس اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا (جنہیں بعد ازاں سیلف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت رہا کر دیا گیا) ۔

نوری کے مطابق اس لڑائی کے پیچھے مذہب کے علاوہ معیشت (نہری نظام کے بعد گردوارہ کی زمین سونا اگلنے لگی تھی) ، بدلہ (شیخوپورہ والے واقعے کا) اور انا جیسے عوامل بھی کار فرما تھے۔ نوری کی شاعری کا تجزیہ کریں تو وہ نابر بندے کی کھل کے تعریف کرتا تھا ، یہی وجہ تھی کہ اس لڑائی میں وہ نرائن داس کی نابری کی کھل کے تعریف کرتا ہے۔ اس تناظر میں اس کا یہ ڈھولا پڑھیں۔

”پر ایہہ دین دا جھگڑا کوئی نہ، سکھاں دا دل پئی موہندی ایس دربار ننکانے آلے دی کھٹی
اگلی واریں ڈھولے آہندیاں سکھاں میرے دھکے نال پونا ایں بکھی

اوئے نوری ماہیا توں کیویں کھتری نوں گاؤنا ایں، میں تے نگیں مار چھڈی وچ پنج دریاواں، ایڈی غرقی کسے راٹھ نہ گتھی ”

شاعر: نوری کیمبوکا

پنجاب کی دھرتی پر سانحۂ جلیانوالہ باغ ( 1919ء ) امرتسر میں پیش آیا اور دو سال بعد یہ واقعہ مگر اس واقعے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مہاتما گاندھی، مولانا، شوکت علی، لالہ دونی چند، ڈاکٹر کچلو، ملک لال خاں، سردار ہر چند سنگھ اور سردار پریم سنگھ سکھوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ان کی داد رسی کے لیے ننکانہ صاحب تشریف لائے۔ گاندھی جیسا لیڈر تین مارچ کو ننکانہ صاحب آیا، واقعے کی شدید مذمت کی۔ اس نے اس واقعے کو جنرل ڈائر کا دوسرا ایڈیشن قرار دیا اور اس کے نقصان اور شدت کو سانحۂ جلیانوالہ باغ سے زیادہ وحشی اور ظالم قرار دیا۔ یہ واقعہ جہاں سکھوں پر قیامت خیز زحمت بن کر آیا وہیں ننکانہ شہر کے لیے رحمت بن گیا۔

انگریز جو جنگ آزادی 1857ء کی لڑائی میں اس علاقے کی بہادری سے واقف تھا، اب پھر مذکورہ دونوں واقعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اس کے اقتدار کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو سکتے تھے تو اس نے فوراً ان علاقوں میں اپنا اثر پولیس کے ذریعے مزید بڑھانا شروع کیا۔ ننکانہ صاحب کو اگلے سال یکم اپریل 1922 کو تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ ننکانہ میں اسی سال تھانے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور تحصیلدار کی تعیناتی بھی کر دی گئی۔ گردوارہ کا انتظام سکھوں کے حوالے کر دیا گیا۔

ننکانہ کے لیے انگریز حکومت نے سکھوں کی مشاورت سے ڈویلپمنٹ پلان دیا اور 1925 میں سکھ ایکٹ بھی پاس ہو گیا۔ جس سے سکھوں کا دیرینہ مسئلہ حل ہو گیا۔ اس کے بعد سکھوں کو تمام گردواروں کا انتظام مہنتوں سے واپس لے کر دے دیا گیا۔ اس پلان سے جدید تعلیمی ادارے معرض وجود میں آئے۔ ننکانہ صاحب کا مواصلاتی رابطہ بہتر ہوا۔ اس سارے واقعے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یقیناً بابا گرونانک جن کی شاعری کا بنیادی مرکز و محور انسانیت اور رب کی وحدانیت تھا، اپنی پیدائش کی جگہ پر یہ سب دیکھ کر جس میں انسان ہی انسان کو کاٹ رہا ہے پر یقیناً افسردہ ہوئے ہوں گے۔

نانک نے تو ان گردواروں کی بنیاد انسانیت کی بھلائی اور بہتری کے لیے رکھی تھی مگر یہ خون کی ندیاں، ابلتا کھولتا انسانی گوشت اور وہ بھی ان کی جنم بھومی پر۔ اللہ ہم سب کو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی توفیق دے اور انسانوں کے حقوق کو پورا کرنے کی توفیق عطا کرے۔

آج پھر اس مادی دنیا جہاں پر ہر کوئی نفسا نفسی کی دوڑ میں شریک ہے ، وہاں ہم پھر سے نانک اور رائے بلار کی دوستی اور عقیدت کو مثال بنا کر اپنی زندگیوں کو رواداری، سکھ اور خوشیاں سے بھر سکتے ہیں۔ انسانیت سے بڑا مذہب کوئی نہیں۔ اسی لیے تمام مذاہب کی تعلیمات کا محور انسانیت ہے۔

آئیں سیاست اور مذاہب کے نام پر مادی مفادات کے گٹھ جوڑ سے چاروں طرف جو افراتفری پھیل چکی ہے۔ اسے پیار، محبت اور برداشت سے ختم کریں اور ان انسان دوست ہستیوں کے پیغام کو عام کریں تاکہ ہم پر انسانیت فخر کرے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments