صدام حسین کی بیٹی رغد حسین: ’میرے شوہر کے قتل کا فیصلہ میرے گھر والوں کا تھا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رغد حسین

Getty Images
سنہ 2018 میں رغد صدام حسین کا نام اس وقت کی عراقی حکومت نے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر دیا تھا

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی بڑی بیٹی رغد حسین جب سکول میں پڑھ رہی تھیں تو ان کی شادی ہو گئی۔ تب ان کی عمر صرف 15 سال تھی۔ شادی کے وقت عراق اور ایران کے درمیان جنگ جاری تھی۔ فروری 1996 میں 25 سال کی عمر میں رغد نے اپنے خاندان والوں کے کہنے پر طلاق لی اور طلاق کے دو دن بعد ہی ان کے شوہر کو قتل کر دیا گیا۔

رغد کی شادی صدام حسین کے چچا زاد بھائی حسین کامل الماجد سے ہوئی تھی۔ حسین کامل تب صدام حسین کی حفاظت پر معمور تھے۔ صدام کی دوسری بیٹی رانا صدام کی شادی حسین کامل کے بھائی صدام کامل الماجد سے ہوئی تھی۔

دونوں بیٹیوں کی شادی، طلاق اور پھر ان کے شوہروں کا قتل، ایک دل دکھا دینے والی کہانی ہے۔

سنہ 2018 میں رغد صدام حسین کا نام اس وقت کی عراقی حکومت نے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

رغد صدام حسین نے العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی ذاتی زندگی کی کئی اہم باتیں بتائی ہیں۔ رغد سے پوچھا گیا کہ اس شادی کے لیے کیا ان کے والد صدام حسین نے ان پر دباو ڈالا تھا یا پھر اس میں ان کی مرضی شامل تھی؟

یہ بھی پڑھیے

’صدام کی پھانسی پر امریکی فوجی بھی روئے‘

’صدام صدر رہتے تو آج حالات بہتر ہوتے‘

صدام کا محل اب خاص و عام کے لیے

مرضی کی شادی

جواب میں رغد نے کہا ’میرے والد نے اپنے پانچ میں سے کسی بھی بچے پر شادی کے لیے دباو نہیں ڈالا۔ ان کی بیٹیوں کے لیے اگر کہیں سے رشتے آئے تو انھوں نے ہم سے پوچھا کہ کیا کرنا ہے۔ انھوں نے پوری آزادی دی تھی۔ میں تب نوعمر تھی۔ گرمیوں میں دوپہر کا وقت تھا۔ میرے والد نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کمرے میں آ گئے۔ میں سو رہی تھی، انھوں نے بہت پیار سے مجھے جگایا۔ وہ میرے بستر پر میرے پاس بیٹھ گئے۔‘

’انھوں نے مجھ سے میرا حال چال پوچھا۔ پھر انھوں نے کہا کہ تمہارا ایک عاشق ہے؟ انھوں نے اس کا نام بھی بتا دیا۔‘

رغد نے مزید کہا کہ شادی تو خاندان میں ہی ہونی تھی اس لیے یہ پریشان کن بات نہیں تھی۔

رغد حسین اپنے شوہر حسین کامل الماجد کے ساتھ

Getty Images
رغد کی شادی صدام حسین کے چچا زاد بھائی حسین کامل الماجد سے ہوئی تھی۔ حسین کامل تب صدام حسین کی حفاظت پر معمور تھے

’میرے والد نے کہا کہ تم رشتہ قبول کرنے یا اسے رد کرنے کے لیے آزاد ہو۔ جب وہ یہ ساری باتیں کر رہے تھے تو مجھے شرم آ رہی تھی۔ تب انھوں نے کہا کہ بیٹی تم اپنا فیصلہ اپنی ماں کو بتا دینا۔ حسین کامل الماجد میرے والد کے محافظین میں سے ایک تھے، اس لیے ان کی صدام حسین سے روز ملاقات ہوتی تھی۔ میرے والد باڈی گارڈز کو کھانے پر بلاتے تھے، تو وہ بھی آتے تھے۔‘

’ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے تھے۔ میری والدہ کو اس بارے میں پتا تھا۔ تب میں بچی ہی تھی لیکن پیار جلدی ہی شادی میں تبدیل ہو گیا۔ میں تب سکول میں ہی پڑھتی تھی۔ شادی کے بعد بھی میں نے پڑھائی جاری رکھی اور گریجویشن بھی کی۔ میرے شوہر میری پڑھائی کے حامی نہیں تھے لیکن میں نے پھر بھی اپنی پڑھائی مکمل کی۔ شاید میرے شوہر مجھ سے جلتے تھے۔‘

’عراق میں ان دنوں سکیورٹی کے کوئی مسائل نہیں تھے، اس لیے سکول نہ جانے دینے کی ضد کے پیچھے یہ کوئی وجہ نہیں تھی۔ حالانکہ میرے شوہر مجھ سے پیار کرتے تھے اور میری بہت عزت بھی کرتے تھے۔ وہ میرے والدین کی بھی عزت کرتے تھے۔‘

’والد کی محبت کا کوئی مقابلہ نہیں‘

وہ کہتی ہیں ’میرے والد مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ اس کا مقابلہ کسی سے نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے جتنا پیار دیا، اس کا مقابلہ نہ تو شوہر سے کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی میرے بچوں سے۔‘

رغد نے کہا کہ عراق، ایران جنگ کے دوران وہ چھوٹی تھیں اور سکول میں پڑھتی تھیں۔

اس جنگ سے منسلک اپنی یادوں کے بارے میں انھوں نے بتایا ’تب ہمارا ایک اور گھر تھا، وہاں بھی ہم آ جا سکتے تھے۔ ایک دن میں سکول نہیں گئی کیونکہ شدید بمباری ہوئی تھی۔ فوج کی وردی میں ملبوس میرے والد آئے اور انھوں نے کہا کہ تم سکول کیوں نہیں گئیں؟ میں نے جنگ اور بمباری کے بارے میں بتایا تو ان کا جواب تھا کہ عراق کے باقی بچے بھی سکول جا رہے ہیں۔ تم کو بھی جانا چاھیے۔‘

صدام حسین اور ان کے اہلخانہ

Getty Images
صدام حسین اور ان کے اہلخانہ

’انھوں نے کہا کہ اگر تم سکول جاؤ گی تو سکول میں پڑھنے والے باقی بچوں کی ہمت بڑھے گی۔ تمہیں ان کا بھی خیال رکھنا چاھیے۔ میرے والد چاہتے تھے کہ ہمیں صدام حسین کی اولاد ہونے کی وجہ سے کوئی خصوصی حقوق نہ ملیں۔ میرے بھائیوں کی جانیں تو عراق کی حفاظت کرتے ہوئے ہی گئیں۔‘

رغد نے کہا کہ وہ سیاسی فیصلوں میں شامل نہیں ہوتی تھیں لیکن کئی انسان دوست فیصلوں کا حصہ تھیں۔ رغد نے کہا کہ کئی معاملات میں ان کی اپنے شوہر سے بھی بحث ہوتی تھی۔

شوہر اور والد میں ٹکراؤ

رغد نے اپنے شوہر حسین کامل اور اپنے والد صدام حسین کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کرواہٹ کے بارے میں بھی بات کی۔

انھوں نے کہا ’میں کوئی اکیلی نہیں تھی، جس کا شوہر مارا گیا۔ اس وقت عراق میں بہت بڑی تعداد میں عورتوں نے اپنے مردوں کو کھویا۔ ان میں ان کے شوہر، والد اور بیٹے بھی شامل تھے۔‘

’میرے شوہر سنہ 1995 میں اگست کے مہینے میں اردن گئے۔ انھوں نے جاتے ہوئے مجھ سے رابطہ کیا تھا۔ مجھے لگا کہ اگر وہ یہاں رہیں گے تو خون خرابا ہو گا۔ ایسا خاندان کے اندر ہی ہوتا۔ اس لیے میں نے ان کے عراق چھوڑنے کے فیصلے کی حمایت کی۔‘

’صدام حسین کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے یہ آسان نہیں تھا کہ میں خود دوسرے ملک جا سکوں حالانکہ اردن میں ہمارا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ مجھے غیر ہونے کا احساس کبھی نہیں ہوا لیکن جب ایک پریس کانفرنس کر کے اسے منظر عام پر لایا گیا تو مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہاں کیا بات کہی جائے گی۔‘

اس پریس کانفرنس میں حسین کامل نے صدام حسین کی مخالفت کی تھی۔ حسین کامل نے کہا تھا کہ ان کے اردن آنے سے صدام کی حکومت ہل گئی ہے۔ کامل نے عراق کے فوجیوں سے اقتدار میں تبدیلی کے لیے تیار رہنے کو بھی کہا تھا۔

صدام حسین اپنی بیٹیوں رغد اور رانا کے ساتھ

Getty Images
صدام حسین اپنی بیٹیوں رغد اور رانا کے ساتھ

اردن میں پناہ

حسین کامل الماجد اور ان کے بھائی صدام کامل الماجد سنہ 1995 میں اگست کے مہینے کے دوسرے ہفتے میں عراق چھوڑ کر اردن چلے گئے تھے۔ دونوں بھائیوں کے ساتھ ان کی بیویاں رغد اور رانا بھی تھیں۔ دونوں بھائی اس وقت صدام حسین کے بہت قریب تھے اور فوج کا پورا کام سنبھالتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ عراق کے ہتھیار پروگرام کے پیچھے ان ہی کی قابلیت تھی۔ جب یہ اردن چلے گئے تو ان کے ساتھ عراقی فوج کے 15 اہلکار بھی تھے۔ اردن پہنچنے پر وہاں شاہ حسین نے انھیں پناہ دی تھی اور اس پر صدام حسین خاصے ناراض تھے۔‘

آخر صدام حسین اور حسین کامل کے درمیان پڑنے والی شگاف کی وجہ کیا تھی؟

اس کے جواب میں رغد کہتی ہیں ’میرے شوہر کا ستارا بلند ہو رہا تھا۔ میرے والد کے بعد وہ عراق میں دوسرے نمبر کی حیثیت رکھنے لگے تھے۔ ان کا ایک کردار تھا اور ایسا خاندان سے قریبی تعلق کی وجہ سے تھا۔ ان میں فیصلے کرنے کی صلاحیت تھی۔ ان میں ہر کردار اور ذمہ داری کو ٹھیک سے نبھانے کی ہمت تھی۔‘

’مجھ سے شادی سے پہلے بھی وہ اس معاملے میں آگے بڑھ رہے تھے۔ جب ہماری شادی ہوئی تو حسین کامل خصوصی سکیورٹی کے سربراہ تھے۔ جب ایران سے جنگ ہوئی تو اس میں شامل فوج کے بھی وہ سربراہ تھے۔ اسی فوج پر صدام حسین کی حفاظت کی ذمہ داری تھی۔ ان پر پورے ملک کی حفاظت کی ذمہ داری تھی۔‘

شوہر کے قتل کا فیصلہ میرے گھر والوں کا تھا

حسین کامل سے طلاق کے بارے میں رغد نے کہا کہ حسین عراق چھوڑنے کے بعد حالات کو برداشت نہیں کر پائے اور ایک ماہ میں ہی انھیں اندازہ ہو گیا تھا۔

’طلاق کا فیصلہ فروری 1996 میں عراق لوٹنے کے ایک دن بعد ہی کر لیا گیا تھا۔ میں نے اپنے شوہر سے بات کی اور فیصلہ کیا۔ میرے شوہر بہت افسردہ تھے۔ ان سے لمبی بات ہوئی۔ وہ اتنے دکھی تھے کہ بات کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔ وہاں میرے بھائی بھی موجود تھے اور وہیں طلاق کا فیصلہ ہوا۔‘

اردن سے واپسی کے تین دن بعد ہی حسین کامل الماجد اور ان کے بھائی صدام کامل الماجد کو قتل کر دیا گیا۔ رغد حسین نے انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے شوہر کے قتل کا فیصلہ ان کے گھر والوں کا تھا۔ رغد نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کے شوہر کے قتل میں ان کے بھائی عدی صدام حسین کا بھی کردار تھا۔

رغد کہتی ہیں ’جب میرے شوہر کا قتل ہوا تو میری عمر 25 برس تھی۔ جتنا افسوس ہوا، وہ بتا نہیں سکتی۔ میرے والد کو بھی اس کا احساس تھا اور انھوں نے مجھے سہارا دینے کی کوشش بھی کی۔‘

سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد رغد اردن چلی گئی تھیں اور تب سے وہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17863 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp