لاہور میں کرپٹو کرنسی میں تاوان وصولی کا پہلا مقدمہ، غیر ملکیوں کو لوٹا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سرمایہ کاری کے لیے آنے والے دو غیر ملکی باشندوں کو حال ہی میں بِٹ کوائن کے ذریعے بھاری تاوان دینا پڑ گیا۔ دونوں غیر ملکیوں کا تعلق جرمنی اور سوئٹزر لینڈ سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق دونوں غیر ملکی باشندوں سے لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے بٹ کوائن میں تاوان وصول کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے چھ ہزار تین سو یوروز اور 1.8 بٹ کوائن جو کہ پاکستانی کرنسی میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 47 لاکھ روپے رقم بنتی ہے، کسی اور اکاؤنٹ میں منتقل کرائے ہیں۔

ریس کورس پولیس نے واردات کا مقدمہ اسلام آباد کے رہائشی عطا النور ثاقب کی مدعیت میں درج کیا ہے۔

ایف آئی آر کو خفیہ رکھنے کے لیے سیل کر دیا گیا۔ جب کہ سی آئی اے پولیس حساس اداروں کی معاونت سے ملزمان کا سراغ لگانے میں مصروف ہے۔

پولیس کے مطابق آن لائن کرنسی کی شکل میں تاوان کی وصولی کے کیس میں رانا عرفان محمود اور اس کے نامعلوم ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ ڈکیتی کی واردات ہے جو سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کے شہریوں کے ساتھ پیش آئی ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ میگرون ماریا سپاری اور اسٹیفن نامی سوئس اور جرمن شہری رواں سال 10 فروری کو براستہ ترکی لاہور آئے۔ دونوں غیر ملکیوں کو رانا عرفان نامی شخص نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بلایا تھا۔ پاکستان پہنچنے پر دونوں نے لاہور کے معروف ہوٹل میں قیام کیا۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ رانا عرفان سیر کے لیے دونوں غیر ملکیوں کو ہوٹل کی گاڑی میں اپنے ہمراہ باہر لے گئے۔ راستے میں عرفان نے ہوٹل کی گاڑی واپس بھیج دی جس کے بعد وہ خود الگ گاڑی میں بیٹھ گئے اور اُن دونوں غیر ملکیوں کو ایک اور گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق کچھ دور چلنے کے بعد ویران جگہ پر ایک نیلی لائٹ والی پرائیویٹ گاڑی نے غیر ملکیوں کو روک کر تلاشی لی۔ اِسی دوران دنوں غیر ملکیوں نے مدد کے لیے اپنے میزبان کو ڈھونڈنا چاہا لیکن وہ کہیں نظر نہیں آئے۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک آدمی نے غیر ملکی شہری اسٹیفن کو گاڑی سے نکالا اور کپڑوں پر کوئی پاؤڈر مل دیا جس کے بعد دونوں غیر ملکی شہریوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور نامعلوم مقام پر لے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے دونوں غیر ملکی باشندوں کو منشیات کیس کی دھمکی دے کر ڈرایا کہ پاکستان میں منشیات اسمگلنگ کی سزا موت ہے جس پر اُنہوں نے دونوں سے آن لائن پیسے منگوائے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے 6300 یوروز اور ڈیجیٹل کرنسی 1.8 بٹ کوائن، جو کہ تقریباً ایک کروڑ 47 لاکھ روپے بنتے ہیں، آن لائن کسی اور اکاؤنٹ میں منتقل کرا لیے۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ موقع پر جعلی میڈیا ٹیم نے بلیک میلنگ کی غرض سے ویڈیو بھی بنائی اور دونوں غیر ملکی باشندوں سے مزید 30 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ بصورتِ دیگر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی۔

وائس آف امریکہ نے اِس سلسلے میں پنجاب پولیس کا مؤقف جانے کی کوشش کی تو سی سی پی او لاہور کے ترجمان رانا عارف نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور دو ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں غیر ملکی باشندوں کا پاکستان میں میزبان شخص عرفان محمود سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں اِن سے مل چکا تھا۔

وائس آف امریکہ نے کیس کے مدعی اسلام آباد کے رہائشی عطا النور ثاقب سے رابطہ کیا، لیکن اُنہوں نے بات کرنے سے اجتناب کیا۔

پاکستان میں عام طور پر آن لائن دھوکے کے کیسز کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کرتی ہے جس کے لیے قوانین بھی موجود ہیں۔

ایف آئی اے کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق بٹ کوائن سے متعلق دھوکہ دہی کو صرف ایک ہی صورت میں روکا جا سکتا ہے کہ لوگوں میں لالچ ختم ہو جائے۔

اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ بِٹ کوائن پاکستان میں ابھی تک ایک ناقابلِ شناخت کرنسی ہے۔ اگر کوئی شخص اِس میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو پاکستان کے قوانین کے مطابق وہ جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

ایک مثال سے سمجھاتے ہوئے ایف آئی اے کے افسر نے بتایا کہ یہ بالکل ایسا ہی جیسے کوئی شخص منشیات کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرے تو وہ ایک جرم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بٹ کوائن سے متعلق دوسری چیز یہ ہے کہ لوگ تسلسل سے دھوکہ دہی (فراڈ در فراڈ) کرتے ہیں جو کہ بذاتِ خود ایک جرم ہے۔

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر باسط علوی سمجھتے ہیں کہ بِٹ کوائن کرنسی ہی انکرپٹڈ ہے اِس کا کوئی سَر پیر نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے باسط علوی نے کہا کہ اِس کی ملکیت کو تسلیم کوئی نہیں کر رہا۔ کوئی ملک کہے کہ وہ اِس کرنسی کی ملکیت کی ذمہ داری لیتا ہے۔ یہ ایک ہوا میں اُڑتی ہوئی چیز ہے۔

آئی ٹی ماہر باسط علوی نے بتایا کہ بِٹ کوائن کو اُس وقت دنیا بھر میں توجہ حاصل ہوئی جب اِس میں کم وبیش 15 لاکھ امریکی ڈالر ایلون مسک نے سرمایہ کاری کی جس سے اِس کو اہمیت ملی اور لوگوں کی توجہ اِس طرف مبذول ہوئی۔

ڈپٹی ڈارئریکٹر ایف آئی اے کے مطابق پاکستان میں بِٹ کوائن سے متعلق قوانین نہیں ہیں۔ قانون سازی کی ضرورت ہے۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ اِس کرنسی سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ کیوں کہ دنیا کے چند ممالک میں یہ پیسوں کے لین دین میں استعمال ہوتی ہے۔ اُن کے بقول اِس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سائبر کرائم سے متعلق تو قوانین ہیں۔ لیکن بِٹ کوائن سے متعلق کوئی قانون نہیں ہیں۔ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے مطابق اُن میں سائبر کرائم کا تو ذکر ہے اور قوانین ہیں لیکن بِٹ کوائن سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے۔ قوانین میں بِٹ کوائن، بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک اِس کو تسلیم نہیں کرتا۔

باسط علوی کے مطابق یہ ایک فلوٹنگ ٹائپ کرنسی ہے جو کہ غالباً رقوم کی غیر قانونی طریقے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بِٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی میں لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی ہو سکتی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق پنجاب میں بِٹ کوائن سے تاوان کی رقم وصول کرنے یا دھوکہ دہی کا یہ پہلا کیس ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1255 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply