بھارت میں پہلی بار خاتون کو پھانسی دیے جانے کا امکان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کی ریاست اتر پردیش (یو پی) کے امروہہ ضلع کی رہائشی 36 سالہ شبنم کو اجتماعی قتل کے معاملے میں پھانسی دی جانے والی ہے۔

متھرا کی جیل انتظامیہ کو ڈیتھ وارنٹ کا انتظار ہے۔ اگر شبنم کو پھانسی دی گئی تو آزادی کے بعد بھارت میں کسی خاتون کو پھانسی دینے کا یہ پہلا واقعہ ہو گا۔

شبنم اس وقت بریلی کی جیل میں قید ہیں۔ متھرا کی جیل ایسا واحد قید خانہ ہے جہاں خواتین کو پھانسی دینے کا انتظام ہے۔ یہ پھانسی گھر 150 سال قبل بنایا گیا تھا۔ اس جیل میں پھانسی دینے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔

شبنم نے اپریل 2008 میں ایک شخص سلیم کی معاونت سے اپنے گھر کے سات افراد کا قتل کیا تھا۔

جن لوگوں کو قتل کیا گیا تھا ان میں شبنم کے والد 55 سالہ شوکت علی، والدہ 50 سالہ ہاشمی، بڑا بھائی 35 سالہ انیس، انیس کی اہلیہ 25 سالہ انجم، چھوٹا بھائی 22 سالہ راشد، بھتیجی 14 سالہ رابعہ اور انیس کا 10 ماہ کا بیٹا عرش شامل ہیں۔

شبنم انگریزی اور جغرافیہ میں پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ جب کہ اس واردات کے وقت ایک اسکول میں استاد تھیں۔

رپورٹس کے مطابق شبنم کے والد ان کے سلیم سے تعلقات کے مخالف تھے۔ چھٹی جماعت میں تعلیم چھوڑنے والا سلیم شبنم کے مکان کے سامنے لکڑی کی آرا مشین پر کام کرتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق شبنم نے واردات کی شب سلیم کو بلایا۔ اہل خانہ کو نشہ آور چیز کھلائی۔ بعد ازاں سلیم نے ان کی گردنیں دھڑ سے الگ کر دیں۔ واردات کے وقت شبنم نے مقتولین کے بال پکڑ رکھے تھے۔

واردات کے بعد دونوں فرار ہو گئے تھے۔ پانچ روز کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔ سلیم اس وقت الہ آباد کی نینی سینٹرل جیل میں قید ہے۔

جس وقت اجتماعی قتل کی یہ واردات ہوئی تھا شبنم سات ماہ کے حمل سے تھیں اور جیل میں ان کا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام تاج محمد ہے۔ پانچ سال کی عمر تک تاج محمد جیل میں ماں کے ساتھ تھا اس کے بعد اسے بچوں کے سرکاری مرکز میں بھیج دیا گیا۔

جیل قوانین کے مطابق کوئی بھی قیدی پانچ سال سے بڑے بچے کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔

اجتماعی قتل کے اس معاملے پر پہلے نچلی عدالت میں کیس چلا جہاں سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ تک معاملہ گیا لیکن یہ سزا برقرار رہی۔

شبنم نے ستمبر 2015 میں ریاستی گورنر رام نائک کے سامنے رحم کی درخواست کی کہ اس کے بیٹے کو جان کا خطرہ ہے اس لیے اسے اس کی دیکھ بھال کے لیے معاف کیا جائے۔ لیکن انہوں نے اپیل مسترد کر دی۔

اس کے بعد شبنم نے اگست 2016 میں اس وقت کے صدر پرنب مکھرجی سے رحم کی اپیل کی۔ انہوں نے بھی اپیل مسترد کر دی۔

جنوری 2020 میں سپریم کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے بھی رحم کی درخواست مسترد کی اور سزا برقرار رکھی۔

شبنم کے 12 سالہ بیٹے تاج محمد نے صدر رام ناتھ کووند سے رحم کی اپیل کی ہے اور گزارش کی ہے کہ ان کی والدہ کو معاف کیا جائے۔

ریاستی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شبنم نے تمام قانونی راستے اختیار کر لیے ہیں مگر کہیں سے بھی اسے رعایت نہیں ملی۔ یہاں تک کہ صدر اور عدالت عظمیٰ نے بھی اس کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔

سپریم کورٹ سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد رام پور کے جیل سپرنٹنڈنٹ نے امروہہ سیشن کورٹ سے چھ مارچ 2020 کو درخواست کی تھی کہ شبنم کا ڈیتھ وارنٹ جاری کیا جائے۔

انہوں نے 28 جنوری 2021 کو پھر درخواست بھیجی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عام طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ ڈیتھ وارنٹ کے لیے نہیں لکھتے بلکہ نچلی عدالتیں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے کے بعد وارنٹ جاری کرتی ہیں۔

شبنم کے وکیل شرییا رستوگی نے ایک ویب سائٹ ‘دی پرنٹ’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مرحلے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔

لیکن ایک قانون داں انوپ سریندر ناتھ کا کہنا ہے کہ شبنم کے پاس ابھی مزید قانونی راستے ہیں۔ وہ نظرِ ثانی پٹیشن داخل کر سکتی ہے۔ وہ کیوریٹیو پٹیشن بھی داخل کر سکتی ہیں اور اگر ڈیتھ وارنٹ جاری ہو جائے تو اسے عدالت عظمیٰ میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔

ادھر متھرا جیل میں شبنم کو پھانسی دینے کی تیاری چل رہی ہے۔ نربھیا کے قاتلوں کو پھانسی دینے والے جلاد پون نے متھرا جیل جا کر تیاریوں کا جائزہ لیا ہے۔

بھارت میں ابھی تک سزائے موت پانے والی خواتین کی سزا کو عمر قید میں بدلا جاتا رہا ہے۔ پہلی بار ایسا ہو گا کہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ہو گا۔ 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں 12 خواتین سزائے موت کی منتظر ہیں اور سب کی سب پسماندہ برادریوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1265 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply