No Country for Brave Men

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوئیل کوان اور ایتھن کوان دو بھائی ہیں اور ہم عصر ہالی وڈ میں بڑے ہدایت کار شمار ہوتے ہیں۔ ان کی 2007ء میں بنائی گئی فلم No country for Old Men بظاہر ایک کرائم تھرلر ہے، دھائیں دھائیں برستی گولیاں اور پے در پے گرتی لاشیں مگر مغربی امریکہ کے پھیلے ہوئے صحرائی مناظر میں فلسفے اور نفسیات کی باریک کلیاں گندھی ہیں۔ اس فلم سے آج کا عنوان ہی اخذ نہیں کیا، ایک اہم حوالہ بھی مستعار لینا ہے مگر پہلے اپنے بہادروں کی بات کر لیں۔ مشاہد اللہ خان انتقال کر گئے۔ پاکستان کی سیاست میں اصول پسند، جمہوری جدوجہد کی ایک بڑی آواز خاموش ہو گئی۔

ہماری سیاسی روایت میں بار بار ایسا ہوا کہ متوسط طبقے سے ایک شہری اٹھتا ہے، کتاب پڑھنے والا اور خواب دیکھنے والا۔ تقریر اور تحریر میں مہارت رکھنے والا، دلیل مرتب کرنے والا، اپنے ایقان کی مدھم لو میں تھانوں، عدالتوں اور جیل خانوں کی تاریک راتیں کاٹنے والا۔ برس ہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک نفیس ترشا ہوا عالی دماغ مرتب ہوتا ہے جو تاریخ کی گتھیاں سمجھتا ہے، معاشرت کی نبض پڑھ لیتا ہے، عوام کے دکھ جانتا ہے، طاقتور کے مفادات کا کھیل بھانپتا ہے، لمحہ موجود کا تضاد پہچانتا ہے، راہ کی کٹھنائیاں ہی نہیں دیکھتا، منزلوں کی خبر بھی رکھتا ہے۔ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں اور اگر مل بھی جائے تو دوسری صف میں جگہ ملتی ہے۔ آزمائش کا مرحلہ ہو تو سب سے پہلے قربان کیا جاتا ہے۔ مشاہد اللہ خان اس قبیلے کا کلاسیک نمونہ تھے۔ اکتوبر 99 میں سڑک پر پٹے، اگست 2015ء میں سامنے کی حقیقت بیان کرنے پر کابینہ سے خارج کئے گئے۔ 15 فروری کو سینٹ کا ٹکٹ واپس لینے کی خبر آئی، دو روز بعد جواں مرد نے زندگی کا ٹکٹ واپس کر دیا۔

پاکستان میں ایک بڑی خرابی یہ گزری کہ آزادی کا پروانہ ہماری دہلیز پر پہنچا تو اسے مکتوب الیہ کی بجائے فریق غیر نے اچک لیا۔ مسلم لیگ کی تنظیمی حالت ایسی استوار نہیں تھی کہ قوم کی داد رسی کا مقدمہ لڑ سکتی۔ سہروردی، افتخار الدین، فضل الحق، تمیز الدین اور عبدالرب نشتر ایک ایک کر کے منظر سے ہٹنے لگے۔ لیاقت علی کھٹکتے تھے، انہیں راولپنڈی پہنچا دیا گیا۔ راولپنڈی اور طیارے کا حادثہ، ہماری تاریخ کے دو بنیادی استعارے ہیں۔ جو راولپنڈی سے بچ نکلے، اس کا جہاز جنگ شاہی یا جہلم کی فضاؤں میں گم ہو جاتا ہے۔ راولپنڈی اور فضائی حادثے کے عارض گلگوں پر عدالت کے خال سیاہ سے زیبائی بخشی گئی ہے۔ آنکھ نے جب بھی رستہ چاہا، پہنچی چھت کے جالے تک۔ جادو کے اس جالے سے آئین شکن منجنیق باآسانی گزر جاتی ہے اور سیاسی کارکن کا مقدمہ اٹک جاتا ہے۔

پاکستاں کے لوگوں کی آزمائش سراسر مایوسی کی داستان نہیں، اس میں جگنو اور پروانے کی حکایت متوازی چلی ہے۔ اس میں عبدالغفار خان اور غوث بخش بزنجو کے سلاسل ہیں، گل خان نصیر اور شیخ ایاز کے نغمے ہیں، محمود قصوری اور عاصمہ جہانگیر کے دلائل ہیں، نثار عثمانی کی خبر ہے، مظہر علی خان کا اداریہ ہے، رضا ربانی کی فصاحت ہے اور پرویز رشید کا گداز ہے، حیدر بخش جتوئی کی تنظیم ہے اور فیض احمد فیض کی نظم ہے۔ اسد محمد خان کی ’باسودے کی مریم‘ انتظار حسین کے ’شہر افسوس‘ میں رہتی ہے۔ ممکن ہے کہ ہم سب نے اقبال کو بالاستعیاب نہ پڑھا ہو لیکن اقبال کا ایک مصرع ہماری سات دہائیوں کا مادہ تاریخ قرار پایا ہے، تو شب آفریدی، چراغ آفریدم۔

تین برس قبل یہی فروری کے دن تھے۔ سینٹ کے انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا۔ مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے تجویز دی کہ سینٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کو پھر سے ایوان بالا کی سربراہی کے لئے نامزد کیا جائے تو ان کی غیرمشروط حمایت کی جائے گی۔ محترم زرداری کسی اور ہوا میں تھے۔ اپنے تئیں بلوچستان کا قلعہ فتح کئے بیٹھے تھے۔ پختون خواہ سے سینیٹ کی نشستیں لینے کا ارادہ تھا۔ قرعہ فال صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا کے نام نکلا۔ یہ وہی انتخابات تھے جن میں شفاف لین دین کی وڈیو وزیر اعظم عمران خان کے ایما پر تین برس کی تاخیر سے افشا کی جا رہی ہیں۔ تب رضا ربانی راندہ درگاہ قرار پائے تھے، اب پرویز رشید کو مردود حرم کا اعزاز نصیب ہو رہا ہے۔ ہماری آزادی کی تاریخ مختصر سہی مگر آزادی کی بازیابی کے اوراق روشن ہیں۔

امریکہ کے قومی بیانیے میں Founding Fathers کا تصور بہت عام ہے ۔ وہاں بھی بانیان قوم کی تعداد پر اختلاف ہے، کوئی پانچ بتاتا ہے تو کوئی اس فہرست کو درجن بھر نام بخشتا ہے۔ درویش سوچتا ہے کہ ایک دو صدی بعد ہمارے بانیان قوم کی فہرست کیا ہوگی۔ ایک گروہ قائد اعظم، سہروردی، تمیز الدین اور بھٹو کے نام لے گا۔ شاید دوسری فہرست میں ایوب، یحییٰ، ضیا اور مشرف کے نام ہوں گے۔ اس وقت یہ پیش بینی مشکل نظر آتی ہے۔ No country for Old Men کا آخری مکالمہ دیکھیے۔ بوڑھا شیرف بیل ٹام اپنی بیوی کو گزشتہ رات کا خواب سنا رہا ہے۔

And in the dream I knew that he was goin’ on ahead and he was fixin’ to make a fire somewhere out there in all that dark and all that cold, and I knew that whenever I got there he would be there…

(میں نے دیکھا میرا باپ گہرے اندھیرے اور سخت سردی میں مجھ سے آگے آگے جا رہا تھا۔ اسے میرے لئے اگلی منزل پر آگ روشن کرنا تھی۔ مجھے معلوم تھا میں جہاں بھی جاؤں گا، میرا باپ وہاں موجود ہو گا۔) ہمارا باپ 11 ستمبر 1948 کو آگے نکل گیا تھا۔ ان گنت بہادر بیٹوں کی طرح مشاہد اللہ خان بھی اسی باپ کے قدموں پر رخصت ہوئے ہیں۔ ہماری آزمائش ابھی باقی ہے۔

ایک دیوار کی دوری ہے قفس

توڑ سکتے تو چمن میں ہوتے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply