دفتر خارجہ کی کارکردگی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منگل کو میڈیا پر یہ خبر دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دو روزہ دورے پر قاہرہ پہنچ گئے، انہوں نے مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اور ہم منصب سامح شکری سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا گزشتہ 10 سال سے مصر کے ساتھ تعطل کا شکار تعلقات ازسرنو بحال ہو گئے ہیں۔ ہما رے اکثر وزرائے خارجہ پاکستان میں چند روز ہی گزارتے ہیں اور بیرون ملک مصروفیات میں مگن رہتے ہیں، وہ غیر ملکی دوروں میں ہی خوش رہتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سربراہان مملکت و حکومت اور وزرائے خارجہ ریڈ کارپٹ استقبال کے دلدادہ ہوتے ہیں اور وی وی آئی پی ویلکم، عشائیوں، ظہرانوں اور کانفرنسوں میں بڑی بڑی شخصیات سے ملاقاتوں سے ان کا دل بہلا رہتا ہے اور اندرون ملک جھمیلوں میں پڑنے کے بجائے سیر و تفریح سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں اور تھوڑا سا کام بھی مزے سے ہوجاتا ہے۔ جب امریکہ کے مدبر، نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر اور بعد میں وزیرخارجہ بننے والے ہنری کسنجر نے خارجہ پالیسی میں نئی جہت ڈالی تو اسے شٹل ڈپلومیسی کہا جانے لگا جس پر یہ نکتہ چینی کی جاتی تھی کہ اگر وزیر خارجہ بہت زیادہ سفر کرے گا تو وہ اپنے ملک کی پالیسیوں کے بارے میں فوکس کھو دیتا ہے۔

شاہ محمود قریشی صاحب اپنا ویک اینڈ عمومی طور پر ملتان، کہروڑ پکا، یا جنوبی پنجاب کے کسی علاقے میں ہی گزارتے ہیں اور وہاں میڈیا سے گفتگو بھی ضرور کرتے ہیں۔ اپنے پیشروؤں کی طرح وہ اسلامی دنیا کے دورے کرتے ہیں اور نہ ہی وہ اہم مغربی دارالحکومتوں میں جاتے ہیں۔ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے بھارت کے ساتھ سفارتی دروازے کو تالہ لگ چکا ہے۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے ان کے ساتھ تعلقات اتنے اچھے ہیں کہ قریشی صاحب کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں اور پھر اسلام آباد میں اتنے تھنک ٹینک اور ادارے بن چکے ہیں جن سے قریبا ً روزانہ کی بنیاد پر گائیڈ لائن ملتی رہتی ہے۔

پاکستان کی موجودہ خارجہ پا لیسی کی جہت کے بارے میں یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ ہما رے وزیر اعظم غیر ممالک کی زیادہ سیر پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کی ایک وجہ کووڈ 19 وبا دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے جس میں اب تک تقریباً 24 لاکھ 43 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ تاہم اس وبا کے باوجود دنیا کے کام بند نہیں اور یہ ناگزیر ڈپلومیسی نہ کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ خان صاحب کے پیشرو میاں نواز شریف تو غیر ملکی دوروں کے رسیا تھے، بالخصوص وہ کسی بھی دورے پر آتے یا جاتے ہوئے لندن میں اپنے مشہور زمانہ محل نما ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں ضرور ٹھہرتے تھے۔

ان کے ان پر تعیش دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیل جاری کر کے پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مشین خوب مزے لیتی ہے۔ میاں نواز شریف نے وزارت خارجہ کا قلمدان بھی اپنے پاس رکھا ہوا تھا، خارجہ امور کے حوالے سے سرتاج عزیز کو مشیر اور طارق فاطمی کو معاون خصوصی بنا رکھا تھا اور یہ دونوں شخصیات اختیارات کی جنگ میں مصروف رہتی تھیں۔ جہاں تک شاہ محمود قریشی کا تعلق ہے، وہ گزشتہ عام انتخابات کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے میں دلچسپی رکھتے تھے اور شاید اب بھی ان کا فوکس سفارتکاری کے بجائے اندرونی سیا ست ہے۔

جمعرات کو یہ بات خاصی چونکا دینے والی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان دو روزہ دورے پر اسی ماہ سری لنکا جا رہے ہیں لیکن وہاں پارلیمنٹ سے ان کے خطاب کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سری لنکا کی پارلیمنٹ کو خد شہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اپنی تقریر میں بھارت کی سرکا ر پر کڑی نکتہ چینی کریں گے۔ اس سے یہ آشکار ہوتا ہے کہ ہماری خطے میں بھی اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی کمزور پڑ چکی ہے حالانکہ ماضی میں سری لنکا ہمارا قریبی دوست تھا اور ہمیں حساس معاملات میں اس کا سٹرٹیجک تعاون بھی حاصل رہا۔

افسوسناک بات ہے کہ گزشتہ دور حکومت اور بالخصوص موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے خارجہ پالیسی کا شعبہ کمزور پڑ گیا ہے۔ امریکہ میں جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ آ گئی ہے جوان کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ سے قطعاً ً مختلف ہے لیکن ہمارے وزیر خارجہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ بعض اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور نئے امریکی صدر کی ٹیلی فونک گفتگو بھی نہیں ہو سکی۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، نریندر مودی نے امریکی صدر جو بائیڈن سے بات کی، دونوں لیڈروں نے علاقائی امور اور مشترکہ ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔

دونوں نے آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق تعاون میں اضافہ کرنے سے بھی اتفاق کیا۔ مودی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ”وہ اور صدر بائیڈن قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تئیں عہد بستہ ہیں، دونوں بھارتی بحرالکاہل خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کی خاطر کلیدی شراکت داری کو مستحکم کرنے کے لئے پرامید ہیں“ ۔ امریکہ میں بھارت کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو نے اس رابطے کے حوالے سے کہا دونوں لیڈر اِس بات پر متفق ہیں کہ بھارت اور امریکہ عالمی معیشت کی تعمیر نو کے لئے مل کر کام کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف متحد رہیں گے۔

یہ بات تو درست ہے کہ نریندر مودی نے جس انداز سے مقبوضہ کشمیر میں بالخصوص اور پورے بھارت میں بالعموم مسلمانوں کی نسل کشی کی ہے، اس پس منظر میں دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنا نا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھارت کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں بھی ہما ری حکومت ناکام رہی ہے۔ بھارت بین الاقوامی فورمز پر پنجے جھاڑ کر ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے جیسا کہ ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار۔ ہم افغانستان میں امریکہ کی اتنی خدمت کرنے کے باوجود ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہیں نکل سکے۔

ایک رپورٹ کے مطابق نیٹو عہدیدار نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدے میں طے پانے والی ڈیڈلائن مئی کے بعد بھی افغانستان میں غیر ملکی افواج موجود رہیں گی، اپریل کے اختتام تک اتحادی افواج کا مکمل انخلا نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد طالبان اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان نے امریکا سے امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کر دیا ہے۔ افغان طالبان کے سیاسی کمیشن کے سربراہ ملا برادر نے امریکی عوام کے نام کھلے خط میں لکھا کہ دوحہ میں ہوئی امریکا طالبان ڈیل کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے ، وقت آ گیا ہے پاکستان دوبارہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے میں کردار ادا کرے۔

ملا برادر کا کہنا تھا کہ افغان عوام اسلامی حکومت اور امن و سلامتی کو انٹرا افغان مذاکرات کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا افغانستان میں جنگ کا خاتمہ سب کی ذمہ داری اور مفاد میں ہے، طالبان اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں دیگر فریق بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، امارت اسلامیہ کسی کے داخلی امور میں مداخلت کرتی ہے اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچاتی ہے، ہم کسی کو بھی اپنے ملک کے امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتے، اپنی سرزمین اور ملت کا دفاع ہمارا جائز حق ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑا ہے، ہمارے وزیر خارجہ اس سلگتے ایشو کو چھوڑ کر مصر کا دورہ کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مضبوط اندرونی پالیسیاں بیرونی پالیسیوں کو مستحکم کرنے کے لیے معاون ہوتی ہیں لیکن فی الحال اندرونی پالیسیوں کو جاندار بنانے کی طرف پیشرفت نہیں ہو رہی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے، دفتر خارجہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply