پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ورچول اجلاس 22 فروری سے 25 فروری تک پیرس میں ہو گا، اس اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر یورپین وقت کے مطابق 17 : 30 بجے پریس کانفرنس میں تین روزہ اجلاس کے حوالے سے پریس بریفنگ دیں گے اور مختلف ممالک کو بلیک لسٹ گرے لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے اعلان کریں گے۔ سب سے پہلے ہم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس کے کیا مقاصد ہیں اور کیسے کام کرتا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس میں مختلف ممالک کی نمائندہ تنظیمیں شامل ہیں۔ جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی نظام کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

ادارے کا اجلاس ہر چار ماہ بعد ، یعنی سال میں تین بار ہوتا ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل ہوا۔ واضح رہے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ کسی ملک کو ’زیر نگرانی‘ یعنی گرے لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ ایف اے ٹی ایف کا ایک ذیلی ادارہ ’انٹرنیشل کوآپریشن رویو گروپ‘ یعنی آئی سی آر جی کرتا ہے۔ 2018 میں گرے لسٹ پر ڈالے جانے کے بعد پاکستان کے لیے 27 ٹارگٹ سیٹ کیے گئے تھے۔

گزشتہ فرروی میں ان میں 13 کو مکمل نہ کرنے پر پاکستان کو مزید چار ماہ دیے گئے تھے۔ کورونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان کو مزید وقت مل گیا تھا۔ اکتوبر 2020 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر بڑی حد تک عمل درآمد کیا ہے۔ خصوصی طور پر پاکستانی حکومت کی طرف سے ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے قانون سازی اور عدالتوں کی طرف سے ان قوانین پر عمل درآمد کرتے ہوئے کچھ افراد اور تنظیموں کو سزاؤں جیسے اقدامات قابل تعریف ہیں۔

27 میں سے 21 نکات پر حکومت نے عمل درآمد کیا ہے لیکن چھ نکات پر حکومت پاکستان عمل درآمد نہیں کر سکی۔ جس کے بعد پاکستان کو مزید اقدامات کے لیے مزید چار ماہ دیے گئے۔ اب دوبارہ 22 فروری سے 25 فروری تک اس حوالے سے ورچول اجلاس فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ہیڈ کوارٹر پیرس میں ہونے جا رہا ہے۔ پاکستانی وفد کی طرف سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے اقدامات کی بدولت اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ اس ضمن میں پاکستان کا محتلف مذہبی شدت پسند جماعتوں اور شخصیات کے خلاف کارروائی کرنا، گرفتار کرنا اور سزائیں دینا ہے۔

پاکستانی وفد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر اقدامات اور کچھ قانون سازی کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی کام کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی حکومت نے رواں برس اگست میں ایسے 88 افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا جن کے مبینہ طور پر شدت پسند تنطیموں سے تعلقات تھے۔ ان شدت پسند تنظیموں میں دولت اسلامیہ (داعش) ، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان بھی شامل ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کے مطابق پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمند کر دیے ہیں اور ان تنظیموں سے وابستہ کئی سرکردہ افراد کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی گئی ہیں۔ پاکستان نے ان تنظیموں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی ہیں جن کی نشاندہی ایف اے ٹی ایف نے کی تھی۔ حکومت پنجاب نے جماعت الدعوة، لشکر طیبہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے زیر سایہ چلنے والے اسکولوں، مدارس، اسپتالوں، ایمبولینسز، ڈسپینسریوں، بلڈ بینکس اور لیبارٹریوں سمیت دیگر اداروں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

حکومت کی طرف سے ان اداروں میں ایڈمنسٹریٹرز مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ تمام ادارے اب عملی طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ اسی ضمن میں پارلیمنٹ نے 15 قوانین میں ترمیم کی منظوری بھی دی ہے۔ لیکن ہمارے ذرائع کے مطابق ان تمام اقدامات کے باوجود یورپین ممالک خاص طور پر میزبان ملک فرانس کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کی سفارش کی گئی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے تمام پوائنٹس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو پایا ہے، جس پر یورپ کے دیگر ممالک بھی فرانس کی تائید کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی روک تھام کے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو جون 2021 تک بدستور زیر نگرانی یعنی ’گرے لسٹ‘ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدمات کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے ، ہمیں اس بات کا ادراک ہے اور پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 21 نکات پر عمل کر لیا ہے۔ چھ نکات پر صرف جزوی کام کیا گیا ہے ۔ پاکستان کو تمام نکات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق اب پاکستان کو جون 2021 تک ان تمام سفارشات پر عمل کرنے کا وقت دیا گیا ہے جن پر تاحال کام نہیں ہو سکا اور ہم حکومت پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں ،اگلا اجلاس جون میں ہو گا جس میں پاکستان کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

عالمی سیاست ہمیشہ سے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں اثرانداز رہی ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ہیڈ کوارٹر پیرس میں ہے۔ فرانس کے ساتھ ہمارے سیاسی اور معاشی تعلقات 2011 سے خراب ہیں اور ہر گزرتے سال کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان مزید سرد مہری آتی جا رہی ہے۔ پاکستانی سفارتی حلقے ان تعلقات کی خرابی کا ذمہ دار فرانس اور بھارت کے بڑھتے سیاسی معاشی اور دفاعی معاہدوں کو قرار دیتے ہیں۔ اس وقت پاکستان فرانس تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پچھلے آٹھ مہینوں سے فرانس میں پاکستان کا سفیر تعینات نہیں کیا گیا ہے۔ قائم مقام سفیر سے کام چلایا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے فرانس جیسے اہم ملک میں اپنے موقف کو بہتر طور پر پیش نہیں کیا جا سکا۔ جبکہ پاکستان کے بعض وزراء کی جانب سے بیانات بھی کشیدگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بنے ہیں۔

فرانس یورپین یونین کا ایک اہم ملک ہے اور یورپین یونین اور اقوام متحدہ میں فیصلہ سازی میں اس کا اپنا ایک اہم کردار ہے لیکن ہمارے وزراء کے بیانات خارجہ امور کی حساسیت کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے عوام کو خوش کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس سے پہلے دو ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے پاکستان کی پوزیشن کمزور ہوئی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث مرکزی مجرم عمر شیخ کی سزائے موت کے خاتمے اور فوری رہائی کے حکم پر امریکا اور یورپین ممالک نے تشویش کا اظہار کیا۔

عمر شیخ کو 2002ء میں ڈینیئل پرل کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جبکہ دوسرا واقعہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق رکن احسان اللہ احسان کا نوبل انعام یافتہ بین الاقوامی شہرت کی حامل ملالہ یوسف زئی کو ایک مرتبہ پھر قتل کرنے کی دھمکی ہے۔احسان اللہ احسان کی جانب سے یہ دھمکی ایک ٹویٹ کے ذریعے دی گئی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان نے کئی معصوم افراد اور میرے اوپر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ وہ اب سوشل میڈیا پر لوگوں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی فوج سے سوال کیا تھا کہ ان پر قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص حکام کی حراست سے رہا کیسے ہوا؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے دیے گئے نکات پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی عملی اقدمات کرے کیوں کہ عالمی سیاست ہمیشہ سے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس پر اثرانداز ہوتی رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply