اگلا لاپتا پاکستانی کون ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ آئین شکن کمانڈو مشرف کا دور تھا اور جس وقت میں لاپتا پاکستانیوں کے لیے جدوجہد کرنے والی بہادر خاتون آمنہ مسعود جنجوعہ کا ٹیلی فونک انٹرویو کر رہا تھا تو اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ سید فیصل صالح حیات میرے سامنے ایک فنکشن میں موجود تھے۔ آمنہ مسعود کے اپنے شوہر مسعود جنجوعہ بھی لاپتا پاکستانیوں میں شامل ہیں اور آج تک ان کے بارے کسی بھی قسم کی خبر نہ مل سکی ہے۔ متضاد اطلاعات ہیں کہ وہ افغانستان میں انتقال کر چکے ہیں لیکن آمنہ اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

اس وقت جب میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ”آخر آپ کے شوہر ہی کو کیوں اٹھایا گیا ہے؟ تو اس وقت بھی ان کا یہی کہنا تھا کہ اگر میرے شوہر نے کچھ غلط کیا ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق ان سے سلوک کیا جائے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ کے بیٹے محمد کے ساتھ آمر مشرف کے دور میں نہایت بہیمانہ اور شرمناک سلوک پوری دنیا کے سامنے اس لیے کیا گیا تھا کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کچھ اعلیٰ ترین عہدیداروں کی رہائش گاہوں کا رخ کرنے والے تھے اور اس پر ان کو سبق سکھانے کے لیے ایسا کیا گیا تھا۔

اب ہم کچھ عرصہ سے آمنہ مسعود جنجوعہ کو زیادہ متحرک نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آواز میں کبھی موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی آواز ملایا کرتے تھے لیکن اب وہ بھولے سے بھی لاپتا پاکستانیوں کا تذکرہ نہیں کرتے ہیں۔ یہ یقیناً افسوس ناک بات ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر مریم نواز شریف اس مسئلے کے لیے نہایت جرأت سے بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ریاست کے کل پرزوں کو بھی اس مسئلے کی سنگینی سے جڑے معاملات کو کسی وقت بیٹھ کر بغور ضرور دیکھنا چاہیے کہ بعض اوقات ننھی منی چنگاریاں سب کچھ جلا کر بھسم کر دیتی ہیں اور بڑھتی نفرتیں ریاستوں کے وجود کے لیے ٹائم بم سے کم نہیں ہوتی ہیں۔

بلوچستان میں یہ مسئلہ جس شدت سے پیدا ہو چکا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر اندرون و بیرون ملک پاکستان میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف ریاست کی منہ زوریوں کے قصے کہانیاں سنائے جاتے ہیں۔ اس سے ملک و قوم کا امیج بری طرح برباد ہوتا نظر آتا ہے اور انٹرنیشنل میڈیا ماما قدیر، فرزانہ بلوچ، حربیار مری اور براہمداغ بگٹی کے بیانات و انٹرویوز کو وقتاً فوقتاً سنا کر پاکستان کے لیے خاصی مشکلات کھڑی کرنے کی جو کوشش کرتا ہے ، اس کا تدارک اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ریاست کے ذمہ داران ’ماں جیسی ریاستُ کا صرف نعرہ ہی نہ لگائیں بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی دیں اور جو جائز تحفظات یا شکایات ہیں انہیں فی الفور دور کیا جائے اور ریاست کے جو منہ زور اہلکار ہیں ، انہیں سختی سے ایسی غیر قانونی کارروائیوں سے روکا جائے۔

یہ عظیم انسانی المیہ بھی بنتا جا رہا ہے ، الزام لگانے والے عناصر لاپتا پاکستانی شہریوں کی تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں جو کہ ایک تشویش ناک پہلو ہے۔ فاٹا اور سندھ سے بھی ایسی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اور ابھی چند ماہ قبل سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کے ساتھ بھی قانون سے ماوراء جو حرکت کی گئی وہ بھی سب کے سامنے آ چکی ہے اور اس سے کسی ادارے کی نیک نامی میں اضافہ تو نہ ہوا ہو گا؟

شکر ہے کہ آرمی چیف قمر باجوہ نے اس مسئلے کی سنگینی کا فی الفور ادراک کرتے ہوئے جہاں سندھ سرکار، پولیس اور پنجاب کے مقبول ترین لیڈر کے گھرانے کے فرد سے زیادتی پر ایکشن لیا ، وہیں باقاعدہ اپنے ان عناصر کو بھی عہدوں سے ہٹانے میں دیر نہ کی جو کہ اس واقعے میں ملوث تھے۔ اگر یہی تیزی بلوچستان، سندھ اور فاٹا وغیرہ کے لاپتا لوگوں کے حوالے سے دکھائی جائے تو یقینی طور پر کچھ اداروں پر اٹھتے سخت اور سنگین سوالات کے جواب بھی مل سکتے ہیں اور ملک و قوم کی بدنامی بھی کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے لیکن کیا یہ کرنے کا حوصلہ کیا جائے گا؟

کچھ شواہد بتاتے ہیں کہ ہمارے اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ ٹیڑھی دم ہی کی طرح رہنے اور جینے پر مصر ہیں ، وہ کبھی رانا ثناء اللہ کو اٹھا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور کبھی عمر چیمہ کو اور پھر آگے بڑھ کر مطیع اللہ جان کے ساتھ بھی ناروا سلوک کرنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ ہر جگہ مداخلت ان کی عادت بن چکی ہے۔

کسی کو یاد ہے چودھری شجاعت نے ق لیگ کو زبردستی توڑنے پر آرمی چیف کیانی کو ایک ادارے کے سربراہ کی شکایت بھی کی تھی۔ ہم جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل پاشا کا نام ایسی ہی سیاسی مداخلتوں کے حوالے سے خاصا سنتے رہے ہیں۔ دھرنوں میں بھی کچھ اداروں کے لوگوں کے نام گونجتے رہے ہیں اور اب بھی تمام اپوزیشن لیڈرز جب ”سلیکٹرز“ کا آوازہ کستے ہیں تو دل بے اختیار چند نام لینے پر مجبور ہو جاتا ہے تو کیا ایک جمہوری ملک میں یہ روش اور مشق جاری رہے گی؟ جناح نے پاکستان کیا ایسے ہی غیر جمہوری اقدامات کی تجربہ گاہ کے لیے بنایا تھا؟

جب ملک میں ایک آئین ہے تو پھر اس کی پیروی کیوں نہیں کی جاتی ہے؟ نظریۂ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر کے آئین و قانون کی بالادستی کا دیرینہ خواب کیوں پورا نہیں ہونے دیا جاتا ہے؟ کب تک مولوی مشتاق، حمید ڈوگر اور ثاقب نثار جیسے لوگوں سے ہم ملک و قوم کو رسوا کراتے رہیں گے؟ یہ سلسلہ کہیں رکنا بھی ہے؟

اگر ایسے ہی ملک چلانا ہے تو پھر یہ سوچنے کے لیے زیادہ دماغ کھپانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگلا لاپتا پاکستانی کون ہو گ، وہ آپ بھی ہو سکتے ہیں اور وہ میں بھی ہو سکتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply