جنگلی حیات کے علاقے پر انسانوں کا قبضہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمین وسعتوں کی جگہ ہے،اتنی وسعتیں کہ ابھی کئی علاقے انسانی قدموں تلے نہیں آئے لیکن حجم ہی سب کچھ نہیں‘ اس وسعتوں کی حامل زمین کا سب سے قیمتی جوہر ماحول ہے جو بگڑتا جا رہا ہے۔ کرہ ارض پر موجود جنگلی حیات کے ٹھکانے ختم ہو رہے ہیں‘85فیصد جانداروں کی نسلیں معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ماحول کا بگاڑ جنگلات کی کٹائی اور انسانی آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے سبب بڑھ رہا ہے۔ جانداروں کی ہر نسل کو ایک ایسے مخصوص ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے پناہ اور خوراک کے ساتھ ساتھ اپنی جنس کے دوسرے جانداروں کا ساتھ فراہم کر سکے۔ جو جانور آج پیدا ہو رہے ہیں ان کے لئے وہ قدرتی ماحول موجود نہیں رہا جو ان کی پہلی نسلوں کو میسر تھا۔ قدرتی پناہ گاہیں ختم ہونے کی وجہ سے جانوروں کو افزائش نسل کا موقع نہیں مل رہا‘ ان کو بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں اور بعض جانوروں کا انسانوں سے ٹکرائو ناخوشگوار واقعات کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم تاریخ کے اس عہد میں ہیں جس میں جانوروں کی بہت سی اقسام اور نسلیں ختم ہو رہی ہیں۔اس کی بڑی وجہ آبادیوں کے قریب ایکوسسٹم والی کھلی جگہوں کی کمی ہے۔ زمین لاکھوں برسوں کے دوران کئی بار آفات کو بھگت چکی ہے لیکن انسانی تاریخ کی یہ پہلی تباہی ہے جس کی خود انسان پرورش کر رہا ہے۔ ایک سینگ والے گینڈے، ببرشیر‘شیل فش اور سریلی آواز والے پرندے ختم ہو رہے ہیں۔ ان کو بچانے کے لئے جنگلی حیات کے بچائو کے عالمی فنڈ WWFکے علاوہ پاکستان کے لوگوں کو بھی اپنے جنگلی جانور بچانے کی کوشش کرنا ہو گی۔
ماہرین کہہ رہے ہیں کہ مزید تباہی سے بچنے کے لئے لازم ہے کہ ہم حیاتیاتی تنوع کو خراب ہونے سے بچائیں‘ ہمیں اپنی زمین کا نصف حصہ جنگلی حیات کے لئے وقف کرنا ہو گا‘ ممکن ہے یہ ایک ناممکن قربانی محسوس ہو لیکن غور کریں تو یہ ہمارے لئے ایک کارآمد موقع ہے۔ آدھی زمین انسانوں کی اور آدھی باقی مخلوق کی۔ زمین نہ ملنے سے آدھی زمین ملنا گھاٹے کا سودا نہیں‘ معروف ماہر حیاتیات ای او ولسن اپنی کتاب میں ہاف ارتھ کے تصور کو تفصیل کے ساتھ زیر بحث لائے ہیں۔
نوے کے عشرے میں پاکستان میں موٹر وے بنی۔ اب کئی علاقوں کو موٹر ویز کے ذریعے رسائی دیدی گئی ہے۔ یہ کھلی شاہراہیں ایسے علاقوں سے گزر رہی ہیں جہاں کئی طرح کے رینگنے والے جانور‘ پرندے ،درندے اور چرندے پائے جاتے ہیں۔ ہو یہ رہا ہے کہ موٹر ویز کی وجہ سے جنگلی حیات کے ٹھکانے اور پناہ گاہیں ختم ہوئیں‘ کئی علاقوں میں موٹر ویز نے انسانوں کی طرح جانوروں کی آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک جانب والے جنگلی جانور موٹر وے عبور کر کے دوسری طرف کے کھلے علاقے میں خوراک‘ پناہ یا ساتھی کی تلاش میں جانے سے قاصر ہیں۔
میرا دوست عامر نصراللہ دو عشروں سے کینیڈا میں مقیم ہے وہ بتا رہا تھا کہ اس کے گھر کے قریب بارہ سنگھے ‘ ہرن اور ریچھ گشت کرتے رہتے ہیں۔ عامر اچھا شکاری ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ لائسنس اور اجازت کے بغیر وہ کسی جانور کا شکار نہیں کر سکتا چاہے وہ اس کے گھر کے لان میں گھس آنے والا ہرن ہو یا مرغابی ہی کیوں نہ ہو۔ کینیڈا میں موٹر ویز یا واٹر ویز پر جگہ جگہ جانوروں کے لئے ایسے پل بنا دیے گئے ہیں جن کے ذریعے وہ ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف بنا کسی ڈر اور خوف کے جا سکتے ہیں۔
امریکہ اور یورپ میں وائلڈ لائف کوریڈور کو جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے اہمیت دی جا رہی ہے۔ درجہ حرارت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ جانوروں کو موزوں ماحول کی تلاش میں سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ راوی کے کنارے شہر آباد ہو رہا ہے۔ ایک کنارہ پہلے ہی اہل لاہور نے قبضے میں لے لیا ہے۔ اب جو جنگلی جانور اور پرندے راوی کے بیلے میں نسل کشی کیا کرتے تھے وہ اپنی جان بچانے کے لئے اگر چناب کے کناروں کی طرف جائیں تو درمیان میں کتنے شہر‘ گائوں‘ سڑکیں اور نہریں ان کا راستہ روکیں گے۔
یورپ ہوتا تو لوگ اس کا کوئی جنگلی کوریڈور بنا دیتے، جابجا پل بنا دیتے۔ پاکستان میں جانوروں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے گروپ اور تنظیمیں کم کم سرگرم ہیں۔ جس طرح لوگوں کو شجر کاری کی ترغیب دی گئی ایسے ہی جنگلی حیات کے تحفظ اور بقا کے لئے کام کرنے اورآگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے‘ ابتدائی طور پر مقامی جنگلی حیات کی تصاویر پر مبنی نمائش کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ اس سے لوگوں کو ان کی نسل اور ایکوسسٹم میں ان کی اہمیت کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے گی۔
وطن عزیز میں گلگت بلتستان‘ چولستان‘ پوٹھو ہار کے غیر آباد علاقے‘ دریائوں کے کنا رے‘کچے کے علاقے اور سمندر کے قریب واقع مقامات جنگلی حیات کا مسکن ہیں۔ ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر پناہ گاہیں بنانے کی ضرورت ہے‘ وہ بڑے زمیندار جو ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک ہیں وہ پرائیویٹ پناہ گاہ بنا سکتے ہیں‘ حکومت سرکاری زمینوں پر لگے جنگلات کو جنگلی حیات کے لئے محفوظ ٹھکانہ قرار دے سکتی ہے۔
آزاد کشمیر اور مری کے علاقوں میں کالا ریچھ‘ چیتے‘ لومڑیاں‘ سُور‘سرخاب اور کوئل موجود ہے،لاہور میں نیل کنٹھ،ہدہد،ہرا طوطا، مینا‘ نیلی چڑیا‘ سیوں چڑی‘ معدوم ہو رہے ہیں۔ جانور زمین کی زندگی ہیں‘ ان کو ٹھکانے فراہم کر دیئے جائیں تو زمین کی وسعتیں انسان کو پناہ دینے کوتیار ہو جائیں گی۔
بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply