جمہوری اصلاحات کا پیکیج درکا رہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ الیکشن کو بازیچۂ اطفال بنادیا گیا ۔ کون نہیں جانتا یا مانتا کہ سینیٹ کے الیکشن عمومی طور پر پیسہ کا کھیل بن چکا ہے۔ محض گزشتہ الیکشن ہی میں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے ضمیر نہیں بیچے بلکہ یہ سلسلہ کئی عشروں سے سرکاری چھتر سایہ میں جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تین برس قبل انکشافات کرکے بھانڈا پھوڑا توسیاسی منظرنامہ پر کچھ ارتعاش پیدا ہوا۔ خان کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں روپے پیسے کا لین دین نہ ہو اور سیاسی جماعتیں اپنی مرضی اور میرٹ پر سینیٹ کے ٹکٹ جاری کریں۔

افسوس! حزب اختلاف نے اس ایشو پر قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے بجائے اس مسئلہ کو خالصتاً گروہی نقطہ نظر سے دیکھا ۔ پارٹی مفادات اور تعصب سے وہ اوپر نہ آٹھ سکی حالانکہ وہ ماضی سینیٹ الیکشن کے نظام میں اصلاح کا تکرار کرتے رہے ہیں۔اسی کو کہتے ہیں میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو۔ گیارہ یا بارہ جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا خیال ہے کہ وہ مشترکہ طورپر پی ٹی آئی امیدواران کو سینیٹ الیکشن میں شکست دے سکتے ہیں۔علاوہ ازیں انہیں یہ یقین ہے کہ بکاؤ مال کی مدد سے وہ سینیٹ میں عددی برتری بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔پی ڈی ایم والوں کو کوئی سمجھائے کہ سینیٹ میں عددی برتری سے زیادہ سیاست میں اخلاقی برتری کی اہمیت ہوتی ہے۔

یہ تاثر ہی ہوتاہے جو سیاستدانوں اور جماعتوں کا اعتبار قائم کرتاہے یا ان کی ساکھ تباہ کردیتا ہے۔ محبت اور نفرت میں سب کچھ جائز کا فارمولہ رائے عامہ قبول نہیں کرتی بالخصوص ایک ایسے عہد میںمعاشرے کا ایک بہت بڑا طبقہ سیاسی حرکیات پر گہری نظر رکھتاہو اور سوشل میڈیا اسے پل پل کی خبریں اور تبصرے بھی فراہم کرتاہو۔ دنیا بھر میں جمہوری نظام کو ہماری طرح کے بے شمار مسائل درپیش رہے ہیں لیکن الیکشن ریفارمز کی شکل میں ان ممالک اور معاشروں کی اجتماعی دانش بروئے کار آئی ۔

جو نظام ناکام ہوا اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال کرنیا نظام متعارف کرایا گیا۔ تجربات پہ تجربات کیے گئے کیونکہ انسانی مزاج او رذہن مسلسل بہتر سے بہتر کی جستجو میں رہتاہے۔امریکہ میں سینیٹ کا الیکشن براہ راست ہوتاہے۔ کئی ممالک میں متناسب نمائندگی کا اصول بھی اپنایا گیا۔ سینیٹ میں نشستیں ہر جماعت کو صوبائی اسمبلیوں میںملنے والی نشستوں کے تناسب سے الاٹ کردی جاتی ہیں۔ جماعتیں اپنی ترجیحات کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرادیتی ہیں۔

اس طرح سیاسی جماعتوں کی گرفت زیادہ مضبوط ہوتی ہے اور سینیٹرز آزادی اور بغیر کسی دباؤکے قومی معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سارے قارئین سینیٹ کو برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈ کی طرح کا ادارہ تصور کرتے ہیں جو معمر سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کی عزت افزائی یا وقت گزاری کے لیے قائم کیا گیا ۔

سینیٹ کا ادارہ چاروں صوبوں کے مفادات کا نگہبان ہے اور ترجمان بھی۔ کوئی بھی قانون سینیٹ کی منظوری کے بغیر دن کا سورج نہیں دیکھ سکتا۔چونکہ قومی اسمبلی میں نمائندگی آبادی کی بنیاد پر دی جاتی ہے لہٰذا جن صوبوں کی آباد ی زیادہ ہے وہ قومی اسمبلی پر چھا جاتے ہیں اور ایسی قانون سازی کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں جو چھوٹے صوبوں کے مفادات کے مغائر ہو ۔چنانچہ سینیٹ میں تمام صوبوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے تاکہ وہ صوبائی حقوق کا تحفظ کرسکیں۔

اگر سینیٹ میں منتخب ہونے والے افراد پیسے کی بنیادپر نشست حاصل کریں گے تو پھر وہ صوبائی مفادات کی نگہبانی کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیں گے۔ اس طرح سینیٹ کا مقصد وجود ہی فوت ہوجاتا ہے۔ پاکستان کی طرح کے ترقی پذیرممالک میں چونکہ جمہوریت ابھی پوری طرح جڑیں نہیں پکڑ سکی لہٰذا الیکشن اصلاحات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیداکرنا دشوار ہوتاہے۔ حالانکہ الیکشن کے نظام میںا صلاحات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔

پاکستان میں چونکہ طویل عرصہ تک غیر جمہوری قوتیں برسراقتدار رہی ہیں لہٰذا مضبوط جمہوری روایات پنپ نہیں سکیں۔ عمومی طور پر جمہوری ممالک میں حکومت اور اپوزیشن قومی ایشوز پر متفقہ موقف اپناتے ہیں۔ قومی ضروریات کے مطابق آئینی ترامیم بھی کرتے ہیں اور الیکشن کے نظام میں اصلاعات بھی۔ 1973کا آئین اس کی بہترین مثال ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تمام جماعتوں کی مشاورت سے یہ آئین منظور کرایا۔ ہفتوں تک ایک ایک شق پر بحث ومباحثہ ہوا ۔ حالانکہ انہیں مشاورت اور مذاکرات کے پاپڑ بیلنے کی چنداں ضرورت نہ تھی لیکن انہیں معلوم تھا کہ سیاسی اتفاق رائے ہی وہ واحد راستہ ہے جو آئین یا کسی بھی دستاویزکو عوامی تقد س عطا کرتاہے۔

سترکی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے بیک جنبش قلم تمام بڑی صنعتوں ، بینکوں اور تعلیمی اداروں کو قومیا لیا تو اکثر سرمایاکار نقل مکانی کر گئے یا پھر انہوں نے سیاست میں آنے پنچہ آزمائی کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے کاروبار ی مفادات کو تحفظ دے سکیں۔جنرل ضیا ء الحق کے مارشل لا ء میں سیاست اور کاروبار کے درمیان ایک غیر فطری گٹھ جوڑ قائم ہوا۔1985کے غیر جماعتی الیکشن نے سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کے نظم وضبط کے تابوت پر آخری کیل ٹھونکی۔

بڑے بڑے سیاسی جغادری اپنی جماعتیں چھوڑ کر غیر جماعتی الیکشن میںکود پڑے۔ کامیابی کے لیے روپیہ پانی کی طرح بہایاگیا۔ سیاسی کارکنوںکی جگہ منیجنگ ڈائریکٹرز نے لے لی۔ سیاسی مہم چلانے کے لیے سیاسی کارکن دستیاب نہیں تھے لہٰذا اشتہاری کمپنیوں کی بامعاوضہ خدمات حاصل کی جانے لگیں۔سیاسی کارکن اور لیڈر جماعتوںیا لیڈرشپ کے وفادار ہونے اور ان سے ہدایت لینے کے بجائے مقتدر قوتوں کے چشم ابرو کے منتظر ہوگئے۔سیاست کھیل تماشہ بن کر بے آبرو ہوگئی اور معزز خاندانوں نے اس پیشہ کا انتخاب ترک کردیا۔

شہری تو پہلے ہی اس کھیل سے باہر ہوچکے تھے۔ بدقسمتی سے اس دوران بلدیاتی الیکشن کا عمل بھی روک دیا گیا تاکہ متوسط طبقے کے لیے سیاست کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند کردیا جائے۔ سیاست اور کاروبار کے اس گٹھ جوڑ نے سیاست کی اخلاقی اور نظریاتی بنیادیں ہلا دیں۔ نظریات اوراصول کی بات کرنے والے معاشرے میں اچھوت بن گئے۔ اس سلسلے کو کہیں تو بریک لگانا ہوگی ورنہ موجودہ جمہوری نظام جس کی جڑیں پہلے ہی دیمک زدہ اور چہرے آسیب زدہ ہے ، دھڑام سے زمین بوس ہوجائے گا۔

جمہوری نظام کو بچانے ، اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور معاشرے میں اس کی ساکھ بہتر بنانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ معیشت، کرپشن سے پاک سیاسی نظام، پولیس اصلاحات، صوبائی حکومتوں کے اختیارات کے دائرہ کار جیسے ادق مسائل پر وسیع البنیاد بحث ومباحثہ اور پارلیمانی جماعتوںکے درمیان اتفاق رائے پیداکیاجائے تاکہ حکومتوں کے ادل بدل سے پالیسیوں کا تسلسل متاثر نہ ہو۔ مکرر عرض ہے کہ جمہوری نظام کی مضبوطی ، بہتری اور عام شہریوں کی شرکت کو ممکن بنانے کے لیے اصلاحات کا ایک پیکیج متعارف کرایا جائے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 167 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood

Leave a Reply