پردیس سے ایک سہیلی کا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیاری ملیحہ!

یقیناً تم اس وقت کوئی تحریر نہ پڑھ سکو گی، اور پڑھ بھی کیسے سکتی ہو؟ جب باپ جیسا سائبان سر سے اٹھے تو کچھ روز کے لیے آنکھیں غم کی دھوپ سے چندھیا جاتی ہیں۔ اور تم یہ جانتی ہو کہ یہ میں کیوں کہہ رہی ہوں، کیوں کہ میں اس صدمے سے گزر چکی ہوں۔ تب تم آئیں تھیں مجھ سے ملنے، کیوں کہ میں اسی شہر مہرباں میں تھی جہاں میں نے آنکھ کھولی، اپنی عمر کا بہترین حصہ تم جیسی پر خلوص سہیلیوں کے ساتھ گزارا اور پھر ایک دن وہاں سے ایسے رخصت ہوئی جیسے کوئی جڑوں سمیت کسی پیڑ کو اٹھا کر کہیں اور لگا دے۔ ایسا پیڑ کہاں پنپتا ہے بھلا؟

تم نے مجھے گلے لگا کر تسلی بھی دی تھی، دلاسا بھی دیا تھا اور رونے کے لیے کندھا بھی دیا تھا۔ دوست یہی تو کرتے ہیں۔ مگر میں یہ بھی نہ کر سکی۔ میں آج تم سے ہزاروں میل دور اس شہر بے مہر میں بیٹھی ہوں جہاں میری جڑوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی زمین میں رستے بنا لیے کیونکہ مجھے زندہ تو رہنا تھا ناں۔ اپنی شاخوں پر بیٹھے ان ننھے منے پرندوں کے لیے جن کے پروں کی مضبوطی میری جڑوں سے جڑی ہے۔

میں تب بھی یہیں تھی جب میری ماں کے سر سے محبت کا وہ سائبان اٹھا تھا جس کی کہانیوں اور کہاوتوں کے سائے میں ہم بڑے ہوئے۔ میں یہیں تھی جب میری ماں نے مجھے بتایا کہ نانی بہت بیمار ہیں اب امید کم ہی ہے۔ لیکن میں ان کے پاس نہ آسکی۔ اور پھر ایک روز نانی اماں بھی راہی ملک عدم ہوئیں۔ میں اپنی ماں، خالہ اور ماموؤں سے فون پر ایک کھوکھلی سی لفظی تعزیت ہی کر سکی۔ نہ کسی کے سینے سے لگ کر روئی نہ کسی کا ہاتھ تھام کر اسے حوصلہ دیا۔ نہ اپنی ماں کو یہ کہہ سکی کہ پیاری ماں حوصلہ کرو، مجھے علم ہے کہ ماں کیا ہوتی ہے کتنی پیاری ہوتی ہے، اور اس سے دور رہنا کتنا دشوار۔

پیاری دوست! میں تب بھی یہیں تھی جب میری پھوپھی اور پھر آخری چچا بھی راہیٔ ملک عدم ہوئے۔ میں نے اپنے مہرباں باپ کی ہر پرچھائیں کھو دی لیکن ان سب کا آخری دیدار نہ کر سکی، نہ ہی اپنے باپ سے مانوس وہ لمس محسوس کر سکی۔ کتنے رشتے دار دنیا سے ہمیشہ کے لئے منہ موڑ گئے لیکن میں ان کا منہ نہ دیکھ سکی۔ میں اتنی پرائی ہو گئی کہ نہ اپنوں کے کسی دکھ میں شریک ہو سکی نہ سکھ میں، نہ غم میں نہ خوشی میں۔

خوشیوں کا کیا ہے، ہر کچھ عرصے بعد ڈاک سے ایک کارڈ یا فون پر ایک سندیس آ جاتا ہے، لیکن بھلا ہو اس انٹرنیٹ اور موبائل فون کا جس نے مجھے زندہ رکھا ہوا ہے، ورنہ میں تو اپنے گھر والوں اور دوست احباب کے لیے مر ہی چکی ہوتی۔ اب تو سب کی تصاویر، ویڈیوز اور لمحہ لمحہ کی خبر مل ہی جاتی ہے۔

اور ویسے بھی ہر شادی پر میرے نہ آنے کا سن کر میری ماں کی تسلیاں کہ تمہیں تو شادیوں سے انس ہی نہیں تھا، نہ ناچ گانے سے سروکار،  تمہارا تو زیور گہنا بھی پردے میں چھپ جاتا ہے، کیا کرو گی آکر؟ ”اب ماں سے بھلا کیا کہتی کہ سازوں کی دھمک پر صرف جسم ہی نہیں کبھی دل بھی خوش ہو کر جھومتے ہیں، سر اور تال آواز کا نہیں احساس کا نام ہے جو اپنوں کی مسرت دیکھ کر خود ہی کانوں میں پھوٹ پڑتا ہے۔ سب نے گہنے پہنے ہوں تو انسان کا باطن سنور جاتا ہے چاہے ان کی نمائش ہو یا نہ ہو، ماں یہ سب باتیں جانتی ہی ہو گی۔ ماں تو سب کچھ جانتی ہی ہے۔

خیر میں بھی کیا ذکر لے کر بیٹھ گئی، مجھے تو تمہارا دکھ بانٹنا تھا تمہیں مزید دکھ نہیں دینا تھا۔ یہاں میرے اپنے نہ سہی، لیکن اتنے پرائے بھی نہیں۔ خون کے رشتے نہ سہی، کچھ محبت اور خلوص کے رشتے ضرور بن گئے جو وقت ضرورت کام آ جاتے ہیں۔ یہ نفیس سبزہ زار، ستھری آب و ہوا، قرینے سے بنے مکان اور خوبصورت پہاڑ کچھ دن تو جی بہلاتے ہیں پھر دل ہے کہ اپنے شہر کے ساحل اور نمکین ہواؤں کی طرف کھنچ جاتا ہے جس کی خاک آلود سڑکوں پر ہم نے زمانے کے سرد و گرم دیکھے۔

ایک بیکراں اداسی ہے اس دھند آلود شہر میں جو مٹتی ہی نہیں۔ کوئی موقع ہو کوئی تہوار ہو، تنہائی کا آسیب ڈیرہ ڈالے رکھتا ہے۔ اور ایسے میں، میں بھول بھی جاتی تو عید اور سالگرہ پر سب سے پہلے تمہارا پیغام ملتا اور دل سرشار ہو جاتا کہ کوئی تو ہے جس کے لیے میرا ہونا آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جس نے شہر سے جانے کے باوجود شہر دل کو میری یاد سے آباد رکھا ہے۔

میری پیاری دوست، تمہیں اس مشکل وقت میں کیا نصیحت کروں کہ تم تو خود بہت مضبوط اور حوصلہ مند ہو۔ جس کے ساتھ نے ہمیشہ مجھے تقویت ہی دی۔

کاش میں وہاں ہوتی تو چپ چاپ تمہارے پاس تب تک بیٹھی رہتی جب تک تمہاری آنکھوں سے گرتے آنسو خشک نہ ہو جاتے۔ جب تک یقین نہ ہو جاتا کہ اب میں نے یہ غم بانٹ لیا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ تمہارے والد بہت مسرور اور مطمئن ہوں گے کیونکہ ان کی اولاد بہت باہمت اور محبت کرنے والی ہے۔ ماں باپ بھلائے تو نہیں جاتے (روح کا کوئی رشتہ بھی بھلایا نہیں جاتا) بس وقت ان زخموں سے رستی ہوئی یادوں پر برف کی سل بن کر وقتی آرام پہنچا دیتا ہے۔ سو دعا ہے کہ رب تم سب کو بھی آرام پہنچائے۔ ہم سب کو ایک روز وہاں لوٹنا ہی ہے، جلد یا بدیر، آؤ مل کر دعا کرتے ہیں کہ ہم جب بھی انہیں ملیں بہترین حالت میں ملیں۔

تمہاری پردیسی سہیلی
ربیکہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply