ڈیزی جانسن کا ریڈیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکڑیوں کا ساتواں گٹھا اپنے بوسیدہ فورڈ ٹرک میں لاد کر ڈیزی نے سوچا کہ کیا آج بھی یہ اسے صحیح سلامت گھر پہنچا دے گا۔ خوامخواہ کی خودداری اگر اس کے آڑے نہ آئے تو اس کا امیر باپ اس کو نیا ٹرک لے کر دینے کو تیار تھا۔ مگر اسے یہ بالکل پسند نہ تھا کہ کوئی اس سے ننھی شہزادی کی طرح لاڈ کرے، خواہ وہ اس کا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ اسے جنگل کے مغربی حصے سے نکل کر رچمنڈ پہنچنے تک چالیس منٹ کا فاصلہ طے کرنا تھا مگر موسم کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔

بوندا باندی شروع ہو چکی تھی اور کالے بادلوں کی وجہ سے آسمان پر وقت سے پہلے ہی اندھیرا چھانے لگا تھا۔ ڈیزی نے سوچا کہ اسے چار گٹھے بنانے کے بعد واپس جانے کی تیاری کر لینی چاہیے تھی۔ لیکن وہ مجبور تھی۔ اس نے دو دن کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رچمنڈ پہنچ کر اسے وینکوور نکلنا تھا جہاں ڈاؤن ٹاؤن میں رات کو کارٹر ڈوئل کا کانسرٹ تھا۔

کارٹر بنیادی طور پر رچمنڈ کا ہی رہنے والا تھا۔ ڈیزی اور وہ ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ وہ بچپن سے ہی بہت اچھا گاتا تھا۔ لیکن اب وہ بہت بڑا سٹار بن چکا تھا۔ یہ وینکوور میں اس کا کانسرٹ پانچ سال بعد منعقد ہو رہا تھا۔

ڈیزی نے ٹرک سٹارٹ کر کے گئیر میں ڈالا اور واپسی کے راستے پر چل پڑی۔ ہلکی بارش سے کیچڑ بننا شروع ہو گیا تھا مگر بوڑھے ٹرک کے انجن میں ابھی اتنی طاقت تھی کہ وہ چھوٹے موٹے دلدلی تالابوں کو بھی خاطر میں نہ لاتا۔ بارش تیز ہوتی جا رہی تھی۔ جنگل میں شدید بارش ہونا کوئی انہونی بات نہیں تھی لیکن ڈیزی کو کانسرٹ میں شامل ہونے کی فکر تھی۔ اس نے ٹرک میں موجود ریڈیو کو چلانے کی تیسری کوشش ناکام ہونے کے بعد ڈیش بورڈ پر ایک زوردار مکا رسید کیا مگر بے سود۔ اس کا خیال تھا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے اگر کانسرٹ شروع ہونے میں تاخیر ہو تو اس کو ریڈیو کے ذریعے بر وقت خبر ہو جائے تا کہ وہ گھر پر تھوڑا آرام کر کے نکلے۔ آج سات گٹھے بناتے ہوئے اس کے کندھے شل ہو گئے تھے۔

یہ سوچتے ہوئے جیسے ہی اس نے مین سڑک پر آنے کے لیے موڑ کاٹا، بجلی کا ایک زوردار کڑاکا ہوا، اتنا اجالا ہو گیا کہ ڈیزی کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ دو دھماکے یکے بعد دیگرے ٹرک کے دائیں اور بائیں جانب ہوئے جیسے بجلی گر گئی ہو۔ ڈیزی نے بے قابو ہوتے ٹرک کو پوری قوت سے بریک لگائی۔ کچھ لمحوں کے لیے وہ بالکل حواس باختہ ہو گئی۔ مردہ ریڈیو سے یک لخت کان پھاڑ دینے والا سفید شور سنائی دینے لگا۔

ڈیزی جانسن بس نام کی ڈیزی تھی۔ قد کاٹھ اور جثہ میں کسی طور وہ مردوں سے کم نہ تھی۔ اس کا باپ فریڈی جانسن رچمنڈ کے قصبے کا سب سے بڑا لوگر تھا۔ بڑی فرنیچر کمپنیوں کے ساتھ اس کے معاملات تھے جو اس سے لکڑیاں خریدتی تھیں۔ ڈیزی شروع سے ہی ٹام بوائے ٹائپ کی لڑکی تھی۔ جب اس کی عمر کی لڑکیاں میک اپ کر کے گڑیوں کی شادیاں کرتی تھیں، یہ اپنے باپ کے ساتھ لکڑیوں کو توڑنے کی مشق کیا کرتی تھی۔ درخت کیسے کاٹنا ہے، تنے کی چھلائی کیسے کرنی ہے، ٹکڑے کتنی جسامت اور قطر کے ہوں، یہ سب وہ ہائی سکول ختم ہونے سے پہلے اپنے باپ سے سیکھ چکی تھی۔

اٹھارہ سال کی عمر تک بھی اس کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں تھا۔ کچھ لڑکے اس کے پاس آنے سے ڈرتے تھے مگر زیادہ تر اس کا مذاق ہی اڑاتے تھے۔ ان میں کارٹر پیش پیش ہوتا تھا۔ لیکن وہ کارٹر کے مذاق اور پھبتیوں کا برا نہیں مانتی تھی، ہاں البتہ کوئی لڑکا اس کے ہاتھ لگ جاتا تو اس کو نانی یاد کروا دیتی تھی۔ کارٹر کو وہ بچپن میں ہی دل دے بیٹھی تھی مگر اس کو کبھی بتا نہ سکی جس کی بنیادی وجہ اس کی انا اور خودداری تھی۔ اگر کارٹر اس کی طرف ذرا بھی متوجہ ہوتا تو وہ پگھل جاتی۔ وہ اس کی شہزادی بننے کو بھی تیار تھی جس سے وہ لاڈ کرتا اور اپنے آپ کو کارٹر کے سپرد کر دیتی۔ اس کو تو اپنا نام بھی ڈیزی جانسن کے بجائے ڈیزی کارٹر یا ڈیزی ڈوئل زیادہ بھلا لگتا تھا۔ پھر کارٹر مونٹریال کے کسی کالج میں پڑھنے چلا گیا۔ اس نے ساتھ ساتھ موسیقی جاری رکھی اور جلد ہی مشہور سنگر بن گیا۔

کچھ دیر بعد حواس بحال ہوئے تو ڈیزی نے سب سے پہلے ریڈیو کی آواز کم کی۔ پھر اس نے باہر نکل کر ٹرک کا جائزہ لیا۔ سڑک پر ٹائروں کی بریک لگنے کے باعث رگڑ کے دو لمبے نشان پڑ گئے تھے۔ ٹرک کی ظاہری حالت ٹھیک تھی۔ ڈیزی نے اندر بیٹھنے کے بعد محسوس کیا کہ ریڈیو خود بخود ٹیون ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ چھ بج رہے تھے۔ اگر وہ سات بجے تک بھی گھر پہنچ کر آٹھ بجے نکلتی تو دس بجے سے پہلے کانسرٹ میں نہیں پہنچ سکتی تھی جس کے شروع ہونے کا وقت نو بجے تھا۔ وہ کارٹر سے ملنے کی کوشش کرنا چاہتی تھی، کانسرٹ سے پہلے۔

انہیں سوچوں میں گم ڈیزی نے ٹرک آگے بڑھایا ہی تھا کہ ریڈیو پر کارٹر ڈوئل کا گانا بجنے لگا۔ ریڈیو اپنے آپ ٹیون ہوتے ہوتے ایک چینل پر رک چکا تھا۔ اس کا موڈ آہستہ آہستہ نارمل ہونے لگا۔ اسے یقین ہونے لگا کہ آج وہ کارٹر سے ضرور ملے گی۔ اتنے سالوں بعد وہ اسے دیکھ کر کتنا حیران ہوگا۔ کیا معلوم وہ اس کے ساتھ ڈنر پر جانے کو راضی ہو جائے۔ وہ مصروف تو ہو گا لیکن ہو سکتا ہے وقت نکال لے۔

رچمنڈ بائے پاس سے قصبے کے اندر کی طرف مڑتے ہوئے ریڈیو سے یک دم سفید شور پھر بلند ہونے لگا، مختلف فریکوئینسیاں آپس میں گڈ مڈ ہونے لگیں۔ ڈیزی نے ریڈیو کی آواز آہستہ کرنے کو ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسے ایسا لگا کسی نے اسے آواز دی۔ ڈیزی، ڈیزی جانسن! ؟ ٹرک کے شیشے بند تھے۔ یہ آواز ریڈیو سے نکل رہی تھی۔ وہ یہ آواز کیسے بھول سکتی تھی۔ کارٹر ڈوئل اسے پکار رہا تھا۔ حیرت اور خوف کے مارے اس کی گھگی بندھ گئی۔ اس نے ایکسلیریٹر سے پاؤں اٹھا لیا۔ ٹرک چیونٹی کی رفتار سے حرکت کر رہا تھا۔

کارٹر! ؟ اس نے سرگوشی کی۔ کیا تم مجھے سن سکتی ہو ڈیزی؟ ٹرک میں کارٹر کی آواز گونجی۔ ہاں میں تمھیں سن رہی ہوں کارٹر، مگر کیسے، تم کہاں سے، یہ کیسے ممکن ہے؟ میری بات سنو ڈیزی، مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمھیں بہت ستایا۔ ہمیشہ تمھارا مذاق اڑایا۔ لیکن میں اب تمھارے جذبات سمجھ چکا ہوں۔ رکو کارٹر رکو۔ ڈیزی نے جھنجھلا کر کہا۔ کیا یہ کوئی مذاق ہے؟ نہیں ڈیزی، یہ کوئی مذاق نہیں۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ میں تم سے شرمندہ ہوں۔ ٹرک میں کارٹر ڈوئل کی افسردہ آواز گونج رہی تھی۔

ڈیزی مضبوط جسم کے ساتھ ساتھ مضبوط اعصاب کی بھی مالک تھی۔ اس کا خوف اور حیرانی امید میں بدل رہے تھے۔ کارٹر ڈوئل اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے سوچا یہی تو وہ لمحہ ہے جس کا وہ ہمیشہ سے انتظار کر رہی تھی۔ نہیں کارٹر تم ایسا نہ کہو، ابھی دیر نہیں ہوئی۔ میں آج تک تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔ میں تمہاری ہونے کو تیار ہوں۔ تم آج کانسرٹ میں نہ آنا ڈیزی۔ میں تمھیں نہیں مل پاؤں گا۔ کارٹر کی آواز نے ڈیزی کی باتوں کو یکسر فراموش کرتے ہوئے کہا۔ لیکن کیوں؟ کیوں نہ آوں میں؟ اور تمہیں کیسے معلوم کہ میں کانسرٹ میں آنے والی ہوں؟ ڈیزی نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ وقت نہیں ہے ڈیزی تم میری بات۔

ریڈیو سے پھر سفید شور بلند ہونے لگا۔ کارٹر! کارٹر! ڈیزی نے تقریباً چیختے ہوئے کہا لیکن شور بڑھتا رہا۔ ڈیزی نے گھڑی دیکھی۔ ساڑھے سات بج چکے تھے۔ اس نے ٹرک واپس موڑا اور رچمنڈ بائے پاس سے وینکوور والی سڑک پر دوڑانا شروع کر دیا۔ اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کس احساس کے زیر اثر ہے۔ خوف زدہ، حیران اور پریشان ہونے کے ساتھ اس کے دل میں ایک امید بھی پیدا ہو گئی تھی۔

وہ ساڑھے نو بجے وینکوور میں داخل ہوئی۔ شہر کے داخلی راستے پر غیر معمولی رش تھا۔ اس نے ریڈیو چلانے کی کوشش کی لیکن وہ ایسے بند پڑا تھا جیسے کبھی چلا ہی نہ ہو۔ ڈیزی نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے ساتھ والی گاڑی میں بیٹھے آدمی سے پوچھا، اتنا رش کیوں ہے؟ ریڈیو پر کچھ بتا رہے ہیں؟ وہ شخص جو پہلے ہی رش کی وجہ سے بے زار بیٹھا تھا، اسی بے زاری سے اس نے ڈیزی کو بتایا کہ ڈاؤن ٹاؤن میں کسی مشہور سنگر کا آج کانسرٹ تھا۔ اس نے دو گھنٹے پہلے اپنے سر میں گولی مار کر خود کشی کر لی ہے۔ بتا رہے ہیں کہ چار پانچ سال سے ڈپریشن کا شکار تھا۔ لگتا ہے شہرت راس نہیں آئی اسے۔ چلو خیر وہ تو مر گیا لیکن پتہ نہیں یہ رش کب ختم ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 28 posts and counting.See all posts by khawar-jamal

Leave a Reply