اب کیا بابائے قوم کو بھی قزاق سمجھیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخی اعتبار سے لفظ قزاق ترک زبان سے اردو زبان میں اپنے معنی اور ساخت کے اعتبار سے من و عن داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو گرائمر کی رو سے یہ لفط اسم نکرہ مذکر ہے جبکہ معنی کے اعتبار سے یہ لفظ راہزن، لٹیرا اور ڈاکو کی تصویر ہے۔

آج سے پہلے اس لفظ کو میں فقط مجرم کی شکل یا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 391 کی حد تک جانتا تھا لیکن وکالت کی تعلیم مکمل کر کے جن سینئر وکیل صاحب کے ساتھ عملی تربیت کا آغاز کیا ہے ، آج انہوں نے بتایا کہ ان کے بچے آرمی پبلک سکول میں زیر تعلیم ہیں اور وہ انہیں بجائے ٹیوشن بھیجنے کے، سکول کا کام خود کرواتے ہیں لیکن کل شام جب وہ اپنے جماعت ہفتم کے بچے کو اردو کی کتاب ”صریر خامہ“ پڑھا رہے تھے تو بابائے اردو مولوی عبدالحق کا مضمون ”املی کا درخت“ پڑھاتے ہوئے انہیں ورق کے حاشیہ پر لکھا ایک لطیفہ دکھائی دیا جس کا عنوان ”خوش قسمت“ تھا۔

کتاب کے سرورق پہ بہت صراحت سے یہ جملہ تحریر ہے ”قومی تعلیمی پالیسی 2017 کے عین مطابق“ صاحب کتاب عامر وحید قمر نے کتاب کے ہر ورق کو ماسوائے اس ایک لطیفہ کے اقوال زریں سے مزین کیا اور وہ لطیفہ یہ تھا کہ

”وکیل: میں جب چھوٹا تھا تو میری سب سے بڑی خواہش تھی کہ میں قزاق بنوں۔“

موکل: جناب! آپ خوش قسمت ہیں۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کی بچپن کی خواہش جوانی میں پوری ہو جائے۔ ”

وکالت کے شعبہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے یہ سن کر ایک دفعہ میرا جی اداس سا ہو گیا کہ گویا اب بچوں کو میرے پیشے سے متنفر کرنے کا ایسا اوچھا ہتھکنڈا اپنایا جائے گا۔

میرے سینئر ایڈوکیٹ صاحب نے جب اس کتاب اور صفحات کی تصاویر مجھ سے شیئر کیں تو میں بار بار صاحب کتاب میں درج یہ عبارت پڑھنے لگا ، اگلے ہی لمحے خیال آیا کہ پھر تو قزاقی کوئی آسان کام نہیں ہے ، اس کے لئے شب و روز کی محنت درکار ہوتی ہے۔ قانون، فلسفہ، تاریخ، سماجیات اور ادب کا بنظر عمیق مطالعہ کرنا پڑتا ہے تب جا کر کوئی اچھا قزاق تیار ہو سکتا ہے۔

پھر خیال آیا کہ قزاقوں کی جوانمردی، جرأت، بصیرت اور لگن نے تو دنیا کا نقشہ ہی پلٹ کر رکھ دیا تھا۔ ہم بھلا دور کیوں جائیں؟ ہمارے بابائے قوم بھی تو شعبۂ وکالت ہی سے منسلک تھے جسے جماعت ہفتم کی اردو کی کتاب میں قزاق سے مشابہہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ ”قزاق“ ہی تھے جنہوں نے خطۂ برصغیر پاک و ہند کو فرنگیوں کے چنگل سے آزاد کروایا۔  علامہ اقبال، محمد علی جناح، مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو یہ سبھی اس خطے کے نامور قزاق ہو گزرے ہیں۔

علاوہ ازیں اس مبینہ ”فلسفۂ قزاق“ کو پروان چڑھانے میں دنیا کے انتہائی معتبر نام سامنے آتے ہیں سقراط، افلاطون، ارسطو، تھامس ایکوناس، فرانسس بیکن، جان لاک، سالمنڈ، السرخسی، جان آسٹن وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ قزاقوں کی فہرست طویل ہے شاید انہیں گنواتے ہوئے قلم کی روشنائی ختم ہو جائے لہٰذا بقیہ نامور قزاقوں کی تلاش اہل علم و صاحبان تحقیق قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

جدید ریاستی ڈھانچہ کی عمارت تین ستونوں پر قائم ہے جو بالترتیب مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ پر مشتمل ہے۔ ثانی الذکر کا تعلق پیشہ قزاقی سے ہے کیونکہ کوئی بھی شخص اس وقت تک قاضی کے منصب کا اہل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ قزاق کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مخصوص مدت تک اس پیشہ سے منسلک نہ رہے ، یوں جسٹس کارنیلئیس اور سر عبدالرشید سے لے کر اب تک کے سبھی معزز قاضی صاحبان اس قزاقی کے رستے ہو کر ہی ملک و ملت کے حقوق کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔

کسی بھی پیشے کو حقیر جانتے ہوئے اس پر طنز کرنا پست ذہنیت کی عکاسی ہے ۔ اگر کسی ایرے غیرے سے یہ قبیح حرکت سرزد ہو جائے تو اسے جہالت سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن جب اس طرح کی جہالت کو بچوں کے سلیبس سے منسلک کر دیا جائے تو پھر ملک و قوم کے مستقبل کے سر پر جہالت کا تاج سج جاتا ہے۔

خدارا! پیشوں کو حقارت، تضحیک اور گالیوں کی نذر مت کیجیے وگرنہ پورا معاشرہ ہی گالی بن کر رہ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد علی نقی ایڈووکیٹ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *