جواب آں غزل؛ دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج صوفیہ کاشف صاحبہ کا طویل دو قسطوں پر مشتمل مضمون پڑھا، پہلی قسط پڑھنے کے بعد کچھ اشکالات تھے، سوچا دوسری قسط پڑھ لیں شاید اشکالات دور ہو جائیں لیکن دوسرے قسط پڑھ کر اعتراضات اور شدید ہو گئے۔

ایک محترمہ کے کمنٹ کے جواب میں کہنے لگیں کہ انہیں تو حکم اذاں ہے اس لئے چاہے کسی کو ناگوار گزرے وہ تو اپنا فرض بہرحال ادا کریں گی۔ سوچا ”اذان“ پوری ہو جائے تو شاید کچھ پلے پڑے کہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ لیکن پوری اذان ہی تضادات کا مجموعہ ثابت ہوئی۔

سب سے پہلے ایک ذمہ دار لکھاری کچھ بھی لکھنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیق کر لیتا ہے جب کہ مصنفہ نے اپنے مضمون کی بنیاد جس مغالطے پر رکھی وہ یہ تھا کہ پاکستان میں عورتیں مردوں کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک جتنی بھی مردم شماریاں ہوئی ہیں سب میں مردوں کا تناسب عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ دو ہزار سترہ میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں مرد 51 فی صد اور عورتیں 48.76 فی صد ہیں، یعنی ہر 105 مردوں کے مقابلے میں 100 عورتیں ہیں نیز رپورٹس کے مطابق یہ فرق دن بدن بڑھ رہا ہے۔ اس لئے اتنی محنت کرنے سے پہلے اگر وہ گوگل سے پوچھ لیتیں تو شاید اتنی ”طویل“ مشقت سے بچ جاتیں۔

یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں عورتوں کی تعداد کم ہے، قدرت کے قانون کے مطابق تو یہ ممکن نہیں تو پھر وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے عورتوں کی تعداد ہمیشہ کم رہتی ہے۔ بہرحال موضوع اس وقت یہ نہیں ہے۔

ان کے تمام دلائل پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے شادی اور سوشل ورک ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، اگر آپ ایک بیوی سے نہیں بنتی تو اس کو گھر کے ایک کونے میں پھینکیے اور دوسری بیاہ کر لے آئیے اور ثواب بھی کمائیے، گویا دوسری شادی ایک ثواب کمانے کا ذریعہ ٹھہری۔ آموں کے آم گٹھلیوں کے دام۔

اس بات پر بھی اگر تھوڑی روشنی ڈال دیتیں تو نوازش ہوتی کہ خدانخواستہ اگر دوسری سے بھی نہ بنی تو پھر کیا کرنا ہے؟ فلاحی خدمات جاری رکھنی ہیں؟ مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے وہ چاہتی ہیں کہ منبر سے مردوں کو دوسری شادی اور عورتوں کو طلاق کی ترغیب دی جائے، طلاق کا تو پتہ نہیں لیکن چار شادیوں کی ترغیب دینے کے لئے طارق مسعود جیسے مولوی دن رات کوشاں ہیں، اس لئے بی بی کا یہ گلہ تو بہرحال نہیں بنتا۔

آگے فرماتی ہیں کہ عورت کو جو پہلی ( بلکہ شاید آخری) چیز مرد سے چاہیے وہ معاشی آسودگی ہے۔ اگلے ہی سانس میں کہتی ہیں کہ اگر عورت اپنی ایک روٹی کو اپنی سوکن سے آدھی بانٹ لے گی تو انسانیت کی معراج پا لے گی، لیکن معاشی آسودگی اور آدھی روٹی! کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

ایک اور جگہ کہتی ہیں کہ جو عورت چار دیوروں، چھ نندوں، آتھ دس بھابیوں ( ساس سسر کا ذکر کرنا شاید بھول گئیں ) کی خدمت گزار بن کر رہ لیتی ہے، وہ ایک دوسری عورت کے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتی۔ گویا عورت تو پہلے ہی ایک گدھے کی مانند ہے اس پر ایک اور بوجھ لاد دیں گے تو اسے بھی ہنسی خوشی اٹھا لے گی۔ ان کی اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ محترمہ میاں بیوی کے رشتے کو سمجھنے سے سراسر قاصر ہیں، میاں بیوی کے رشتے میں جذباتی اور جنسی رفاقت ہوتی ہے جو کہ باقی رشتوں میں نہیں ہوتی، ماں باپ اور بہن بھائیوں سے محبت کرنے والے کو بدکردار نہیں کہتے لیکن بیوی کے ہوتے ہوئے باہر چکر چلانے والے کو بے وفا بھی کہتے ہیں اور بدکردار بھی۔

جس اسلام کا وہ شدومد سے مقدمہ پیش کر رہی ہیں اس میں شادی شدہ مرد کی بد نظری بھی بد ترین گناہ سمجھی جاتی ہے۔ جس مذہب کے حوالے وہ دے رہی ہیں اس میں میاں بیوی کے رشتے کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جس سے ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

عورت ہوتے ہوئے بھی شاید وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس معاملے میں عورت اور مرد کے جذبات میں چنداں فرق نہیں۔ اپنے رفیق کی بے وفائی دونوں کے لئے ایک جیسی اذیت ناک ہوتی ہے۔ رہی بات عورتوں کی جنسی بیزاری کی تو اس کا سہرا بھی مرد کے سر ہی بندھتا ہے۔ نا آسودہ عورتیں جنس سے بیزار ہی ہو جاتی ہیں۔ جو مرد ایک عورت کو آسودہ نہیں رکھ سکتا اسے دوسری لا کر دینے سے کس مسئلے کا حل نکلے گا لیکن مصنفہ صاحبہ کے نزدیک تو جنس صرف مرد کی ضرورت ہے عورت کو تو بس اللہ اللہ کرنا چاہیے۔

پدر سری ذہنیت کی پیروی کرتے ہوئے وہ طلاق یافتہ اور بیوہ خواتین کی شادی صرف شادی شدہ مردوں سے ہی کروانا چاہتی ہیں۔ کیونکہ وہ اس بات پر قائل نظر آتی ہیں کہ غیر شادی شدہ مردوں کو تو بہرحال کم سن کنواری دوشیزہ ہی زیبا ہے، وہ چاہتی ہیں کہ اپنی بیوی سے دس بارہ سال بعد لازمی طور پر بیزار ہو جانے والا مرد کسی طلاق یافتہ یا بیوہ کو سہارا دے کر اپنی زندگی میں پھر سے رنگ بھر لے۔ اس کی پہلی بیوی کا کیا ہے ، اسے تو خوش ہونا چاہیے کہ اب اسے اپنے ”بیزار“ شوہر کے ساتھ ہر روز نہیں سونا پڑے گا اور نہ ہی اس کا میریٹل ریپ ہو گا کیونکہ اس کا ”بوجھ“ بٹانے والی آ جائے گی ، نیز اسے روز غسل کرنے جیسی مشقت سے بھی نجات مل جائے گی اور وہ معاشرے کی فلاح اور آخرت کے بارے میں سوچ پائے گی۔ یعنی میریٹل ریپ کو انہوں نے بڑی آسانی سے جسٹیفائی کر دیا ہے کہ بے چارہ مرد ایک بیوی ہو تو ریپ نہ کرے تو اور کیا کرے۔ بالکل ایسے ہی جیسے غیر شادی شدہ، بچوں اور جانوروں کا ریپ نہ کریں تو اور کیا کریں۔

مزید مشورہ دیتے ہوئے فرماتی ہیں کہ چونکہ مردوں کو کم سے کم چھ بچے چاہیے ہوتے ہیں تو اس لئے اس کو ایک اور عورت لانے کی ترغیب دیجیے تاکہ بچوں کی تعداد کا ٹارگٹ پورا کرنے میں وہ ہاتھ بٹا سکے اور بچوں کو دو دو مائیں مل جائیں۔ ایک طرف تو وہ اسلام کا راگ الاپتی ہیں تو دوسری طرف دو، تین یا چار عورتوں کو ایک ہی گھر میں رکھنے کے فضائل بیان کرتی ہیں۔ ان کا مضمون پڑھ کر ایسا لگا کہ مرد ایک ایسی عظیم مصیبت اور جنسی درندہ ہے جس کو جتنی زیادہ عورتیں مل کر جھیل لیں اتنا ہی معاشرے کے لئے سود مند ہے۔

ان کے خیالی جنت نما گھر میں سوکنیں مل جل کر بہنوں کی طرح رہتی ہیں، مل جل کر شوہر کے لئے کھانے پکاتی اور ایک دوسرے کے بچوں پر واری صدقے جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کو اپنے شوہر کے ساتھ رات گزارنے کی ترغیب دیتی ہیں تاکہ ان کا ”بوجھ“ کم ہو سکے۔

ان کے مطابق عورتیں روزگار اور تعلیم کی طرف تبھی راغب ہوں گی ، اگر ان کے شوہر ایک دوسری عورت گھر لے آئیں، اور اگر وہ پہلے سے برسر روزگار ہوں گی تو خود اپنے ہاتھوں سے اپنی سوکن سجائیں گی، گویا برسر روزگار عورت کو خاوند اور اس کی کمائی بلکہ اس کے وجود سے ہی کیا لینا دینا۔

اپنی بات کو مزید بڑھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر آپ کو ملازمہ چاہیے تو شوہر کی دوسری شادی کروا دیجیے، یعنی دنیا بھی جنت اور آخرت میں بھی وارے نیارے۔ بس یہ نہیں بتایا کہ شادی ملازمہ سے کروانی ہے یا کسی کو لا کر ملازمہ بنانا ہے۔

قصۂ مختصر یہ کہ موصوفہ عورتوں کی تمام تر تنزلی، معاشرتی ترقی میں عدم شمولیت کی واحد وجہ سوکن کا نہ ہونا قرار دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک سب سے عظیم فلاحی کام شوہر کی دوسری شادی کروانا ہے۔ بڑے تیقن سے فرماتی ہیں کہ دس بارہ سال بعد تو تقریباً سبھی جوڑے ایک دوسرے سے بیزار ہو کر بستر الگ کر لیتے ہیں اور اگر عورتیں طلاقیں لیتی رہیں اور ان طلاق یافتہ عورتوں سے بیویوں سے بیزار شادی شدہ مرد دوسری شادی کرتے رہیں تو اس سے جو نئے پن کا احساس رہے گا ، اس سے پاکستانی معاشرہ جنت بن سکتا ہے۔

اور بچوں کا کیا ہے انہیں تو جتنا زیادہ مشکلات اور صدمات بھرا بچپن ملے گا وہ اتنے ہی حالات کی بھٹی سے کندن بن کر نکلیں گے۔ محترمہ اگر تھوڑی سی تحقیق کر لیتیں تو انہیں علم ہوتا کہ نفسیات دانوں کی ریسرچ کے مطابق ٹوٹے ہوئے گھروں اور باپ کی دوسری شادی کے بچوں پر کس قدر دیرپا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کس طرح وہ ساری عمر کے لئے مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اپنی ہی جنس پر بہتان باندھتے ہوئے فرماتی ہیں کہ عورتوں کا مرد کی دوسری شادی سے اصل مسئلہ ان کا اس کی ساری کمائی پر بلا شرکت غیرے راج کرنے کا شوق ہے۔ یعنی ان کے نزدیک ایسی لالچی بیویوں کے لئے شوہر کی حیثیت ایک اے ٹی ایم سے زیادہ کچھ نہیں، ورنہ محبت اور خیال رکھنے کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ خود ان کی دلہنیں ڈھونڈیں۔ جیسے ہی وہ انہیں بستر سے الگ کریں فوراً ان کے بستر پر کسی اور کو لا بٹھائیں۔ اور خود قرآن اور حدیث کی تعلیم پر توجہ دیں۔

آخر میں مغرب پر چند تبرے بھیج کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ بے وفائی اور تنوع کی خواہش تو مردانہ فطرت ہے لہٰذا دین کے نام پر اپنی خواہشات پوری کیجئے اور جنت کے حقدار ٹھہریے۔

مضمون تضادات کا کلاسک نمونہ ہے موصوفہ کو مفت اور مخلصانہ مشورہ ہے کہ لکھنے سے پہلے اگر تھوڑی تحقیق فرما لیا کریں، تو ان کا بھی اور ان کے قارئین کا بھی اس میں بھلا ہے۔ اگر آپ کو حکم اذاں ہیں تو ضرور اذان دیجیے پر پہلے اذان کے آداب تو سیکھیے پھر حکم ضرور پورا کیجیے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply