رانی پدمنی، انارکلی، جودھا اکبر، ملالے آف میوند؛ تاریخ کی عدالت میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ برسوں سے چلتی ہوئی اور نسل در نسل منتقل ہونے والی عادت ہے۔ اس کے پیچھے مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ کبھی کسی ہیرو کا دفاع مطلوب ہوتا، کبھی بیانیہ کی تشکیل کرنی ہوتی تو کبھی مخالف پر کیچڑ اچھالنا ہوتا۔ اس میں سب سے دلچسپ حصہ وہ ہوتا جس میں عورتوں کے نام پر افسانے بنائے جاتے اور پھر صرف ادبی تحریروں میں ہی انہیں جگہ نہیں ملتی بلکہ سیاسی بیانیوں کی تشکیل میں بھی انہیں شامل کیا جاتا۔ یہ اپنے آپ میں ایک دلچسپ موضوع ہے کہ مختلف قوموں نے کس طرح مشہور تاریخی شخصیات یا واقعات کے ساتھ مختلف عورتوں کی فرضی کہانیاں بنا کر اسے اپنی ادبی ذخیرے یا سیاسی بیانیوں میں جگہ مہیا کی۔

ہمارے ہاں بھی ایسی بہت سی فرضی کہانیاں اور داستانیں زبان زد عام ہیں لیکن تاریخ کی عدالت میں ان کا مقدمہ اتنا کمزور ہے کہ جج پہلی ہی تاریخ میں انہیں خارج کر دے۔ لیکن پھر بھی ان کہانیوں پر خوب لکھا گیا، ڈرامے بنے، فلمیں بنیں، نظمیں لکھی گئیں۔ ہیر رانجھا، سسی پنوں، شیریں فرہاد، سوہنی مہنیوال اور مرزا صاحباں جیسے لوک گیت جو بے شمار شاعروں کی شاعری کی زینت بنے لیکن تاریخ کی عدالت میں پہلی سماعت میں بھی ٹھہر نہ پائیں۔

یہ سب کہانیاں بحیثیت کہانی تو نہایت شاندار ہیں ، ان سے شاید اخلاقی سبق بھی کوئی نکال لے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کہانی اور تاریخ میں فرق ہوتا ہے۔ کہانی میں آپ کچھ بھی لکھ سکتے کچھ بھی ڈال سکتے کوئی پابندی نہیں لیکن تاریخ میں ایک ایک چیز کا آپ کو ثبوت دینا پڑھتا ہے کیونکہ تاریخ صرف حقائق پر چلتی ہے اسی لیے اسے ”نان فکشن“ کہا جاتا ہے۔ میں نے بھی چار ایسی کہانیوں کا انتخاب کیا ہے جسے تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے لہٰذا اس کا بھی اسی طرح پوسٹ مارٹم کرتے ہیں جس طرح پچھلی تحریروں میں میں نے کیا۔

پہلی کہانی رانی پدمنی کی ہے۔ جو کہ ایک راجپوت رانی بتائی جاتی ہے۔ کہانی کی تفصیل نیٹ پر موجود ہے۔ مختصراً اتنا بیان کر دیتا ہوں کہ اس کہانی میں تین کردار ہیں :

1۔ رانی پدمنی خود جو کہ سری لنکا کے راجا کی بیٹی تھی۔ جس کی خوبصورتی کی مثال نہیں تھی۔
2۔ چتوڑ کا راجا جس کا نام ”رتن سین“ بتایا جاتا۔ جس سے پدمنی کی شادی ہوئی۔ وہ بھی راجپوت تھا۔

3۔ دہلی کا سلطان ”علاؤالدین خلجی“ جسے رانی کی خوبصورتی کا پتہ چلتا ہے تو اسے پانے کے لیے وہ چتوڑ پر حملہ کر دیتا ہے۔

اس کہانی کو راجپوت اور خاص طور پر انتہاپسند ہندو قومی غیرت و حمیت کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک حملہ آور خلجی حکمران کے ہاتھوں ذلیل ہونے کی بجائے خود کو زندہ جلا کر (جسے وہ جوہر کہتے) رانی پدمنی نے راجپوتوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ کچھ سال پہلے ”پدماوت“ نامی فلم اسی واقعہ پر بنائی گئی۔ جس پر انڈیا میں بہت احتجاج ہوا راجپوتوں اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کی جانب سے ، حالانکہ اس پر احتجاج خلجیوں کو کرنا چاہیے تھا کہ ان کی قوم کے ایک روشن خیال اور علم دوست سلطان کو ایک وحشی درندہ دکھایا گیا لیکن وہ تو چپ رہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس میں تاریخ کتنی ہے؟ تو تاریخ بس اتنی ہے کہ علاؤالدین خلجی نے ”1303 عیسوی“ میں چتوڑ پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا بس۔ نہ پدمنی نام کی کوئی رانی تھی اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جوہر (راجپوت عورتوں کا خود کو آگ میں ڈالنا تاکہ دشمن کے ہاتھ نہ لگیں) ہوا۔ یہ سب گھڑنت اس واقعہ کے کئی سو سال بعد آنے والے ”ملک محمد جائسی“ کی ”1540 عیسوی“ میں لکھی جانے والی رزمیہ میں ہے جس کے رزمیہ ہونے کا اعتراف خود ملک محمد جائسی نے بھی کیا لیکن کہانیوں پر بیانیہ کھڑا کرنے والوں کو اس سے کیا لینا دینا۔

دوسری کہانی انارکلی کی ہے۔ اس پر تو نہ جانے کتنی فلمیں اور ڈرامے بنے۔ مشہور گانا ”پیار کیا تو ڈرنا کیا“ اسی کہانی پر بننے والی فلم ”مغل اعظم“ کا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کوئی پندرہ سال پہلے پاکستان نے بھی اس کہانی پر ایک گانا بنایا تھا جو بہت ہی شاندار تھا، اس گانے کی اختتامی لائن مجھے آج بھی یاد ہے جس میں انارکلی سے منسوب مزار پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ:

”لیکن یہ منظر تاریخ دانوں کے لیے نہیں صرف دل والے ہی اسے دیکھ سکتے ہیں“

بات تو ٹھیک ہے۔ تاریخ دان تو تاریخ سے ثبوت مانگیں گے وہ ملنا نہیں تو انہیں کیسے نظر آ جائے۔ رہ گئے دل والے تو وہ دین دنیا دونوں سے فارغ ہیں ان کا دیکھنا نہ دیکھنا برابر ہے۔ اب آتے حوالے پر ۔

انارکلی کی کہانی بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 1599 عیسوی میں ہوا ۔ اس کا ذکر سب سے پہلے کسی مغل نے نہیں بلکہ ”ولیم فنچ“ نام کے انگریز نے اپنے سفرنامے میں کیا۔ ولیم فنچ ”1608 عیسوی“ کو ہندوستان آیا تھا۔ اس نے اپنے سفرنامے میں انارکلی کا نام ”Immaeque kelle“ لکھا ( صفحہ 166 ) اس کے مطابق یہ شہزادہ دانیال کی ماں تھی جسے اکبر نے دیوار میں چنوا دیا تھا۔

دوسرا حوالہ ایک اور انگریز ”ایڈورڈ ٹیری“ کا ہے۔ وہ ”1616 عیسوی“ میں ہندوستان آیا تھا۔ اس نے صحیح نام ”Anar kalee“ لکھا (صفحہ 330 ) لیکن اس کے مطابق انار کلی کو مارا نہیں گیا تھا۔ دونوں کے بیانات کو ان کے سفرنامے کے ایڈیٹر ”ولیم فوسٹر“ نے حاشیہ میں رد کر دیا۔ اس کے بعد مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ باقی کہانی یہ اچھی ہے ، پڑھ لینی چاہیے۔ لیکن تاریخ میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔

تیسری کہانی جودھا اکبر کی ہے۔ کہانی کے مطابق اس کا نام جودھا بائی تھا جو کہ اکبر کی چہتی راجپوت بیوی تھی جس کا تعلق ”جودھپور“ سے تھا۔ اور اسی کے بطن سے سلیم پیدا ہوا جو کہ جہانگیر کے نام سے جانا جاتا۔ عشق و محبت کی داستان تک تو ٹھیک ہے لیکن تاریخی حوالے سے دیکھیں تو پہلی بات یہ ہے اکبر کی کوئی بیوی نہیں تھی جس کا تعلق جودھپور کے راجپوت خاندان سے ہو۔ دوسرا اس واقعہ کو سب سے پہلے ”Annals and Antiquities of Rajasthan“ نامی کتاب میں ایک انگریز افسر (انارکلی کی شرارت بھی انگریز کی تھی) ”جیمز ٹود“ نے بیان کیا جو ”1879“ کو شائع ہوئی۔

کتاب کی ( جلداول صفحہ 389 ) پر اس نے جودھا بائی کے متعلق لکھا کہ وہ ”میواڑ“ کے راجا ”اڈے سنگھ“ کی بیٹی تھی۔ جلد (2 صفحہ 965) پر اس کی شادی کا ذکر اکبر سے کیا ، شادی کی تاریخ ”1569 عیسوی“ بتائی ہے۔ اس کتاب کے ایڈیٹر ”ولیم کروک“ کے مطابق جودھا بائی اصل میں جہانگیر کی بیوی اور شاہجہان کی ماں تھی ۔ جیمز ٹود نے دونوں کو خلط ملط کر دیا لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسی کتاب کی جلد ( 3 صفحہ 1339 ) پر جیمز ٹود نے جہانگیر کی بیوی ”جودھا بائی“ کا ذکر کیا ہے لیکن اسے بیکانیر کے راجا ”رائے سنگھ“ کی بیٹی بتایا ہے جو کہ سنگین تاریخی غلطی ہے۔ اس سے کتاب کے مصنف کی تاریخ سے واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

آخری کہانی ملالے آف میوند کی ہے۔ کہانی کے مطابق ملالے یا ملالہ قندھار کے قریب ”میوند“ نام کے گاؤں میں رہتی تھی۔ اس کی عمر 20 سال سے بھی کم تھی۔ اسی مقام پر انگریز جنرل ”جارج بوروز“ اور ہرات کے گورنر ”ایوب خان“ کے درمیان ”27 جولائی 1880“ کو جنگ ہوئی۔ ملالے کی شادی تھی اس دن لیکن جب اسے پتہ چلا کہ افغان جنگ سے بھاگ رہے تو وہ باہر آئی اور افغانوں کو غیرت دلائی اس کی بہادری دیکھ کر افغانوں کو جوش آیا اور انہوں نے انگریز کو شکست دی لیکن ملالے خود اس دوران شہید ہو گئی۔

یہ واقعہ پشتون قوم پرستوں کے ہاں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی نیٹ پر ایک تصویر دیکھی میں نے جس میں ان کے پیچھے دیوار پر فریم میں ملالے آف میوند کی ایک تصویر بنائی گی تھی ، جس میں اس کے ہاتھ میں افغانستان کا موجودہ جھنڈا تھا جو ”2013“ میں معرض وجود میں آیا تھا ، لیکن ظاہر ہے قومی بیانیوں کی تشکیل میں یہ چیزیں کون دیکھتا ہے۔

اب آتے اس پر کہ اس واقعے میں تاریخ کتنی ہے؟ تو تاریخ بس اتنی ہے کہ ایوب خان نے میوند میں انگریزوں کو شکست دی حالانکہ اس سے انگریز کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

ملالے صرف ایک افسانہ ہے جو بعد میں گھڑا گیا۔ لیکن یہ گھڑا کس نے؟ کچھ مؤرخین عبدالحیٔ حبیبی پر یہ الزام لگاتے۔ اگر یہ درست ہے تو پھر ہر حال میں ملالے کے فرضی کردار کو رد کرنا چاہیے کیونکہ عبدالحیٔ حبیبی ”پٹہ خزانہ“ کے حوالے سے ویسے بھی بدنام ہیں۔ لہٰذا ملالے آف میوند کی کہانی، کہانی کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اگر کوئی اسے تاریخ ماننے کی ضد کرے تو اسے چاہیے کہ وہ ثبوت پیش کرے اور ”کہا جاتا ہے“ ثبوت نہیں ہوتا۔
آخر میں ایک ضروری بات کہانی اور تاریخ دو مختلف چیزیں ہیں ، انہیں مختلف ہی رہنے دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply