موٹروے پر بدانتظامی کا نوٹس کون لے گا؟


ہماری موٹروے بھی دوسرے اداروں کی طرح بد انتظامی کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ آپ کو چاہے لاہور سے فیصل آباد جانا ہو یا ملتان، بالترتیب پنڈی بھٹیاں اور شرقپور کے قریب گھنٹوں ٹریفک جام ضرور ملے گا۔ ان دو جگہوں پر بنائے گئے ٹال پلازہ کی بظاہر نظر آنے والی وجہ ٹال ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔ کیا یہ ٹال ٹیکس ایک جگہ نہیں لیا جا سکتا تاکہ عوام کا قیمتی وقت بچایا جا سکے؟

ٹریفک کا بہاؤ بہتر بنانے کے لئے M Tags سے مدد لی جا سکتی ہے، لیکن ماسوائے لاہور سے اسلام آباد موٹروے tag readers ہی موجود نہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ آپ نے بجلی پیدا کرنے کے لئے ڈیم بنا لیا بعد میں یاد آیا کہ بجلی تقسیم کرنے کے لئے لائن تو بچھائی ہی نہیں۔

لاہور سے فیصل آباد کے لئے نکلیں تو ایک دفعہ ٹیکس پنڈی بھٹیاں دیں کیونکہ یہاں تک FWO کا علاقہ ہے، اس سے اگلا ٹیکس NHA کے پاس جائے گا۔ مل بیٹھ کے فیصلہ ہو جانا چاہیے ساری موٹروے کا انتظام کوئی ایک ادارہ کر لے تو عوام کے لئے سہولت نکل آئے اور فیصل آباد کا 1 گھنٹہ 45 منٹ کا سفر 3 گھنٹے میں نہ کرنا پڑے۔

اس کے علاوہ اگر اتور کی شام لاہور واپس آنے کی غلطی کر لیں تو راوی ٹال پلازہ پہ 1 گھنٹہ تک ٹریفک جام معمول کی بات ہے۔ 15 سے زیادہ ورکنگ بوتھ ہونے کے باوجود ٹریفک مینجمنٹ میں ناکامی واقعی غور طلب ہے۔ اس ٹریفک جام میں روزانہ کوئی نہ کوئی ایمبولینس پھنستی ہے کیونکہ نہ تو ہمارے پاس ایمرجنسی لائن ہے جس سے ایمبولینس گزاری جا سکے اور نہ عوام کو آگاہی کہ ایمر جنسی کے لئے راستہ کیسے دینا ہے۔

چند گزارشات:

1۔ ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری کے لئے M Tags نہایت کار آمد ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے M Tag readers اور دوسرے ضروری انفراسٹرکچر کا ہونا ضروری ہے۔

2۔ موٹروے کے انتظامی معاملات دو کی بجائے کسی ایک ادارے کو دے دیں تا کہ جگہ جگہ لگے بنے ٹال پلازے ختم ہوں اور یہ جی ٹی روڈ کی بجائے واقعی موٹروے میں تبدیل ہو۔

3۔ بڑے شہروں (لاہور، اسلام آباد) میں ٹال پلازہ کے قریب ایمرجنسی لائن ہونی چاہیے۔

4۔ موٹروے پر سفر کے لئے آگاہی دینا بہت ضروری ہے اس کے لئے کالج، یونیورسٹی کی سطح پر سالانہ سیمینارز کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔ یہ موٹروے پولیس بھی کر سکتی ہے اور وزارت مواصلات بھی۔

اس بد انتظامی سے پہلے خوش قسمتی سے پاکستان میں موٹر ویز بننے کے بعد واقعی گھنٹوں کے فاصلے منٹوں میں طے ہونے لگے تھے۔ موجودہ دور میں تیز اور آرام دہ سفر کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، اب سٹرکیں تو بن گئی ہیں بس ان کا انتظام بہتر کرنا ہے۔

Facebook Comments HS