محترم وزیراعظم صاحب کا یادگار انٹرویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میں وزیراعظم جناب عمران خان کا بے حد شکرگزار ہوں کہ انھوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے ہمیں اس مکالمہ (انٹرویو) کے لئے وقت مہیا کیا۔ امید ہے آپ کے مزاج بخیر ہوں گے۔

صحافی: 22 سال کی جدوجہد کے بعد آپ نے اس مقام کو حاصل کیا ہے، آپ کے بقول آپ کے پاس 200 ٹیکنوکریٹس (ماہرین) تھے جن کو اپنے اپنے شعبے میں مہارت حاصل تھی پھر کارکردگی کا ایسا فقدان کیوں؟

وزیراعظم: دیکھیں شروع میں تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے اور ہم نے کرنا کیا ہے، خیر سمجھ تو ابھی بھی نہیں آئی، کیونکہ ہم تو کچھ کر نہیں رہے، خالی جگہ ہمیں لانے والے پر کر رہے ہیں اور جہاں جگہ خالی نہیں وہاں ہم نے مفادات کا تصادم کروا رکھا ہے، آپ چینی، آٹا، پٹرول، گیس اور مہنگائی ہی کو دیکھ لیں۔ لیکن آپ یہ دیکھیں کہ میں دن رات کام کرتا ہوں، گھر جا کر بھی دفتر کا کام کرتا ہوں، یہاں تک کے بدعنوانی سے بھی پرہیز کرتا ہوں بس میرے دوست احباب تھوڑی بہت کر لیتے ہیں۔ ایماندار ہوں، نیک بھی ہوں، شرافت بھی ہے، مگر شاید نا اہلیت کا بوجھ یہ خوبیاں کم نہیں کر سکتیں۔

میری انتھک محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ غربت کو بذریعہ غریب ہماری حکومت نے ختم کیا ہے۔ کیونکہ ہم نے ہمیشہ مسئلہ کو جڑ سے پکڑا ہے ، یہی وجہ ہے کہ غریب ہماری حکومت کی مکمل گرفت میں ہیں۔ رہ گئی 200 عالم و فاضل لوگوں کی بات تو جب میں نے کرکٹ چھوڑی تھی تب دنیا کی نمبر ون ٹیم دے کر گیا تھا۔ اب بھی جب میں حکومت چھوڑوں گا تو دنیا کی نمبر ون ٹیم دے کر جاؤں گا جس نے 5 سال میں کچھ ڈیلیور نہیں کیا ہو گا۔ دیکھیں جب میں کرکٹ کھیلتا تھا تو لوگ کہتے تھے کرکٹ نہیں کھیل سکتا، پھر کہتے تھے فاسٹ باؤلر نہیں بن سکتا، پھر کہتے تھے شوکت خانم نہیں بنا سکتا، پھر کہتے تھے وزیراعظم نہیں بن سکتا ، میں نے سب کیا، یہ بھی کر لوں گا کیونکہ میں ضدی ہوں اور لاڈلا کھیلنے کے لئے چاند مانگ ہی لیتا ہے۔

صحافی : آپ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں وہاں تو ایک چادر کا بھی حساب دینا پڑتا تھا، یہاں آپ سے فارن فنڈنگ (بیرون ملک امداد) کا سوال کیا جاتا ہے تو آپ عدالتوں میں جا کر سٹے لے لیتے ہیں۔

وزیراعظم:دیکھیں ریاست مدینہ بنتے وقت لگتا ہے، میرے پاس کوئی بٹن نہیں ہے، جسے آن کروں تو تبدیلی آ جائے اور ریاست مدینہ بن جائے۔ جس طرح آپ وزیراعظم تو جیسے تیسے بن جاتے ہیں لیکن وزیراعظم کرتے کیا ہیں یہ سیکھنے میں وقت لگتا ہے، اس حساب سے ریاست مدینہ کے خد و خال سمجھنے کے لیے ہمیں مزید 5 سال درکار ہیں۔ اگر مجھ سے حساب لیا گیا تو باقیوں سے بھی حساب لیا جائے۔ یہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، اور جمعیت علمائے اسلام کو بھی تو بیرون ملک سے امداد ملتی ہے، ہم نے تمام کھاتوں (اکاؤنٹس) کا حساب دیا ہے سوائے ان کے جن کی صورتحال نازک ہے، لیکن وہ بھی جلد واضح ہو جائے گی کیونکہ لندن کی عدالت نے ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہاں سے کڑیاں کھل جائیں گی۔ پھر میں اپنی ہی پارٹی کے لوگوں کو این آر او دے کر معاف کر دوں گا۔ اگر وہ نہ ہو سکا تو ایک کمیشن بنا دوں گا، جس کی رپورٹ پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔

صحافی : آپ نظام میں اصلاحات کی بات کرتے تھے، یکساں تعلیمی نظام، معاشرتی و معاشی انصاف کی بات کرتے تھے، آپ عوام پر سرمایہ کاری کی بات کرتے تھے اور ان تمام منصوبوں کا کوئی پرسان حال ہی نہیں۔ آپ ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کی بات کرتے تھے۔

وزیراعظم: فتح اور کامیابی صرف کہانیوں میں ہوتی ہے، نیز سکون صرف قبر میں ہے، اس دنیا میں سکون و چین ممکن نہیں۔ ہم آپ کو سکون دینے کے لئے آئے بھی نہیں ہیں، جن کے آرام و چین کے لئے ہمارا بندوبست کیا گیا تھا وہ نہ صرف چین میں ہیں بلکہ ان کی پانچوں گھی میں ہیں اور سر کڑاھی میں۔ ہم آپ کے لئے آئے ہوتے تو اس ٹیم کا میں آپ کے لئے انتخاب کرتا ، میرے انتخاب سے لوگوں کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ میں مشکلات ختم کرنے نہیں، بڑھانے کے لئے آیا ہوں اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے عوامی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

چینی جو 50 سے 53 روپے کلو تھی ہم نے محنت کر کے اسے عوامی پہنچ سے دور کیا ہے، تاکہ ذیابیطس پر قابو پایا جا سکے۔ آٹے کی قلت اس لئے پیدا کی گئی تاکہ لوگوں کو موٹاپے سے چھٹکارا دلوایا جا سکے، کیونکہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کاربوہائیڈریٹس مضر صحت ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہماری ماحول دوست پالیسیوں کا تسلسل ہے ہم چاہتے ہیں لوگ زیادہ سے زیادہ اپنے قدموں اور میٹرو بسوں پر سفر کریں۔ اس تمام تر مشق سے لوگوں کی صحت بہتر ہو گی اور میٹرو کا خسارہ بھی کم ہو جائے گا۔

رہ گیا معاشی اور معاشرتی انصاف ، پچھلے اڑھائی سال میں ہم نے اس پر بھی بہت محنت کی ہے۔ یہ ہماری پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے ، غریب غریب تر ہو رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کی رفتار میں اضافہ ہو کیونکہ جب ملک میں اشرافیہ رہ جائے گی تو ہم اپنے نعرے کی تکمیل کے قریب ہوں گے دو نہیں ایک پاکستان صرف اشرافیہ کے لئے۔

صحافی: آپ کبھی چینی انقلاب، کبھی ایرانی انقلاب، کبھی امریکہ طرز جمہوریت کی بات کرتے ہیں، اور آخر میں اس سب کو ریاست مدینہ جیسے مقدس نظریہ سے جوڑ دیتے ہیں۔ کیا آپ ابہام کا شکار نہیں؟

وزیراعظم: دیکھیں یہی میری خوبی ہے 22 سالہ جدوجہد میں بھی میں نے ابہام ہی پھیلایا ہے، 1992ء کے ورلڈ کپ کا ابہام، 2013ء کے الیکشن میں دھاندلی کا ابہام، انقلاب لانے کا ابہام، بدعنوانی کا ابہام، دو نہیں ایک پاکستان کا ابہام، تحریک انصاف کو ایک سیاسی جماعت بنانے کا ابہام، نجات دہندہ ہونے کا ابہام، ٹیکس اکٹھا کرنے کا ابہام، آپ لکھتے جائیں فہرست ختم نہیں ہو گی۔ کیونکہ جو لوگ اپنی زندگی میں ابہام کا شکار ہوں وہ ابہام ہی پھیلا سکتے ہیں۔

نیز ہمارے سیاسی دانشور گوئبلز نے کہا تھا کہ جھوٹ اتنا بولو کہ بالآخر وہ سچ لگنے لگے۔ آخر میں اس ملک میں جب کچھ نہ بک سکے تو مذہب اور حب الوطنی بیچنا شروع کر دو ، کاروبار کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ جیسے میرے کاروبار کو چار چند لگ گئے۔ کیوں نظام چلانے کی اہلیت تو ہے نہیں ، نہ مجھ میں نہ میری جماعت میں۔

صحافی : آپ کی اڑھائی سالہ کارکردگی کی بات کی جائے تو اس میں یوٹرن کے علاوہ کچھ نہیں ہے، کارکردگی صفر بٹا صفر ہے، مقاصد و بیانات (وژن اور سٹیٹمنٹ) میں تضاد ہے۔ نواز شریف کی مثال لے لیں، ان کی طبعیت ناساز تھی، لیکن آپ کے ماتحت لوگوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے ان کو پاکستان سے باہر بھیجا، جب آپ کو پتا بھی چل گیا تو آپ نے کچھ نہیں کیا اور فرما دیا میں این آر او نہیں دوں گا۔ مہربانی فرما کر وضاحت دے دیں؟

وزیراعظم: دیکھیں منزل تک پہنچنے کے لئے ہم بہت سے راستے لیتے ہیں ، جیسے میں نے اس کرسی تک پہنچنے کے لئے انتہائی غلط راستے چنے، جب آپ منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو اس کے بعد آپ اپنے عہد و پیماں بھی بھول جاتے ہیں، یاد آئیں گے تو ایک ایک کر کے عمل درآمد شروع کر دیں گے۔ نواز شریف کو ہم نے نہیں پچھلی حکومت نے بھیجا ہے کیونکہ وہ حکومت شہباز شریف کی تھی ، اس لئے انہوں نے رپورٹس میں رد و بدل کر کے ہمیں اس جال میں پھنسایا ہے، لیکن آپ بے فکر رہیں ، میں ان کو این آر او نہیں دوں گا۔ اگر کوئی اور خفیہ ہاتھ این آر او دے دے طبی رپورٹس کی طرح تو میں اس کا کچھ کر نہیں سکتا، لیکن میں ایک با اختیار وزیراعظم ہوں۔

صحافی: آخر میں خواتین و حضرات میں وزیراعظم صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے ملک میں 1 کروڑ نوکریاں دیں، 8000 ارب ٹیکس اکٹھا کیا، پروٹوکول نہیں لیا، گورنر ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کو جامعات (یونیورسٹیز) بنایا، 50 لاکھ گھر لوگوں میں تقسیم کیے، حزب اختلاف کے تمام چوروں سے بدعنوانی کا پیسہ واپس لیا، عدالتی و انتظامی (بیوروکریسی) نظام میں اصلاحات کیں، نئی قانون سازی کی، یکساں تعلیمی نظام، صحت، بلدیاتی نظام کی سہولیات تمام شہریوں کو مہیا کیں، معاشی ترقی کو 10 فیصد تک لے گئے، 350 چھوٹے بڑے ڈیم بنائے ہیں۔

تحریک انصاف اپنے چیئرمین کا انتخاب بذریعہ انتخابات کرتی ہے، بدعنوانی کا مکمل خاتمہ کیا ہے، پٹواری اور تھانہ کلچر تبدیل کیا ہے ۔ پاکستان اب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں پہلے دس ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں بدعنوانی کی شرح سب سے کم ہے۔ اس سب کی بنیادی وجوہات عوام الناس کو انڈے، مرغیاں، مرغے، کٹے، کٹیاں دینے کی بدولت ہوا۔ آخر میں خدائے بزرگ و برتر کے آگے التجا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اگلے 5 سال کے لئے بھی سیلیکٹ ہو تاکہ ملک مزید کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply