پاکستان انڈیا دشمنی کا چورن
دنیا اپنے مسائل حل کر کے ترقی کی جانب گامزن ہے اور ہم اپنے تمام تر وسائل اور نالائقیوں اور کمزوریوں سے سے آنکھ بچا کر دشمن پر لعن طعن کرنے میں مصروف ہیں۔
اور پھر جو چند ایک اتفاقی کامیابیاں مل گئی ہیں ، ان کی خوشی میں ایسے سرشار ہیں کہ ہمیں یہ ادراک ہی نہیں کہ پچھلے ستر سال میں ہم اپنے آپ کے ساتھ کیا کچھ کر چکے ہیں اور دنیا سے کم از کم سو سال پیچھے کھڑے ہیں۔
پاکستان میں دہائیوں سے انڈین دشمنی کا چورن بیچا جا رہا ہے۔ حالانکہ مہذب معاشروں میں یہ بات اچھی طرح سوچی اور سمجھی جاتی ہے کہ جنگ و جدل سے سوائے بربادی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ہمیں پچھلے ستر سال سے یہی پڑھایا جا رہا ہے کہ انڈیا اصل دشمن ہے ، ازلی دشمن ہے اور ہم سے جنگ لڑتا ہے ،ایسے کرتا ہے ، ویسے کرتا ہے۔
جناب عالی! سوال یہ ہے کہ کون سا دشمن اور کون سی جنگ؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر ملک کے اپنے اتنے زیادہ مسائل ہیں اور پھر یہ دنیا ایک گلوبل ویلیج ہے جس میں روایتی جنگ لڑنا خود اپنے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
ہم نے آج تک انڈیا سے تین جنگیں لڑی اور سب سے مشہور جنگ جو انیس سو پینسٹھ کی جنگ ہے ، وہ غالباً چار یا پانچ دن جاری رہی۔
جناب عالی! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ جنگ کیا ہوتی ہے اور دشمنی کیا ہوتی ہے ، ویسے تو سارا یورپ اور امریکا ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے مگر صرف فرانس اور جرمنی کی بات کرتا ہوں۔
یہ دو ایسے ہمسائے ہیں جنہوں نے دو عظیم جنگیں بھی لڑی ہیں۔ یہ گیارہ سال تک ایک دوسرے کے ساتھ جنگ لڑتے رہے ، جی ہاں پورے گیارہ سال اور ایک دوسرے کی نسلوں کی نسلیں کاٹ کر رکھ دیں مگر جب ان کو عقل آئی تو انہوں نے یہ بات سمجھ لی اس طرح تو ہم آنے والی نسلوں کو بھی اسی آگ اور خون کے کھیل میں دھکیل دیں گے ، اس لیے اس تمام تر جنگ وجدل کو ختم ہونا چاہیے۔ آج ساری دنیا جانتی ہے کہ دونوں ممالک بہترین پڑوسی ہیں ہیں تجارتی تعلقات ہیں ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں۔
ایک ملک کاسمیٹک اور خوشبویات کی دنیا کا چیمپئن ہے اور دوسرا ملک آٹو موبائل انڈسٹری کا بادشاہ بن چکا ہے۔ کیونکہ باشعور عوام نے درست فیصلہ کیا اور اپنے آپ کو جدیدیت اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔
ہم آج تک اٹھارہویں صدی کی فرسودہ سوچ میں گرے ہوئے ہیں۔ اہل اقتدار اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر وہ جنگ و جدل کا راستہ چھوڑ کر امن کا راستہ اپنائیں گے تو عوام بھی خوش حال ہوں گے اور ملک بھی ترقی کرے گا مگر ان سے ان کی روزی پر لات پڑتی ہے کیونکہ جو طبقہ آج دن تک جنگ اور جہاد کا چورن بیچ بیچ کر کھا رہا ہے، اس کی روٹیاں بند ہو جائیں گی۔


