تالیوں اور گالیوں کے درمیان ڈولتی تبدیلی سرکار

قوم کو دروں بین نہیں تماش بین سمجھ رکھا ہے۔ چونکہ راقم تمام مسلمانوں کی طرح ریاضی میں نہایت کمزور واقع ہوا ہے ، اس لیے چھ ہزار ارب کے مجموعے میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ غالباً ہمارا اس سال کا بجٹ خرچ 7300 ارب روپے ہے۔ قربان جائیے اپنے کپتان کے جو ایک تجارتی مرکز کی کاروباری سرگرمیوں سے سالانہ چھ ہزار ارب روپے حاصل کرنے کا مژدۂ جاں فزا سنا رہا ہے۔ اس عظیم خوشخبری کو بھی سن کر اگر حاضرین محفل کی آنکھیں نہ کھلیں اور وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوں تو انہیں جھنجھوڑنا بہت ضروری ہے۔

بلکہ ہم تو مستقبل میں ایسے کسی نا خوشگوار سانحے سے بچنے کے لیے کپتان کو مشورہ دیں گے کہ وہ ایسی ہر تقریب کے ہنگام کچھ مستعد بالٹی برداروں کو اپنے ساتھ رکھا کریں جو حاضرین کی آنکھ لگتے ہی ان پر لوٹے بھر بھر کر پانی کے ڈالنا شروع کر دیا کریں۔ اگر بالٹی بردار میسر نہ ہوں تو یہ کام چند سدا بہار ”لوٹوں“ سے بھی لیا جاسکتا ہے۔

دنیا کے ہر حکمران کو اپنے لیے تالیاں بجوانے کا شوق ہوتا ہے اور وہ خود کو نہایت مقبول لیڈر بھی سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ہمارے مرد مومن مرد حق بھی خود کو امیر المومنین اور مقبول ترین صدر سمجھتے تھے۔ ان کو اطلاع ملی کہ ایک گستاخ شہری ان پر لطیفے گھڑ کر ان کی شہرت کو داغدار کرنے کی گمراہ کن کوشش میں مصروف ہے۔ انہوں نے اپنے جاسوس خاص کو حکم دیا کہ فوراً اس گستاخ کو ہمارے حضور پیش کرو جو ہماری ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔

چند یوم کے اندر جب لطیفہ طراز کو جناب صدر کے روبرو پیش کیا گیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ تمہیں جرأت کیسے ہوئی ہم پر لطیفہ طرازی کی، تمہیں پتہ نہیں کہ ہم ایک مقبول ترین لیڈر اور صدر ہیں؟ اس شخص نے نہایت اطمینان سے جواب دیا کہ حضور! یہ لطیفہ تو میں نے نہیں بنایا۔

ہمارے موجودہ وزیراعظم بھی خود کو پاکستان کی تاریخ کا مقبول ترین لیڈر سمجھتے ہیں۔ اڑھائی سال کی مارا ماری اور خجل خواری کے باوجود موصوف کو اب بھی یہ زعم ہے کہ وہ نہ صرف ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں بلکہ عالم اسلام کے قائد اور نجات دہندہ بھی ہیں۔ لاہور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جب انہوں نے ایک تجارتی مرکز سے چھ ہزار ارب روپے سالانہ حاصل ہونے کی خوشخبری سنائی تو حاضرین مجلس نے اسے شاید لطیفہ سمجھ کر در خور اعتنا نہ سمجھا۔

اس پر وزیراعظم کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے حاضرین پر طنز کیا کہ وہ سو رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کی بے مغز تقریریں سننا کسی تعزیری مشقت سے کم نہیں کہ الٹا ان سے بے ربط اور غیر حقیقی سمع خراشی پر تالیاں بجانے کا مطالبہ بھی کیا جائے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اب یہ قوم ہائبرڈ اور ایک پیج والی حکومت سے اس قدر تنگ آ چکی ہے کہ تالیوں کے بجائے گالیوں پر اتر آئی ہے۔وہ کپتان اور ان کے سرپرستوں سے دست بستہ عرض گزار ہے کہ اب ان کے ہاتھوں میں اتنی سکت ہی نہیں رہی کہ مزید تالیاں بجا سکیں۔

وہ کپتان سے کہتی ہے کہ تم نے کرکٹ کے میدانوں میں ملکوں ملکوں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہم نے خوب تالیاں بجائیں۔ کرکٹ کھیلتے کھیلتے تم حسینوں اور نازنینوں کی زلفوں سے کھیلنے لگے ہم نے خوش ہو کر تالیاں بجائیں۔ تم نے شوکت خانم ہسپتال بنایا ہم نے تالیاں بجائیں۔ تم نے ٹیریان خان کو اپنا نام دیا ہم نے تالیاں بجائیں۔ تم نے جمائما کو اپنایا ہم نے تالیاں بجائیں۔ تم نے جمائما کو چھوڑ کر ریحام سے بیاہ رچایا ہم نے بھنگڑے ڈالے۔ پھر ریحام کو چھوڑ کر بشریٰ بیگم سے شادی کی ہم نے تالیاں بجائیں۔

پھر سیاست میں آ کر سیاسی کلچر بدلنے کی بات کی ہم نے تالیاں بجائیں۔ تم نے غیر جمہوری قوتوں کو للکارا ہم نے تالیاں بجائیں۔ پھر اپنے نظریات سے یوٹرن لے کر انہیں قوتوں سے ساز باز کر کے حکومت بنائی ہم نے تالیاں بجائیں۔ تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لگایا، نوے دن میں کرپشن ختم کرنے کا اعلان کیا، اداروں کو سیاست سے پاک کرنے، بے روزگاری و مہنگائی کے خاتمے کا ڈھنڈوا پیٹا ہم نے زوردار تالیاں بجائیں۔ تم نے ملک میں فاشزم کو عام کر کے ہر مخالف آواز کو دبایا ہم نے تالیاں بجائیں۔

مگر اب تم ملک کی معیشت، سیاست، میڈیا اور جمہوریت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ہمیں کہتے ہو کہ ہم تالیاں بجائیں تو یہ ہم سے نہیں ہو گا۔

تم قوم کی بینڈ بجاؤ اور ہم تالیاں بجائیں، یہ ہم سے نہ ہو گا۔ تم کشمیر کا سودا کر دو اور قوم سے توقع رکھو کہ وہ تمہارے لیے تالیاں بجائے گی یہ کام اس قوم سے نہیں ہو گا۔ آئے دن غریب قوم پر مہنگائی، پٹرول، گیس، بجلی اور ادویات کے گراں نرخوں کے بم گراؤ اور مفلوک الحال قوم تمہارے لیے تالیاں بجائے، یہ اس قوم سے نہیں ہو گا۔ تم ہمیں سبز باغ دکھاؤ اور ہم تالیاں بجائیں؟ تم صادق امین ہو کر ہر روز کذب بیانی کرو اور ہم تالیاں بجائیں؟ تم سی پیک ختم کرو، مودی کو مس کالیں دو، جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملا دو، بارہ موسموں کا لطیفہ سناؤ اور ہم تالیاں بجائیں؟

نہیں وزیراعظم صاحب! اب یہ قوم آپ کے لیے تالیاں نہیں بجائے گی۔ اب اسے پتہ چل گیا ہے کہ آپ کی رخصتی کا گجر بجنے والا ہے۔ یہاں کی ریت یہ ہے کہ آنے والوں کے لیے تالیاں اور جانے والوں کو گالیاں۔ یقین نہ آئے تو تاریخ دیکھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words