سلیمہ ہاشمی میری محسن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر میں یہ کہوں کے نیشنل کالج آف آرٹس میری پہلی محبت ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ میری این سی اے میں داخلے کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ این سی اے جانے کی خواہش میں نے بہت پہلے ہی سے دل میں پال لی تھی۔ مجھے بچپن ہی سے رنگوں، شاعری، موسیقی اور کتابوں سے خاص دل چسپی رہی۔ ماں مجھے سائنس اور ریاضی پڑھانا چاہتی تھیں، وہ مجھے اس دور کی ہر ماں کی طرح ڈاکٹر بنانے کی امید رکھتی تھیں۔ لیکن مجھے تو بس رنگوں سے کھیلنا تھا۔

اگر پاپا پروگریسو سوچ کے مالک نہ ہوتے تو شاید میں بھی آج کسی ہسپتال میں نوکری کر رہی ہوتی۔ میٹرک کرنے کے بعد مجھے امتحان پاس کرنے کی بجائے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ اب میں سائنس کے مضامین نہیں پڑھوں گی بلکہ اپنا پسندیدہ فائن آرٹ پڑھوں گی۔ ماں نے گھرکی ماری کہ ”فزکس، کیمسٹری میں زیادہ اچھے نمبر کیوں نہ لیے۔“ میں نے پاپا کے شفیق چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”مجھے نہیں پڑھنا سائنس وائنس مجھے فائن آرٹ کرنا ہے۔“ ماں کی شعلہ برساتی آنکھیں دیکھ کر مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا۔ پاپا جو مجھے ہمیشہ لاڈ میں بگاڑا کرتے فوراً بولے ”انسان کو شخصی آزادی ہونی چاہیے! اسے وہی پڑھنے دو جو وہ پڑھنا چاہتی ہے۔“ بس یہ سننا تھا کہ دل کے تار بج اٹھے۔ آنکھوں میں سجے وہ سارے افسانوی رنگ جن میں مصوری جھلکتی تھی میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ یوں میں ایف اے میں فائن آرٹ پڑھنے لگی جس کی بہت پیاری یادیں ہیں۔ لیکن آج اپنے این سی اے کے ایڈمشن کے حوالے سے بات کروں گی۔

یوں تو زندگی میں انسان بہت سے لوگوں کے احسان کا بار اٹھائے چلتا رہتا ہے۔ لیکن چند لوگ ہی ہوتے ہیں جو زندگی میں صرف اپنی چھاپ ہی نہیں چھوڑتے بلکہ زندگی میں شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے دو لوگ میرے محسن و مربی ہیں۔ ایک میرے پیارے پاپا اور دوسرے میڈم سلیمہ ہاشمی۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ انٹر میڈیٹ کے دوسرے سال میں اقبال ڈے پر پنجاب ٹیکسٹ بک کی طرف سے پورے پنجاب بھر سے ایک مصوری کا مقابلہ منعقد ہوا۔ اس مقابلے میں علامہ اقبال کے ایک شعر پر تمام حصہ لینے والوں کو ایک پینٹنگ بنانا تھی۔

اس کے لیے سب طلبا و طالبات اپنا اپنا آرٹ کا سامان یعنی رنگ، پیلیٹ اور برش وغیرہ لے کر کوئینز روڈ پر واقع پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی عمارت میں پہنچے۔ اس مقابلے میں تمام شرکاء کو ممتحن کے سامنے دو گھنٹے بیٹھ کر وہیں اپنی اپنی پینٹنگ بنانا تھی۔ اس مصوری کے مقابلے کے ججز سلیمہ ہاشمی، کولن ڈیوڈ اور اعجاز الحسن صاحب تھے۔ اس مقابلے میں میری پینٹنگ کو پنجاب بھر میں دوم پوزیشن ملی جو میرے لیے باعث فخر و انبساط تھی۔ اس مقابلے میں ، میں نے پہلی مرتبہ آئل پینٹنگ بنائی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میرے پاس ایک بڑا سا گتہ پڑا تھا جسے میں ساتھ لے گئی تھی ، اسی پر میں نے وہ پینٹنگ بنا ڈالی۔ تب معلوم ہی نہ تھا کہ کینوس یا بورڈ پر پینٹنگ بنانا ہوتی تھی۔ جس شعر پر پینٹنگ بنانا تھی وہ مجھے اب بھی یاد ہے۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

اس وقت کے مشہور اخبارات میں نہ صرف یہ خبر بلکہ مشرق اور جنگ اخبار میں میرا انٹر ویو بھی چھپا۔ جب بات آئی نیشنل کالج آف آرٹس میں داخلے کی تو پتہ چلا کہ لائف سائز فگر ڈرائنگ کا ٹیسٹ ہو گا۔ تو لیجیے ہمارا منہ پھر سے لٹک گیا کیونکہ ہمارے ایف اے کے کورس میں فگر ڈرائنگ تو سرے سے تھی ہی نہیں۔ پتہ چلا کہ الحمراء آرٹس کونسل میں ایک Sketch Club ہے جہاں فگر ڈرائنگ سکھائی جاتی ہے۔ وہاں گئے تو ہم لیٹ ہو چکے تھے ، داخلے بند ہو گئے تھے۔

مایوسی ہمارے دل میں اتر گئی اور ہم رونے لگے کہ اتنے اچھے رزلٹ کا اب کیا کروں گی اگر NCA ہی نہ جا سکی۔ ایسے میں اچانک میڈم سلیمہ ہاشمی کا خیال آیا کہ کیوں نہ NCA جا کر ان سے ملا جائے اور ان سے اس سلسلے میں کچھ مدد مانگی جائے۔ بس وہی لمحہ تھا جس میں فیصلہ بھی ہمارا تھا اور منہ بھی ہمارا،  لہٰذا منہ اٹھایا اور چل دیے NCA ، اس زمانے میں NCA کے باہر ٹین کی بڑی بڑی تنی ہوئی چادریں نہ تھیں بلکہ مال روڈ سے ہی نظر آتی ہوئی لاہور کے عجائب خانے سے ملحقہ لال اینٹوں سے بنی ہوئی ایک پر شکوہ عمارت اپنی طرف بلایا کرتی۔

جونہی میں کالج کے مین گیٹ پر پہنچی تو چوکیدار نے روک دیا اور پوچھا کہ ”کیا آپ یہاں پڑھتی ہیں۔“ ہمارا جواب ”نہیں“ میں تھا۔ میں نے بتایا کہ مجھے میڈم سلیمہ ہاشمی سے ملنا ہے مگر اس نے مجھے گیٹ کی دیوار پر لگی ہوئی سلور کی وہ تختی دکھائی جس پر Visitors Not Allowed کے حروف کندہ تھے۔ میں نے اس سے بہتیرا کہا کہ مجھے ضروری ملنا ہے مگر اس نے جانے نہ دیا۔ بہرحال میں کسی نہ کسی طرح کالج میں داخل ہو گئی۔ اندر جا کر میڈم سلیمہ ہاشمی کے بارے میں پوچھا تو کسی بھلے انسان نے ان کے دفتر تک رہنمائی کی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے کمرے میں زمین پر ایک طرف چٹائی سی بچھی تھی اور بہت سی شیشے کی مختلف رنگ و انداز کی بوتلیں سجی ہوئی رکھی تھیں۔ میں نے ان سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو وہ اپنے مخصوص انداز میں اپنی ٹھوڑی پر اپنا ہاتھ رکھے بولیں۔ ”آ جاؤ کیا کام ہے۔“ میں نے ہچکچاتے ہوئے اپنا تعارف ثبوت کے طور پر اخبار دکھاتے ہوئے کروایا۔ ان کو بھرپور طور پر یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ ہمیں تو صرف اور صرف اسی کالج میں پڑھنا ہے۔

قسمت کی دیوی اس وقت ہم پر پوری طرح مہربان تھی۔ انہوں نے ہمیں اسی وقت ایک ڈرائنگ بورڈ اور پیپر دے کر اس چٹائی پر بٹھا دیا اور کہا یہ بوتلوں کی ڈرائنگ کرو ”۔ یوں وہ تین چار روز مجھے بلا کر اپنے دفتر میں بٹھا کر ڈرائنگ کرواتی رہیں۔ پانچویں روز انہوں نے مجھے ایک پرچی تھماتے ہوئے کہا۔“ دیکھو یہاں آنے کا تو تمہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا ، یوں کرو کہ میری طرف سے Sketch Club لے جا کر کولن ڈیوڈ صاحب کو دینا وہ تمہیں رکھ لیں گے۔

”ا س روز میں سلیمہ ہاشمی کی عظمت کی قائل ہو گئی۔ جو میرے ساتھ ہوا عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ Sketch Club میں کولن ڈیوڈ، اقبال حسین، خالد اقبال اور چھوٹے اقبال احمد صاحب ہمیں ڈرائنگ سکھایا کرتے۔ یوں ہم نے نیشنل کالج آف آرٹس کے داخلے کے امتحان کو پاس کرنے کے لیے فگر ڈرائنگ سیکھی۔ اس وقت مہاراج کتھک وہیں الحمراء میں کلاسیکل ڈانس بھی سکھایا کرتے تھے۔ میں اکثر اپنی کلاس کے بعد ان کی کلاس بھی اٹینڈ کیا کرتی تھی۔

میرے لیے وہ ایک نئی دنیا تھی جہاں وقت تھم جایا کرتا تھا۔ اس وقت لاہور کی صبحیں، شامیں، دوپہریں، گرمیاں، سردیاں سب اک عجب سے رومان میں بسی ہوتیں۔ یوں ہم نے بالآخر اپنے بچپن کے خواب کو یعنی این سی اے میں داخلے کی تعبیر کو حاصل کر لیا۔ این سی اے ایک ایسی سحر انگیز جگہ ہے جہاں زندگی کا لبادہ رنگوں میں اپنی معنویت لیے ہوئے ہر رنگ آپ پر پھینکنے کو تیار رہتا ہے۔ نیشنل کالج آف آرٹس کے کوزی سے فرحت بخش کیمپس میں صبح کے وقت کی اگتی ہوئی دھوپ میں بھی ہم وہیں ہوتے۔

پھر دوپہر تک دھوپ فوارے والے باغ کی تمام در و دیوار پر اپنے سنہری بال پھیلا چکی ہوتی تو ہم تب بھی وہیں ہوتے۔ رفتہ رفتہ ڈھلتی ہوئی دھوپ کے مدھم ہوتے ہوئے سایوں کو بھی ہم نے اپنی آنکھوں اور یادوں میں آج بھی جذب کیا ہوا ہے۔

این سی اے پر اور بھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔ آج تو بس اپنی محسن اور اپنی استانی میڈم سلیمہ ہاشمی کو ان کی فراخ دلی پر خراج تحسین پیش کرنا تھا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو شاید میرا داخلہ نہ ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply