سینیٹر بننے والے پی ٹی آئی کے غریب لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ انیس سو نوے کے آس پاس کی بات ہے جب اس علاقے سے ابھی موٹر وے نہیں گزرتی تھی جبکہ دریائے سندھ کے ایک طرف خیبر پختونخوا کا ضلع صوابی اور دوسری طرف پنجاب کا ضلع اٹک ہے۔ اب پشاور اسلام آباد موٹر وے صوابی انٹر چینج کے قریب دریائے سندھ کے اوپر جہاں سے گزر رہی ہے عین اسی مقام پر قریبی جنگل (بیلہ) میں خیبر پختونخوا کے مقامی بدمعاش گینگ کا خود ساختہ علاقہ تھا جہاں ان کی مرضی کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔

دریا کے مغربی کنارے یعنی خیبر پختونخوا سائیڈ پر رات کے وقت یہاں سگریٹ کے کارٹن سے بھرے ٹرکوں کے قافلے پہنچتے (بین الاقوامی برانڈ کے یہ جعلی سگرٹ صوابی آور مردان کے مقامی کارخانوں میں بنائے جاتے کیونکہ اس علاقے میں تمباکو کی پیداوار ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے) ٹرکوں سے مال اتار کر کشتیوں پر لاد دیا جاتا اور یوں بغیر ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی ادا کیے مال دوسرے صوبے یعنی پنجاب پہنچا دیا جاتا۔

یہ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا معاملہ تھا اس لئے صوابی اور مردان کے یہ سگریٹ مافیا راتوں رات ارب پتی بنتے گئے لیکن رنگ میں بھنگ اس وقت پڑ گئی جب دریا کے کنارے بیلے میں مقیم بدمعاش گینگ کو معاملے کا پتہ چلا اور انہوں نے کشتیاں روک کر اپنا حصہ وصول کرنا شروع کیا۔

اب ظاہر ہے سگریٹ مافیا دولت کے حصول کے بعد اتنے کمزور نہیں رہے تھے بلکہ طاقت اور اثر و رسوخ بھی ان کے ہاتھ آ چکا تھا اس لئے علاقہ ”کلیئر“ کرنے کی منصوبہ بندی ہوئی۔ کچھ دنوں بعد صوابی پولیس کے ساتھ ساتھ پشاور نوشہرہ اور اٹک کے اضلاع پر مشتمل پولیس کی بھاری نفری نے رات کے وقت پورے جنگل کو گھیرے میں لیا اور ایک بڑا آپریشن شروع کیا جس میں گینگ کا سرغنہ کئی ساتھیوں سمیت ”پولیس مقابلے“ میں مارا گیا جبکہ باقی گرفتار کر لئے گئے اور یوں علاقہ کلیئر ہونے کے بعد پھر سے ٹرکوں اور کشتیوں کے ذریعے وہ ”کاروبار“ چل پڑا جس کی بطن سے بعد میں ایک کراہت بھری سیاست پھوٹی جس پر حسب توقع پی ٹی آئی نے ایک شان تفاخر کے ساتھ اسمبلیوں سے لے کر سینیٹ اور وزارتوں تک کے دروازے کھول دیے۔

صرف اسی پر اکتفا نہیں بلکہ اگلے چند دنوں میں انہی کاروباری گھرانوں سے تعلق رکھنے والے مزید لوگ بھی ایوان بالا میں داخل ہو کر عمران خان کو سیاسی کمک فراہم کر کے ملک و قوم کی وہی ”خدمت“ کریں گے جو عمران خان خود بھی کر نے میں مصروف ہیں۔ رہے نام اللہ کا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والا کارخانہ دار محسن عزیز بھی دوسری بار ان غریبوں کے جلو میں سینیٹ کا رخ کرے گا جو اپنی غربت ہمیشہ چندوں کی شکل میں لٹاتا رہا۔

ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر خیبر پختونخوا سے بال فراہم کرنے والے ڈاکٹر ہمایوں مومند کے ساتھ دوسرے صاحب دوست محمد محسود ہیں جن کا بنیادی تعلق تو وزیرستان سے ہے لیکن ساری عمر اسلام آباد میں رہے جہاں وہ اسلام آباد سیکرٹریٹ میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے۔ ان صاحب کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ان کا بیٹا صوبے میں تحریک انصاف کے دونوں ادوار میں مسلسل اہم عہدوں پر رہا جن میں پولیٹیکل ایجنٹ اور ڈپٹی کمشنر کے عہدے بھی شامل ہیں وہ آج کل بھی کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ گویا پانچوں گھی میں یعنی بیٹا کمشنر اور باپ سینیٹر۔

خواتین نشستوں پر ثانیہ نشتر گو کہ پی ٹی آئی حکومت کے حوالے سے ایک معروف نام ہے لیکن بنیادی طور پر وہ پشاور کی ایک ایلیٹ کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ سابق گورنر مغربی پاکستان سردار عبدالرب نشتر کی نواسی آور آفتاب شیرپاؤ کی قریبی عزیزہ ہیں۔

سو اگلے چند دنوں میں تحریک انصاف کے یہ ”غریب ورکرز“ ایوان بالا کا حصہ بن کر اس عمران خان کے دست و بازو بنیں گے جو غریب لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کا دعویدار ہے۔

غریب کارکنوں سے یاد آیا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک غریب ارب پتی عبد القادر سینیٹ ٹکٹ کے حصول کے دن ہی پی ٹی آئی میں شامل ہوا تھا، در اصل ”لین دین کے معاملات“ کہیں اور طے کر چکا تھا لیکن جب یہ خبر اسلام آباد والوں کو ہوئی تو تحریک انصاف کوئٹہ کی مقامی تنظیم کو اشارہ کیا گیا جنہوں نے (کسی اور کے منصوبے کے تحت) میرٹ کی پامالی پر دھرنا دینا شروع کیا اور پھر ٹکٹ عبد القادر سے واپس لے کر ایک پارٹی ورکر سید ظہور آغا کو دیا گیا لیکن عبد القادر کا سودا اتنا پکا تھا کہ اسے فوراً بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کا ٹکٹ دیا گیا لیکن اگلے دو تین دنوں میں ”باہمی مذاکرات کی کامیابی“ کے بعد تحریک انصاف نے اپنے امیدوار کو عبد القادر کے مقابلے میں دستبردار کرا کر اس کا راستہ مزید صاف کر دیا گویا ظہور آغا بے چارے کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پشاور کے ایک غریب پارٹی ورکر کے ساتھ لیاقت ترکئی کے معاملے میں ہوا تھا۔

سو اگلے ہفتے پاکستان تحریک انصاف کے یہ ”پرانے اور غریب کارکن اپنی غربت سمیت“ ایوان بالا میں داخل ہو کر عمران خان کے دست و بازو بنیں گے اور پھر عمران خان کے پیروکار اپنے لیڈر کو مصنوعی غصے اور سادگی کے ملے جلے چہرے کے اتار چڑھاؤ اور تاثرات کے ساتھ یہ کہتے سنیں گے کہ کسی ڈاکو اور کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا این آر او نہیں دوں گا سارے مافیاز اکٹھے ہوئے ہیں سارے کرپٹ اپوزیشن میں جمع ہوئے ہیں اور تحریک انصاف امیروں کی نہیں بلکہ غریبوں کی پارٹی ہے اور ہم پارٹی میں غریب کارکنوں کو آگے لائیں گے۔ ساتھ ساتھ ایک نئی خوش فہمی کا لولی پوپ شعور سے بیگانہ اس بے ہنگم ہجوم کی طرف پھینک دیں گے جن کی آنکھوں کو ابھی تک لولی پوپ اور ٹرک کی بتی کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply