ہمہ گیر اشارتی زبان ہی سماعت سے محروم افراد کے بیشتر مسائل حل کر سکتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز کے خصوصی افراد کو دنیا اور خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مسائل کا سامنا ہے جس کی بنیادی وجہ خصوصی افراد کے درست اعداد و شمار کا نہ ہونا ہے۔ 1998 کی مردم شماری میں خصوصی افراد کو ملک کی آبادی کا دو اشاریہ تین آٹھ فیصد ظاہر کیا گیا۔ جبکہ 2017 کی مردم شماری میں شماریات کے فارم سے خصوصی افراد کا نام ہی نکال دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر مردم شماری میں خصوصی افراد کا ڈیٹا تو مرتب کیا گیا لیکن حیران کن طور پر خصوصی افراد کی تعداد کو اشاریہ چار آٹھ فیصد ظاہر کیا گیا۔ جس پر ساری دنیا حیران ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا اور وطن عزیز کی پندرہ فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کے جسمانی عارضے کا شکار ہے۔ جبکہ برٹش کونسل کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں خصوصی افراد کی تعداد ستائیس ملین سے زیادہ ہے۔

درست اعداد و شمار قانون سازی، پالیسیز اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ پنجاب اور خیبرپخونخواہ میں خصوصی افراد کی ملازمتوں کا کوٹہ تین فید جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پانچ فیصد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق خصوصی افراد کو مین سٹیم میں شامل نہ کیے جانے کی وجہ سے ملک کو ہر سال گیارہ اشاریہ نو سے لے کر پندرہ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

خصوصی افراد میں بظاہر سب سے کم نوعیت کی معذوری سماعت سے محروم افراد کی نظر آتی ہے لیکن ایک اشارتی زبان کے نہ ہونے، سکولوں کی کم تعداد، غیر تربیت یافتہ اساتذہ کرام، آگہی کے فقدان، غربت، بے روزگاری، صحت کی نامناسب صورتحال اور حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد تعلیم اور روزگار کے حصول کے معاملے میں دیگر گروپس سے پیچھے نظر آتے ہیں۔

ساری دنیا میں بریل ایک ہی طریقہ کار کے تحت پڑھی اور سمجھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے نابینا افراد کو کمیونیکیشن میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ وطن عزیز کے تمام صوبوں، شہروں اور گاؤں دیہاتوں میں مختلف اشارتی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پی ایس ایل کی شکل میں ایک قومی اشارتی زبان موجود تو ہے لیکن یہ اتنی ترقی یافتہ نہیں۔ ایک قومی اشارتی زبان کے مقصد کے حصول کے لئے ہم نے خالد نعیم صاحب سے چند سوالات کیے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے آپ کی بیش بہا خدمات ہیں۔ آپ سیڈا (سوشل اینڈ اکنامک ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایٹس) کے صدر ہیں اور سپشل ایجوکیشن ڈیمارٹمنٹ سے ڈاریکٹر جرنل ریٹائرڈ ہیں۔

سوال: تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ سپیشل ایجوکیشن میں کتنا عرصہ ملازمت کی؟

ابتدائی تعلیم گجرانوالہ سے حاصل کی۔ چھٹی جماعت سے ایم اے تک تعلیم لاہور کے مختلف سکولوں اور کالجز سے حاصل کی۔ سوشل ورک سے گہرے لگاؤ کی وجہ سے 1975 میں ایم اے سوشل ورک میں کیا۔ ایم اے کرنے کے بعد نوکری ڈھونڈنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1978 ء میں منسٹری آف سوشل ورک میں بطور ریسرچ افسر بھرتی ہوئے اور 2009 ء میں اسی ڈیپارٹمنٹ سے بطور ڈاریکٹر جرنل ریٹائر ہوئے۔

ملازمت کے دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے سپیشل ایجوکیشن میں ڈگری حاصل کی۔ مزید پڑھنے کا شوق ہوا تو ملازمت سے چھٹیاں لے کر پشاور یونیورسٹی سے سپیشل ایجوکیشن میں ایم فل کرنے چلے گئے۔ ایم فل کے دوران برطانیہ اور ناروے سے مختلف کورسز بھی کیے۔ مقامی اور بین الاقوامی میٹینگز، سیمنارز اور ورک شاپس نے خصوصی افراد کے مسائل اور تعلیم کے حوالے سے مزید رہنمائی فراہم کی۔

سوال: سیڈا کا قیام کب عمل میں آیا؟

سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہونے کی وجہ سے انسانی حقوق، بچوں، خواتین اور خاص طور پر خصوصی افراد کے مسائل سے متعلق گہری آگہی رکھتے تھے۔ نوے کی دہائی سے ان مسائل پر کام بھی کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن سرکاری نوکری کی وجہ سے اپنا ذاتی ادارہ قائم نہیں کر سکے۔ 2014 تک بہت سے ہم خیال دوست ریٹائرڈ ہوچکے تھے۔ سب انسانی خدمت کے جذبے سے سر شار تھے۔ اس طرح 2014 میں سیڈا کا قیام عمل میں آیا اور اسی سال اسے رجسٹرڈ بھی کروایا گیا۔

سوال: سیڈا کیا کام کرتی ہے؟

سیڈا کے قیام کا بنیادی مقصد انسانی حقوق سے متعلق آگہی عام کرنا ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والے اقدامات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ سیڈا خواتین، بچوں اور خاص طور پر خصوصی افراد کے حقوق کے حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں، این جی اوز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں ورکشاپس اور ٹریننگز کا اہتمام کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مستقبل کے گولز اور ان کے حاصل کرنے کے طریقے کار کی وضاحت کرنا سیڈا کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

سوال: سیڈا کو کن عالمی اداروں کا تعاون حاصل ہے؟

سیڈا مختلف عالمی اداروں کے تعاون اور اشتراک کے ساتھ اپنے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ہالینڈ کی آئیکو کارپوریشن اور سائٹ سیور سیڈا کے اہم ترین پاٹنرز ہیں جن کی ٹیکنیکل اور مالی سپورٹ سے سیڈا نے بہت سے اہم فرائض سر انجام دیے۔ اس کے علاوہ ہینڈی کیپ انٹرنیشنل، پلان انٹرنیشنل، سی بی ایم اور اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیز بھی سیڈا کے مختلف پراجیکٹس پر کام کرچکی ہیں۔

سوال: یو این سی آر پی ڈی اور ایس ڈی جیز کی خصوصی افراد تک رسائی کیسے ممکن بنائی؟

یو این سی آر پی ڈی اور ایس ڈی جیز اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک کے درمیان انسانی حقوق کے ایسے معاہدے ہیں جن کی پاسداری ہر رکن ملک پر فرض ہے۔ وطن عزیز کے خصوصی افراد تعلیم کی کمی اور مختلف وجوہات کی بناء پر ان بین الاقوامی قوانین سے واقفیت نہیں رکھتے۔ سیڈا نے یو این ڈی پی، پلان، سائٹ سیور اور سی ایم کے تعاون سے ان بین الاقوامی قوانین کی اردو میں تشریح کروا کر خصوصی افراد اور مختلف این جی اوز میں تقسیم کروائیں۔ نابینا افراد تک رسائی کے لئے اس کی بریل میں بھی کاپیاں تیار کی گئیں۔ جبکہ سماعت سے محروم افراد کی آسانی کے لئے اس کی سائن لینگویچ ویڈیوز بھی تیار کی گئیں، اس کے علاوہ سپیشل ایجوکیشن اور متعلقہ اداروں کو کاپیاں فراہم کی گئیں جس نے اقوام متحدہ کے اہداف سے متعلق آگہی عام کرنے میں مدد فراہم کی۔

سوال: انسانی حقوق کے حوالے سے کتنے بڑے ایوارڈ حاصل کر چکے؟

خالد صاحب کہتے ہیں کہ سرکاری نوکری کے دوران کچھ مختلف کرنا مشکل کام تصور کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فیروز احمد اور مشہور بیوروکریٹ سلمان فاروقی کو اپنا استاد مانتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بہت سے ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔ 2016 ء میں منسٹری آف ہیومن راٹس کی طرف سے انکلوسو ایجوکیشن پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2008 ء میں سول ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف سے چائڈ رائٹس ایکٹوسٹ کا ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ خالد صاحب کہتے ہیں کہ انھیں انسانی حقوق کے لئے کام کرتے ہوئے چالیس سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ خصوصی افراد کے حقوق پر کام کرنا ہمیشہ سے ان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ خدا ان کے کام کو پسند کر لیتا ہے تو اس سے بڑا کوئی ایوارڈ نہیں۔

سوال: اشاروں کی زبان کی تعریف کس طرح کریں گے؟

اشاروں کی زبان منہ سے بولی جانے والی زبان کی طرح رابطے کا ایک ذریعہ ہے۔ منہ سے بولی جانے والی زبان میں ہم جو باتیں منہ سے بیان کرتے ہیں۔ اشاروں کی زبان میں ان لفظوں کو ہاتھوں کے اشاروں، چہرے کے تاثرات اور جسم کی حرکت سے بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں۔

سوال: تقسیم سے قبل برصغیر پاک و ہند میں کون سی سائن لینگویچ بولی جاتی تھی؟

سائن لینگویچ پر تحقیق کے سلسلے میں خالد صاحب انڈیا تک جا چکے ہیں۔ برصغیر میں سماعت سے محروم افراد کا پہلا سکول 1885 میں ممبئی میں قائم ہوا۔ جس کی تجویز ڈاکٹر ہیو نے دی۔ سکول کے قیام کے لئے اس وقت کے وائسرائے لارڈ رپن سے مذاکرات کیے گئے۔ لارڈ رپن کو تجویز بہت پسند آئی۔ اس طرح 1885 میں ممبئی میں سماعت سے محروم افراد کے پہلے سکول کی بنیاد پڑی۔

تقسیم سے پہلے برصغیر میں جو سائن لینگویچ بولی جاتی تھی اسے برٹش انڈوپاک سائن لینگویچ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں اشاروں کی جو زبان بولی جاتی ہے اسے پی ایس ایل کہا جاتا ہے۔

سوال: پی ایس ایل کی تحریک کا آغاز کب ہوا؟

قیام پاکستان کے بعد سماعت سے محروم افراد کو رابطے کے لئے ایک قومی زبان کی ضرورت تھی۔ پی ایس ایل کی تحریک پاکستان بننے کے ساتھ ہی شروع ہو چکی تھی۔ تحریک سست روی کا شکار رہی لیکن چلتی رہی۔ ایک قومی اشارتی زبان کے لئے کام کرنے والی تنظیموں میں کراچی کا ابساء (انجمن برائے بہبود سماعت اطفال) ، کراچی کا ایک ادارہ ڈیوا (ڈیف ایجوکیشن ویلفیئر ایسوسی ایشن) ، لاہور کا گنگ محل) ، گجرانوالہ کا نیشنل سکول فار ہیرنگ ایمئپرڈ چلڈرن، مردان کا سپیچ اینڈ ہیرنگ ڈس آرڈر سینٹر، ڈیف ریچ اور جی ایس اکیڈمی سندھ کے نام قابل ذکر ہیں۔ سماعت سے محروم افراد کے لئے پی ٹی وی پر بولتے ہاتھ کے نام سے ایک پروگرام چلا کرتا تھا جس کی میزبانی سید افتخار حسین کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام نے سائن لینگویچ کے حوالے سے آگہی عام کرنے میں بہت مدد فراہم کی۔

این آئی ایس ای فیڈرل گورنمنٹ کے ڈاریکٹریٹ فار سپیشل ایجوکیشن کے تحت چلنے والا قومی سطح کا ادادہ ہے۔ این آئی ایس ای نے سماعت سے محروم افراد کے لئے کام کرنے والی تنظیموں اور ماہرین کے تعاون سے نوے کی دہائی میں پی ایس ایل کی بنیاد رکھی۔

سوال: کیا سیڈا نے بھی ایک قومی اشارتی زبان کی تحریک میں اپنا کردار ادا کیا ہے؟

سیڈا نے چار سال قبل این۔ آئی۔ ایس۔ سی، ماہرین اور کچھ بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے نوے کی دہائی کے رکے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے سرکاری ملازمین اور این جی اوز سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور قومی سطح کی ورک شاپ منعقد کروائی جس کا مقصد سب دوستوں کی رائے سے ایک متفقہ قومی اشارتی زبان کا قیام تھا۔ اس میٹنگ میں نئے اشاروں کو اشارتی زبان کا حصہ بنانا اور مستقبل میں آنے والے نئے اشاروں کو شامل کرنے کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی گئی۔ پورے عمل کی فوٹو گرافی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ صرف پرنٹنگ کا مرحلہ باقی ہے جو ناگہانی وجوہات کی بناء پر تعطل کا شکار ہے۔ این آئی ایس ای پورے کام کو خود بھی پرنٹ کروا سکتی ہے اور اگر اسے سیڈا کی مدد درکار ہے تو سیڈا مدد کے لئے تیار ہے۔

سوال: کیا معاشرے کے ہر فرد کو اشاروں کی زبان سے واقفیت رکھنی چاہیے؟ آپ کو اشاروں کی زبان آتی ہے؟

ہر فرد کو اشاروں کی زبان سکیھنی چاہیے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے پاس رابطے کے لئے ایک سے زائد ذریعہ موجود ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اشاروں کی زبان جنگ، قدرتی آفات اور ناگہانی حالات میں مدد فراہم کر سکتی ہے اور تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم سماعت سے محروم افراد کی بات چیت کو سمجھ سکیں گے۔ جس سے ان کی احساس محرومی دور ہو سکے گی اور یہ عام لوگوں کی طرح زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکیں گے۔

خالد صاحب کہتے ہیں کہ وطن عزیز میں خصوصی افراد کے حوالے سے آج جتنی بھی آگہی نظر آتی ہے اس میں بنیادی کردار سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ہے۔ 1981 ء کے سال کو خصوصی افراد کے سال کے طور پر منایا گیا جس نے آگہی عام کرنے میں بہت مدد فراہم کی۔ سپیشل ایجوکیشن کی ابتدائی ٹیم نے بڑی محنت اور خدمت کے جذبے سے پورے ملک میں خصوصی تعلیمی اداروں کا جال بچھایا۔

اسی کی دہائی میں سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اسلام آباد میں سماعت سے محروم بچوں کا ایک سکول قائم کیا۔ خالد صاحب بلا معاوضہ اس سکول میں دو گھنٹے پڑھانے کے لئے جایا کرتے تھے۔ اس وقت سائن لینگویچ کا رواج عام نہیں تھا۔ خالد صاحب نے تحقیق کر کے سائن لینگویچ سیکھی اور بچوں کو سکھانے کی کوشش کی۔

پڑھانے کا یہ سلسلہ کئی سال تک یونہی چلتا رہا۔ پھر ذمہ داریاں تبدیل ہونے کی وجہ سے وقت نکالنا مشکل ہوتا چلا گیا۔ سائن لینگویج کافی حد تک بھول چکے ہیں۔ لیکن دوبارہ سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

سوال: اشاروں کی زبان بولنے والی زبان سے کتنی مماثلت رکھتی ہے؟

اشاروں کی زبان ایک آزاد زبان ہے۔ بولنے والی زبان اور اشاروں کی زبان میں مماثلت نہیں پائی جاتی۔ دونوں رابطے کے مختلف طریقہ کار ہیں ایک میں منہ سے بول کر اپنا پیغام دوسروں تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ دوسری میں ہاتھوں کے اشاروں، چہرے کے تاثرات اور جسم کی حرکت سے یہ کام لیا جاتا ہے۔

سوال: آپ کے دور سربراہی میں سماعت سے محروم افراد کے لئے کیا اقدامات کیے گئے؟

خالد صاحب اپنے دور کو خصوصی افراد کے حوالے سے بہترین قرار دیتے ہیں۔ اس کا سہرا اپنی پوری ٹیم کو دیتے ہیں جن کی انتھک محنت سے تاریخی نوعیت کے اقدامات کیے گئے۔

چاروں صوبوں، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں خصوصی تعلیمی اداروں کا جال بچھایا گیا۔ اسلام آباد میں ہیرنگ اسیسمنٹ (بہرہ پن) کے لئے جدید طرز کی لیب بنائی گئی۔ سماعت سے محروم افراد میں ہیرنگ ڈیوائسز اور ایئرموڈ تقیسم کیے گئے۔ پورے ملک میں سائن لینگویچ کے فروغ کے لئے ورکشاپس منعقد کروائی گئیں۔ اس کے علاوہ خصوصی افراد کو ہنر سے آراستہ کرنے کے لئے ملک بھر میں وکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کیے گئے جہاں سے مختلف نوعیت کے کورسز کرنے کے بعد خصوصی افراد خودمختار اور با اختیار زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے تھے۔

حکومت کی پالیسیز کو تمام صوبوں میں مرتب کروانے کا جامع طریقہ کار بنایا۔ این جی اوز کے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لئے نظام بنایا۔ سماعت سے محروم افراد کے لئے کام کرنے والے افراد کے لئے بیرون ملک کورسز کا اہتمام کروایا گیا۔ کورسز امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں ہوا کرتے تھے ان میں دو ماہ کے قلیل مدتی کورسز سے دو سال کی ڈگریز بھی شامل تھیں۔

پی ٹی وی کے اشتراک سے خبروں میں سائن لینگویچ انٹرپریٹر کو شامل کیا۔ پیمرا کے ساتھ مل کر نجی چینل مالکان سے سائن لینگویچ کے فروغ کے حوالے سے مذاکر ات کیے لیکن بے سود رہے۔

سوال: وطن عزیز میں سماعت سے محروم افراد کی تعداد کتنی ہے؟

درست اعداد و شمار، مسائل سے آگہی، روک تھام، قانون سازی اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ وطن عزیز میں خصوصی افراد کے درست اعداد و شمار کا نہ ہونا مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

سماعت سے محروم افراد کی تعداد سے متعلق تین قسم کی آراء پائی جاتی ہیں۔ پہلی رائے 1998 ء کی مردم شماری کے نتائج سے لی جاتی ہے جس کے مطابق خصوصی افراد ملک کی آبادی کا دو اشاریہ چار نو فیصد ہیں جن میں سے دس فیصد افراد سماعت سے محرومی کا شکار ہیں۔ مختلف مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کے سروے کے مطابق خصوصی افراد ملک کی آبادی کا دس فیصد ہیں۔ اگر پاکستان کی موجودہ آبادی بیس کروڑ ہے تو دس فیصد کے حساب سے خصوصی افراد کی تعداد دو کروڑ ہوئی۔

جبکہ دو کروڑ کا دس فیصد بیس لاکھ ہوا۔ اس طرح آزادانہ ذرائع کے مطابق ملک میں سماعت سے محروم افراد کی تعداد بیس لاکھ ہے۔ تیسری رائے 2017 ء کی مردم شماری سے لی جاتی ہے۔ جس میں خصوصی افراد کی تعداد کو ڈرامائی طور پر کم کر کے اشاریہ چار آٹھ فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ جسے خصوصی افراد نے سپرریم کورٹ میں چلینج کر رکھا ہے۔

سوال: وطن عزیز کے سماعت سے محروم افراد کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟

ا۔ وطن عزیز کے بہت سے خصوصی افراد موروثی امراض کا شکار ہیں۔ مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ امراض نسل در نسل چلے آرہے ہیں۔ آگہی کے فقدان کی وجہ سے مختلف وبائی امراض جو باقی دنیا میں ختم ہو چکے ہیں ہمارے ملک میں گاہے بگاہے سر اٹھاتے رہتے ہیں۔

ب۔ اگر سماعت کے امراض کی تشخیص ابتدائی عمر میں ہو جائے تو علاج کافی حد تک ممکن ہے۔ نامناسب سہولیات کی وجہ سے اکثر بچے مستقل بہرے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پ۔ اشارتی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کو نالائق اور نکما تصور کیا جاتا ہے۔ سماعت سے محروم افراد رابطے کے فقدان کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ت۔ وطن عزیز میں سماعت سے محروم افراد کے سرکاری اور غیرسرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد 250 سے 300 کے درمیان ہے۔ جو آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہے۔

ث۔ ایک اشارتی زبان نہ ہونے کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کو حصول تعلیم اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں ابلاغ کے معاملے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ج۔ وکیشنل ٹریننگ سینٹرز کی کمی کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کی بڑی تعداد ہنر سے محروم رہ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے پر بوجھ تصور کی جاتی ہے۔

کالج اور یونیورسٹیوں میں سماعت سے محروم افراد کو مخصوص مضامین میں ڈگریاں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جن میں سے زیادہ تر مضامین پروفیشنل نوعیت کے نہیں ہیں۔

چ۔ عام لوگوں کی اشاروں کی زبان سے ناواقفیت، سماعت سے محروم افراد کی نوکری کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہے۔

ح۔ پاکستان میں خصوصی افراد سے شادی کرنے کا رجحان ابھی تک فروغ نہیں پایا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ شادی جیسے اہم بندھن سے محروم رہ جاتے ہیں۔

سوال: سماعت سے محروم افراد کے حوالے سے سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کن انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے؟

خصوصی تعلیمی اداروں کی تعداد ملک کی آبادی کے لحاظ سے کافی کم ہے۔ اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سماعت سے محروم بچوں کے اساتذہ کرام کو بیرون ملک ٹریننگ کے لئے بھیجا جائے تاکہ سماعت سے محروم افراد کی تعلیم کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں کو ملک میں لاگو کیا جاسکے۔ وکیشنل ٹریننگ کو صنعتوں کے ساتھ انٹیگریٹ کیا جائے تاکہ ٹریننگ حاصل کرنے والے بچے نوکری حاصل کر کے خودمختار اور با اختیار زندگی گزار سکیں۔

سوال: سماعت سے محروم افراد کے لئے ایک اشارتی زبان کتنی اہمیت رکھتی ہے؟

پاکستان سائن لینگویچ کی شکل میں سماعت سے محروم افراد کے پاس ایک قومی اشارتی زبان موجود تو ہے لیکن پی ایس ایل ابھی تک ہمہ گیر نوعیت کی زبان نہیں بن سکی ہے۔ جس کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کو تعلیم، روزگار اور رابطے میں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

ترقی یافتہ قومی اشارتی زبان کے ذریعے سماعت سے محروم افراد ملک کے کسی شہر میں باآسانی تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ کہیں بھی نوکری کر سکتے ہیں۔ کسی شخص تک اپنا پیغام باآسانی پہنچانے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ایپلی کیشن تیار کی جاچکی ہیں اور کچھ تیاری کے مراحل میں ہیں۔ جن کی مدد سے رابطے کے بہت سے مسائل حل کیے جا سکیں گے۔

سوال: نئے اشاروں کو قومی زبان کا حصہ کیسے بنایا جاتا ہے؟

انسان نے رابطے کے لئے جس دن سے زبان اور اشاروں کا استعمال کیا اس دن سے نئے الفاظ اور اشارے زبان کا حصہ بن رہے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ نئے اشاروں کو زبان کا حصہ بنانے کے لئے تمام صوبوں اور مرکز سے ایک قومی بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے۔ سپیشل ایجوکیشن، این جی اوز اور سول سائٹی کے ارکان اس کے ممبر ہوتے ہیں۔ بورڈ ہر چند ماہ بعد نئے اشاروں کی جانچ پڑتال کرتا ہے اس طرح بورڈ کی متفقہ رائے سے نئے اشاروں کو قومی زبان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

سوال؛ مستقبل میں سماعت سے محروم افراد کے لئے کیا کرنا چاہتے ہیں؟

ایک قومی اشارتی زبان کا مشن تعطل کا شکار ہے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ دوسرا اسلامی تعلیمات کا اشارتی زبان میں ترجمہ کر کے سماعت سے محروم افراد کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

سوال؛ حکومت وقت کو سماعت سے محروم افراد کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

حکومت سماعت سے محروم افراد اور سماعتی امراض کے حوالے واضح پالیسی کا اعلان کرے۔ سماعت سے محروم افراد کی ریہبلیٹیشن اور سماعتی مسائل کی روک تھام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ٹیبل پر بٹھایا جائے، ان کی رائے سے پالیسیز تشکیل مرتب کی جائیں۔ سماعت سے محروم افراد کی گنتی کے لئے ملک میں ایک بڑا سروے کیا جائے۔ اس سروے کی روشنی میں سماعت سے محروم افراد کی درجہ بندی کی جائے۔ پھر درجہ بندی کے حساب چھوٹے بڑے منصوبے تشکیل دیے جائیں۔

ایک قومی اشارتی زبان ترتیب دی جائے اور اسے پورے ملک میں لاگو کیا جائے۔ زبان کے فروغ کے لئے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا جائے۔ اس قسم کے اقدامات سے مختصر سے عرصے میں سماعت سے محروم

افراد کے بیشتر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply