ہم سب عورتوں کی مرضی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ بارہ مہینوں میں کونسا مہینہ من بھاتا ہے ہم جھٹ سے کہیں گے تیسرا! اگلا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ کیوں تو سنیے جناب، ہر برس تیسرے مہینے کی آمد ہی سے ہمارے دل کی کلی کھل جاتی ہے۔

ہم جھوم جھوم جاتے ہیں کہ فضا میں ایک ایسے لفظ کی تکرار ہے جو ہر عورت کے دل سے اٹھنے والی آواز ہوتی تو ہے، لیکن زبان پہ لانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

صاحب لفظ ہے “مرضی” اور وہ بھی “میری مرضی”!

“مرضی” نامی لفظ ہر عورت اوائل عمری سے سنتی ہے اور کسی آموختے کی طرح یاد کر لیتی ہے۔ لفظ ہے یا دو مونہا سنپولیا جو پھنکار مارتے ہوئے ہر بار ڈستا ہے، زہر کے اثر سے جسم نیلا پڑ جاتا ہے لیکن سانس کا رشتہ ٹوٹنے نہیں پاتا۔

دیکھیے “مرضی” نامی چابک جو عورت کے جسم پہ تمام عمر اور ہر طرف سے برسایا جاتا ہے!

تمہارے ابا کی مرضی ہے کہ تمہاری شادی کر دی جائے!

تمہارے بھائی کی مرضی ہے کہ تمہیں کالج نہ بھیجا جائے!

تمہارے شوہر کی مرضی نہیں کہ تم گھر سے باہر نکلو!

تمہارے مجازی خدا کی مرضی ہے کہ تم جب وہ پکارے، اس کے بستر پہ چلی جاؤ!

تمہاری ساس کی مرضی ہے کہ تمہارا نام ماہین کی جگہ زبیدہ رکھ دیا جائے!

تمہارے سسر کی مرضی ہے کہ تم پردہ کرنا شروع کر دو!

تمہارے دادا کی مرضی ہے کہ تم رسالے پڑھنے کی بجائے گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاؤ!

تمہارے شوہر کی مرضی ہے کہ تم بال کٹوانے کی بجائے لمبے کرو!

تمہاری ساس کی مرضی ہے کہ تم صبح جلدی اٹھ کے سب گھر والوں کا ناشتہ تیار کیا کرو!

تمہارے جیٹھ کی مرضی ہے کہ تم اس کے سامنے منہ سر لپیٹ کے آیا کرو!

تمہاری نند کی مرضی ہے کہ تمہارے بچے کا نام وہ رکھے!

تمہارے شوہر کی مرضی ہے کہ وہ اپنے والدین سے علیحدہ نہ ہو!

تمہارے بھائی کی مرضی ہے کہ تم باپ کی زمین و جائیداد میں سے اپنا حصہ نہ لو!

شوہر کی مرضی ہے کہ تم نوکری تو کرو مگر تمہاری تنخواہ اس کے اکاؤنٹ میں جمع ہو!

شوہر کی مرضی کے بغیر تم میکے نہیں جا سکتیں!

شوہر کی مرضی کے بغیر تم کسی سے نہیں مل سکتیں اور نہ کسی سے تعلق نہیں رکھ سکتیں!

سسرال کی مرضی ہے کہ گو کہ بچوں کی متواتر پیدائش سے تمہاری صحت بگڑ چکی ہے پھر بھی تم حمل روکنے کا آپریشن نہیں کروا سکتیں!

تم شوہر کی مرضی کے بنا اس کے پیسے خرچ نہیں کر سکتیں!

تمہارے باپ کی مرضی ہے کہ تمہاری شادی ان کے خاندان میں ہو!

خاندان والوں کی مرضی ہے کہ تمہیں نافرمانی کی سزا دی جائے!

جرگے کی مرضی ہے کہ تمہیں تمہارے بھائی کی سزا میں ونی یا سوارہ کر دیا جائے!

قبیلے کی مرضی ہے کہ تمہیں نوکری کے لئے گھر سے نکلنے پہ روکا جائے اور اگر تم نہ مانو تو تمہاری زبان ہمیشہ کے لئے خاموش کر دی جائے!

پنچایت کی مرضی ہے کہ تمہارے گھر کے مردوں سے بدلہ لینے کے لئے تمہیں بے لباس کر کے پورے گاؤں میں گھمایا جائے!

سردار کی مرضی ہے کہ تمہارے بھائی کو اس کی بے غیرتی کی سزا دیتے ہوئے وٹے میں دیا جائے!

قبیلے کی مرضی ہے کہ تمہیں سنگسار کر دیا جائے!

مولوی کی مرضی ہے کہ ہر نوعمر بچی کی شادی کسی حریص بڈھے سے کر دی جائے!

دفتر سے اپنے باس کی جھڑکیاں سن کے آنے والے کی مرضی ہے کہ سارا غصہ تم پہ گالی گلوچ یا دو چار تھپڑ لگا کے نکالا جائے!

راہ چلتے مرد کی مرضی ہے کہ ہر عورت کے جسم کو ٹٹولا جائے اور جو ایسا نہ کر سکے وہ کم ازکم عورت کے جسم کو فحش لطائف یا گالیوں میں استعمال کرنے کی مرضی رکھتا ہو!

سسرال کی مرضی ہے کہ جہیز نہ لانے والی کو جلتے چولہے کے حوالے کیا جائے!

قبر میں پڑی عورت کو ریپ کرنے والے کی بھی مرضی ہے کہ مردہ عورت کو بھی نہ چھوڑے!

ننھی بچیوں کو مسل کے کوڑے کے ڈھیر پہ پھینکنے والوں کی بھی مرضی ہوتی ہے!

ننھی منی بچیوں کو دن میں خادمہ اور رات کو بستر کی زینت بنانے والے بھی یہی مرضی ہوا کرتی ہے!

جنسی تعلق جبراً بنانے والوں کی مرضی ہے کہ چڑھ دوڑنا تو ان کا حق ہے سو عورت کی مرضی، چہ معنی دارد؟

معاشرے کے رسم و رواج کی مرضی یہ ہے کہ تمہیں سر اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے!

افریقی ممالک کے سوجھوانوں کی مرضی ہے کہ عورت بچپن میں ختنہ کر دی جائے!

قدیم ہندوستان میں مرتے ہوئے شوہر کی مرضی تھی کہ بیوی بھی اس کے ساتھ چتا میں جل کے خاک ہو!

مرد کی مرضی ہے کہ وہ عورت کو زبردستی حاملہ تو کرسکتا ہے لیکن اسقاط کی اجازت نہیں ہو گی!

قدیم چین کے بادشاہ کی مرضی تھی کہ عورت کے پاؤں کو موڑ توڑ دیا جائے کہ ڈگمگاتی عورت انہیں حسین نظر آتی تھی!

“مرضی” نامی زہریلے لفظ کا کھیل دیکھا آپ نے، جس میں پوری دنیا شریک ہو رہی ہے اور جو کھیل کا اہم مہرہ ہے اسے چال چلنے کی اجازت ہی نہیں!

صاحب یقین مانیے کہ ہماری مسکراہٹ اس خیال سے چھپائے نہیں چھپتی کہ کچھ برسوں سے کچھ ہم جیسی چالاک عورتوں نے “مرضی” کے ساتھ ایک چھوٹا سا لاحقہ لگا کر بازی پلٹنے کی کوشش کی ہے، اور وہ ہے “میری مرضی”!

“میری مرضی” سنتے ہی ہر عورت کے دل میں، چاہے وہ اسی برس کی بڑھیا ہی کیوں نہ ہو، ایسی پھلجھڑیاں پھوٹتی ہیں جو عمر کی پسماندگی میں زندہ رہنے کی آرزو جگاتی ہیں!

چلیے مارچ کا مہینہ مل کر مناتے ہیں کیونکہ اسی میں ہے، “میری مرضی” بلکہ “ہم سب عورتوں کی مرضی”!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply