محبت فاتح عالم



سولہویں صدی کے انگریزی شاعر جان للی کا یہ محاورہ، جو اس نے Euphues میں برتا ہے، کہ ”الفت اور عداوت میں سب کچھ جائز ہے یعنی Everything is fair in love and war اکثر زبان زد عام رہتا ہے۔ تاہم اس محاورے کا اطلاق اور استعمال اکثر اوقات میں دھوکہ دہی اور فریب کاری کے لئے کیا جاتا ہے۔

اس طرح یہ باور کیا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ کسی بھی اصول کی پابندی اور پاسداری سے ماورا ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محبت اور جنگ میں انسان بالکل اندھا بن جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ میدان الفت اور میدان کارزار میں انسان اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھنے سے معذور ہو جاتا ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ الفت اور عداوت انسانی زندگی اور انسانی معاشرت کے دو ایسے میدان ہیں جو پوری انسانی فکر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اس لئے ان میدانوں میں ہمارا برتا گیا رویہ ایک باضابطہ فلسفہ زندگی بن جاتا ہے۔ نجی دوستی اور یاری سے لے کر ازدواجی تعلقات کی استواری تک اور خاندانی رشتہ داری سے لے کر ملکی اور بین الاقوامی تعلقات کے جوڑ توڑ تک انسان کو محبت بھی برتنا پڑتی ہے اور دشمنی سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ اب اگر یہ دونوں میدان کسی قانون اور ضابطے کے پابند نہ ہوں تو ایک طرف انسانی رویہ بہیمیت کی سطح پر آ جائے گا اور دوسری طرف انسانی معاشرہ انارکی کا شکار ہو جائے گا۔

انسانی مزاج اور فکر کا حیوانی سطح پر آجانا ہی دراصل معراج انسانیت کا تنزل اور تسفل ہے جس کو قرآن نے ضد انسانیت قرار دے کر واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ انسان کا اسفل السافلین میں گر جانا دراصل اسی فکر کا شاخسانہ ہے، جس کو قرآن نے ایک باضابطہ نظریہ قرار دیا ہے۔ قرآن کی رو سے : ”ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا۔“ (التین: 4۔ 5 )

اس طرح اندھی محبت محب کو درجۂ انسانیت سے گرا دیتی ہے اور عداوت بھی جب اصولوں کو پامال کرتی ہے تو انسان اپنی بہیمیت کے آگے سرنگوں ہو جاتا ہے۔ کہاں ”محبت فاتح عالم“ کا اعلیٰ و ارفع اصول اور کہاں تنگنائے تعصب کی بند گلی جہاں محبت کا جذبہ چند نفوس تک محدود ہو جاتا ہے اور انسان اپنے تئیں کئی صنم تراش کر ان کی پرستش میں مگن ہو جاتا ہے۔ ان ہی اصنام کی خوشنودی کی خاطر انسان پورے معاشرے یا معاشرے کے معتد بہ حصے کو اپنی عداوت کا شکار بنا لیتا ہے۔ ایسے انسان کا محبت و عداوت کا جذبہ اتنا بے لگام ہو جاتا ہے کہ اس کے ”ہوا اور ہوس کی زبان لٹکتی رہتی ہے!“ قرآن نے اس تمثیل کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے : ”لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔“ (الاعراف: 176 )

ہمارا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ کتوں کے غول کس طرح تب تک خاموش بیٹھے رہتے ہیں جب تک ان کی طرف کوئی ہڈی پھینکی جاتی ہے۔ ہڈی کا غول کے درمیان گرنا ہوتا ہے کہ کتے ایک دوسرے پر جھپٹ پڑتے ہیں اور ایک دوسرے کو کاٹ کھانے لگتے ہیں۔ اس مار جھپٹ میں ہم ”بہترین کی بقا یا Survival of the Fittest“ کے عمل کا بخوبی مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں محبت پر مبنی کسی قسم کے ایثار اور قربانی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

ایسے معاشرے کے ”کھیتوں میں اگنے والے خوشہ ہائے گندم سے دہقان کو کہاں روٹی نصیب ہو سکتی ہے!“ وہاں کے روساء اور زمیندار تو اپنے پیٹ انگاروں (یعنی یتیموں اور محتاجوں کے مالی حقوق) اور سانپوں اور خون (یعنی سود کی کمائی) سے بھرتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً اس قسم کے معاشروں کا علاج حیاتیاتی ارتقاء اور مارکسی جدلیات کے ملغوبے سے تجویز کیا جاتا ہے، جو بہرحال انسداد پیداواری یعنی counterproductive ثابت ہوتا ہے کیوں کہ اس علاج کی بنیاد میں محبت کے خمیر کی جگہ نفرت کے جراثیم استعمال کیے جاتے ہیں۔

البتہ نظریاتی طور پر محبت اور عداوت کی ایک دوسری جنس بھی ہوتی ہے جو ”سب کچھ جائز ہے“ کے اصول پر یقین نہیں رکھتی۔ یہاں پر محبت اور عداوت دونوں مسلم قاعدوں کی پاسداری پر یقین رکھتی ہیں اور عمل پیرا ہوتی ہیں۔ اس طرح محبوب محب کو اندھا بننے کی اجازت دیتا ہے اور نہ اندھے پن کا مظاہرہ کرنے کا موقع ہی دیتا ہے۔ دراصل یہاں ”الحب للہ و البغض للہ“ یعنی ”محبت اور عداوت، دونوں خدا کے لئے“ والا اصول کارفرما ہو جاتا ہے۔ یہاں پر انسان فرد، خاندان، نسل یا وطن کی اندھی محبت میں کبھی بھی مبتلا نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ کسی قسم کی عداوت بھی اعلیٰ اور ارفع اصولوں کی خاطر ہی روا رکھی جاتی ہے۔ بے شک یہاں پر دشمن سے محبت کرنے کا درس دیا جاتا ہے اور نہ ہی حملہ آور کے سامنے دوسرا گال پیش کیا جاتا ہے۔ البتہ عداوت کو اس طرح اصولوں کا پابند کیا جاتا ہے کہ ظلم رفع ہو جاتا ہے۔

زمانہ جاہلیت میں عرب کا ہر قبیلہ اپنے ہمنوا قبائل کی حمایت اس اصول کے تحت کرتا تھا کہ ”انصر اخاک ظالما او مظلوما یعنی اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم! ”رسول اللہ ﷺ نے جب اس اصول کی اسلامی تشکیل کی تو صحابہؓ نے اس کی تفصیل جاننا چاہی کہ“ مظلوم کی حمایت کرنا تو سمجھ میں آ جاتا ہے لیکن ظالم کی کیوں اور کس طرح مدد کی جائے؟ ”نبی ﷺ نے فرمایا کہ“ ظالم کو ظلم سے باز رکھا جائے! ”ظاہر ہے کہ ایسا کرنا اسی صورت میں ممکن ہے جب انفرادی اور اجتماعی معاملات میں محبت اور عداوت کے جذبات کو اصولوں اور قواعد کا پابند بنایا جائے۔

اس طرح یہاں پر اس اصول کی نشاندہی بھی ہو جاتی ہے کہ اصل میں انسان کے ہر طرح کے جذبات محبت الٰہی کے پابند ہو جانے چاہئیں۔ اس صورت میں جب انسان کے تعلقات خدا کے ساتھ عمودی (vertical) انداز میں استوار ہو جائیں گے تو لازماً ”افقی (horizontal) طور پر پوری انسانیت کے ساتھ تعلقات کو عدل و قسط کی ایک مضبوط بنیاد فراہم ہو گی۔ پھر کوئی انسان مختلف معیارات کے اعتبار سے کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو، خدا کے سامنے اس کا رویہ ضرور انکسار اور تواضع پر مبنی ہو گا۔ ظاہر ہے کہ خدا کے ساتھ شدید محبت انسان کو بندگان خدا کے لئے رأفت و رحمت کا ایک مجسم بنا دے گی۔ اسی صورت میں انسانوں کے مابین ہر قسم کے تفخرات مٹنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ“ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔ ”(البقرہ: 165 )

تاہم خدا کے ساتھ محبت صرف ایک مجرد فلسفیانہ جذبہ نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ معاشرے کے امتیازات مٹانے کے لئے اس محبت کو ایک واضح شکل ملنی چاہیے۔ خدا کے ساتھ تعلق خاطر اور اظہار محبت کے لئے نبی ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا حکم ہے : ”اے نبی ﷺ ، لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔“ (آل عمران: 31 )

آدمؑ سے لے کر محمد ﷺ تک تمام انبیائے کرامؑ نے محبت و اطاعت کی اسی شاہراہ کی طرف بندگان خدا کو دعوت دی۔ اس راہ پر خطر میں انبیاء نے اپنے مخالفین کو زیر کرنے کے بعد ان کے ساتھ الٰہی احکامات پر مبنی محبت بھرا سلوک کیا۔ ایک طرف یوسفؑ  نے اپنے بھائیوں کی غلطی واضح کرنے کے بعد ان سے درگزر کیا تو دوسری نبی ﷺ نے گروہ قریش کی فاش زیادتیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اعلان فرمایا: ”آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے۔“ (یوسف: 92 )

انبیائے کرامؑ کا یہ رویہ دنیا کے جابر و مستعبد حکمرانوں سے بالکل برعکس رہا ہے جن کے متعلق قرآن نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ: ”بادشاہ جب کسی ملک میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔“ (النمل: 34 )

تاہم حکمرانوں میں بھی کئی حکمران ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ملکوں کو فتح کرنے کے بعد مفتوح اقوام کے ساتھ عدل و انصاف اور محبت بھرا برتاؤ کیا۔ اس فہرست میں سائرس ایرانی، جس کو ابو الکلام آزاد کی تحقیق کے مطابق قرآن نے ذی القرنین کہا ہے، ایک منصف حکمران گزرا ہے جس کی فتوحات کی غرض و غایت لوگوں کی فلاح و بہبود رہی ہے۔

قرآن حکیم کے احسن القصص یعنی سورہ یوسف کی رو سے حقیقی محبت کسی قسم کے جنسی داعیہ سے پاک اور منزہ ہونی چاہیے اور ساتھ ساتھ اس میں کسی مکر و فریب کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین مصر بشمول امرأۃ العزیز (بادشاہ کی زوجہ) ، جسے عموماً زلیخا کہا جاتا ہے، کی تگ و دو کو ”مکر اور کید (فریب)“ کہا گیا ہے۔ اسی مکر و فریب کا مقابلہ یوسفؑ نے خدا کے اذن سے کچھ اس انداز میں کیا کہ انہوں نے قید خانے کو ایک ”محبوب“ جائے پناہ قرار دیا۔

خدا کے ایسے بندے کسی بھی حال میں یہ حقیقت نہیں بھولتے کہ جتنا زور انسان کا خدا کے بندوں پر ہو سکتا ہے، اس سے کہیں زیادہ زور خدا کا اس کے بندوں پر ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا کے اس فرمان پر نظر ہوتی ہے کہ: ”آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے۔“ (النساء: 147 )

تاہم ان کی ہر وقت اپنی کوتاہیوں پر نظر رہتی ہے اور وہ ہر دم سراپا اعتراف اور عجز و نیاز بنے رہتے ہیں۔ یہ لوگ رفاہ عامہ کے کام این جی او کے طرز پر انجام دے کر بے فکر نہیں ہو جاتے۔ بندگان خدا کو ہر قسم کی آسائش بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ یہ اپنے خدا سے لو لگائے رکھتے ہیں۔ ان کی ذات ذکر و فکر کا مرقع بنی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دن کی مصروفیات کے باوجود یہ لوگ خدا کے سامنے سجدے اور رکوع میں رہتے ہیں۔ اور تو اور ان کے پہلو راتوں کو اپنی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں۔ یہ لوگ سراپا محبت بن جاتے ہیں۔ ”حاسبوا قبل ان تحاسبوا“ کے اصول کے تحت خدا کے یہ دلآویز بندے اپنی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں سے بھی چوکنا رہتے ہیں اور ابو الأثر، حفیظ جالندھری کے اس شعر کا مصداق بن جاتے ہیں :

سرکشی نے کر دیے دھندلے نقوش بندگی
آؤ سجدے میں گریں، لوح جبیں تازہ کریں

Facebook Comments HS