یہ مائیں کتنی جھوٹی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سات بہن بھائی تھے۔ ابو نے بھی دفتر جانا ہوتا تھا۔ آٹھ لوگوں کا سکول، آفس، ٹرین سب آٹھ بجے ہی لگتا تھا۔ گندھا ہوا آٹا فریج میں نہیں رکھا جاتا تھا۔ نہ ہی فریج تھے اور نہ ہی فریج کا باسی کھانے کا رواج۔ اگر کچھ بچ جاتا تو صحن میں بندھی کپڑے سکھانے کی تار سے باندھ دیا جاتا، برتن میں پانی ڈال کر دوسرا برتن اس میں رکھ دیا جاتا یا پھر کولر میں بچ جانے والی برف نکال کر اس میں محفوظ کر لیا جاتا۔ علی الصبح نماز اور واک لازمی تھی۔ اس کے بعد لسی یا بادام کی سردائی پلائی جاتی تھی۔ ابا جی کے بقول معدے میں گرمی ہو جاتی ہے اور نہار منہ ٹھنڈا مشروب ضروری ہے۔

اماں فجر کی اذان کے ساتھ ہی بیدار ہوتیں۔ چوڑیوں کی چھن چھن کرتی آواز محسوس ہوتی۔ یہ آواز میرے بچپن سے میری سماعتوں کا حصہ ہے۔ کروٹ بدل کر آنکھیں موندھے لیٹنے پر زوردار آواز گونجتی۔ ”اٹھ جائیں، نماز کا وقت نکل رہا ہے“ ۔ تمام سستی سیکنڈوں میں چستی میں بدل جاتی۔ اماں اسی دوران آٹا گوندھ لیتیں اور بڑا سا قرآن پاک کھول کر تلاوت کرتیں۔ اس قرآن پاک پر آیات کے نیچے انگلیوں کے گہرے نشانات تھے۔

ایک روز والدہ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ بولیں کہ یہ قرآن نانی امی کا ہے۔ جب ان کی نظر خراب ہوئی تو قرآن سے تعلق توڑنا مناسب نہ سمجھا۔ وہ قرآن کھول کر آیات کے نیچے انگلی چلاتی تھیں اور بسم اللہ یا سبحان اللہ پڑھتی تھیں۔ یہ انہی انگلیوں کا لمس اور نشانات تھے جو سطروں میں کھب گئے تھے۔

اماں آٹا گوندھ رہی ہوتیں تو ہر مرتبہ آٹا پلٹنے پر بسم اللہ پڑھتی تھیں۔ توے پر روٹی ڈالنی ہو تو بسم اللہ کہنا۔ روٹی اتار کر ”چنگیر“ میں رکھنا ہو تو بسم اللہ کہنا۔ مجھے اپنی امی کی یہ عادت سب عادات سے بڑھ کر پیاری لگتی ہے۔ یہ آج بھی ایسی ہی ہے۔

چولہے پر پراٹھوں کا دور چلتا۔ ”کشمیر“ گھی میں پراٹھے پکنا شروع ہوتے۔ سب اپنی اپنی باری پر یونیفارم، دفتر جانے کے کپڑے پہنے پہنچتے اور اس کا ناشتہ تیار ہوتا تھا۔ صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ کر ناشتہ کیا جاتا۔ بالخصوص گرمیوں کے دنوں میں تو پنجاب میں علی الصبح کمروں میں بہت ناپسندیدہ بھڑاس ہوتی تھی۔ صحن اور سائے میں ٹھنڈک اور تازگی کا احساس ہوتا تھا۔ سب ناشتہ کرتے، برتن اپنی مرضی کی جگہ چھوڑ کر دروازے سے باہر لپکتے۔ اماں سب کے جانے کے بعد برتن اور بستر سمیٹتی تھیں۔ اس کے بعد انہیں ناشتہ کرنے کا وقت میسر آتا تھا۔

آپ سب نے اپنی ماؤں کو سالن کے برتن میں روٹی مس کر کے کھاتے، سالن روٹی پر رکھ کر اور اس روٹی کو ہتھیلی پر رکھے کھاتے لازمی دیکھا ہو گا۔ آپ نے یہ کہتے بھی سنا ہو گا کہ مجھے گوشت، فروٹ، دودھ اچھا نہیں لگتا۔ یہ دہراتے بھی سنا ہو گا کہ آپ سب لوگ کھانا کھا لیں میں بعد میں کھاتی ہوں۔ نئے لباس بنانے پر کہا ہو گا کہ میرے پاس ابھی گزشتہ سال کے کپڑے وافر موجود ہیں۔

ان ماؤں کو نہ بھوک لگتی ہے اور نہ گھر، دسترخوان پر موجود اچھے کھانے اولاد سے پہلے کھانے کو جی چاہتا ہے۔ یہ مائیں کتنی جھوٹی ہیں۔ بہت جھوٹی نہ بھی ہوں مگر سچ چھپاتی ہیں۔ نہ درد بتاتی ہیں اور نہ مشکلیں بچوں سے شیئر کرتی ہیں۔ آپس میں تو ہر بات کرتی ہیں مگر بچوں کے سامنے ہر تکلیف چھپاتی ہیں۔ کتنی جھوٹی ہیں ناں یہ مائیں۔ پیٹ میں پھوڑے کینسر بن جاتے ہیں مگر ذکر نہیں کرتی ہیں۔ پھکی اور پونسٹان سے اپنا ہر علاج کرتی ہیں۔ آنکھیں گل ہو جاتی ہیں مگر بتاتی نہیں ہیں۔ ہڈیاں گل جاتی ہیں مگر دودھ، کیلشیم اپنے بچوں کا اور پھر ان کے بچوں کا پورا کرنے میں زندگی گزار دیتی ہیں۔ وقت بے وقت کھا کر معدے میں السر بن جاتے ہیں۔ بچے پیدا کرتے کرتے اور پالتے پالتے ہڈیاں گھل جاتی ہیں، برداشت کرتی ہیں۔

مائیں اس وقت نہیں مرتی ہیں جب وہ سات سات بچے پیدا کرتی ہیں، ان کو پالتی ہیں، ان کی خاطر جاگتی ہیں، ان کے بعد کھاتی ہیں، ان کے آنے کا انتظار کرتی ہیں، ان کے بستر لگاتی اور اکٹھے کرتی ہیں، ان کی شادیاں کراتی ہیں، چاؤ کرتی ہیں اور پھر بیٹوں کو الگ کرتی ہیں۔ماں تب مرتی ہیں جب اولاد یہ سب کچھ بھلا دیتی ہے۔ کسی اور کو ان سے اہم سمجھتی ہے۔ اہم نہ بھی سمجھے انہیں کسی اور کے سامنے بے وقعت گردانتی ہے۔

ضرور دیکھیں، سب غور کریں کہ کہیں ماں آنکھیں چندھیا کر تو نہیں دیکھ رہی ہے؟ کہیں اس کی ہڈیاں درد تو نہیں کر رہی ہیں۔ پیٹ میں پھوڑے، السر تو نہیں بن گئے ہیں، خون کی کمی تو نہیں ہے، دل کی دھڑکن بے ترتیب تو نہیں۔ فوراً فکر کریں۔ ان کا علاج کرائیں۔ یہ تو دنیا کی سب سے جھوٹی مائیں ہیں جو اتنی تکلیفوں کا اظہار اپنی اولاد سے بالکل نہیں کرتی ہیں۔ ان ماؤں کو ہر وقت یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان کے بچوں کے پاس پیسے ختم نہ ہو جائیں۔ انہیں ان کی ضروریات اپنی صحت اور جان سے بڑھ کر مقدم ہوتی ہیں۔ یہ بہت جھوٹی مائیں ہیں۔ یہ سچ چھپاتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply