مادری زبانوں کے میلے پر اعتراضات
پاکستان کی مادری زبانوں کی ترویج و تنوع کا جشن منانے کے لیے انڈس کلچرل فورم نے اس سال چھٹا کامیاب میلہ منعقد کیا۔ کورونا کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر میلے کو ایک دن تک محدود کیا گیا۔ 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے یہ میلہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس، حکومت سندھ کے محکمۂ ثقافت، فریڈرک ناؤمن فاؤنڈیشن، ای سی او سائنس فاؤنڈیشن، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، سوسائٹی فار الٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
’ہم سب‘ کے ایک لکھاری دوست مسلم میرانی نے گزشتہ تین سال سے اپنا وتیرہ بنا رکھا ہے کہ اسلام آباد میں ہر سال انڈس کلچرل فورم کی جانب سے منعقد ہونے والے پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے کے بارے میں کوئی نہ کوئی نکتہ اعتراض تلاش کریں اور اس کے بارے میں قیاس آرائیوں پر مبنی اظہار خیال کریں اور اس میلے کے مقاصد اور منتظمین کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ مسلم میرانی صاحب بعض اوقات اپنی تحریر میں معروضیت تو دور کی بات، تہذیب اور شائستگی کا دامن بھی ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں۔
ویسے تو ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ مسلم میرانی صاحب سمیت اس میلے کے بارے میں اعتراضات اٹھانے والے احباب کے حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے ان کو کوئی جواب نہ دیا جائے اور اپنے کام کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں تاہم ان صاحب کو ’ہم سب‘ جیسے معتبر فورم پر ہر سال یک طرفہ جگہ بھی میسر ہو جاتی ہے اور انہیں کوئی جواب بھی نہیں دیا جاتا تو کہیں قارئین یہ نہ سمجھیں کہ ان کی تمام باتوں، قیاس آرائیوں اور اعتراضات میں کوئی ’وزن‘ بھی ہے۔ لہٰذا اس میلے اور انڈس کلچرل فورم کے بانی کی حیثیت سے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ محترم مسلم میرانی کو ان کے بے بنیاد اعتراضات کا جواب دیا جائے تاکہ ان کے توجہ طلب مزاج کو بھی کوئی تسکین میسر ہو۔
ویسے تو میں پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے کے اغراض و مقاصد کے بارے میں دو سال قبل ’ہم سب‘ پر ہی ایک تفصیلی مضمون لکھ چکا ہوں لیکن کیوں کہ وہ مضمون براہ راست مسلم میرانی صاحب کے سوالوں یا اعتراضات کا جواب نہیں دے رہا تھا تو اس بار کوشش ہو گی کہ ان سے براہ راست مخاطب ہو کر ان کے اعتراضات کا نکتہ بہ نکتہ جواب دیا جائے تو شاید ان کی تشفی ہو سکے۔

مسلم میرانی صاحب نے سب سے پہلے 2018 کے میلے پر یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ اس میلے میں شریک مقررین کے پاس مادری زبانوں کو معدومی سے بچانے کے لئے کوئی ٹھوس تجاویز نہیں تھیں۔ تاہم میں نے بارہا اس مضمون کو پڑھ کر یہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ شاید میرانی صاحب نے خود ہی کوئی ایسی تجویز پیش کی ہو، جو ہم پیش نہ کر پائے ہوں لیکن مجھے ایسی کوئی تجویز نہیں مل سکی۔ البتہ خود میرانی صاحب نے اسی مضمون میں اپنی ہی بات کی نفی کی اور اس امر کی نشاندہی کی کہ میلے میں شریک ماہرین نے نہ صرف پاکستان کی علاقائی سمجھی جانی والی زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینے اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں سے اس سلسلے میں مل کر ٹھوس اقدامات کرنے کے مطالبات کا ذکر کیا۔
اسی سال کے میلے میں موصوف دو دن موجود رہے اور مختلف نشستوں میں شرکت بھی کرتے رہے لیکن ڈاکٹر طارق رحمٰن، احمد سلیم، نور الہدیٰ شاہ، ڈاکٹر فہمیدہ حسین، زبیر توروالی، فاطمہ حسن، جامی چانڈیو، فرنود عالم، ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر، حارث خلیق، ثروت محی الدین، حفیظ خان اور دیگر ایک سو سے زائد مندوبین میں سے کسی کے بھی ایک جملے یا فقرے نے انہیں اتنا متاثر نہیں کیا کہ وہ ان کا کوئی جملہ کوٹ کرتے۔ انہیں اسی سال مختلف زبانوں کی پچاس سے زائد کتابوں جن پر میلے میں گفتگو کی گئی، میں سے کوئی کتاب قابل ذکر نہیں لگی۔
لیکن میرانی صاحب نے ان سب مندوبین کو چھوڑ کر یہ مناسب سمجھا کہ دو ایسے ماہرین سے گفتگو کر کے اپنے نکتۂ اعتراض کی توثیق کروائیں جو میلے میں شامل ہی نہیں تھے۔ موصوف یہ سمجھنے سے بھی قاصر رہے کہ یہ میلہ ملک بھر کی مادری زبانوں کا مدعا بیان کرنے کے لئے منعقد کیا جاتا ہے نا کہ صرف کسی ایک زبان کے حوالے سے۔

اس سے اگلے سال یعنی 2019 کے میلے کے دوران بھی محترم میرانی صاحب دو دن مختلف نشتوں میں موجود رہے لیکن کسی حد تک ایک متوازن تبصرہ فرمانے کی ناکام کوشش کے علاوہ کئی اعتراضات پر مبنی ایک کالم لکھا۔ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی انہیں مشہور بلوچی اور اردو مصنف اور دانشور جناب شاہ محمد مری کے افتتاحی کلیدی خطاب سے لے کر پشتو زبان کے معروف ترین شاعر محترم رحمت شاہ سائل کے اختتامی تقریب کے کلیدی خطبے اور ان دو نشستوں کے بیچ ہونے والی کئی نشستوں، کتابوں کی رونمائی اور مشاعرے سمیت کسی بھی لمحے کوئی ایسا جملہ نہ ملا جس کا تذکرہ وہ اپنے مضمون میں کرتے۔
اس سال ہم نے میرانی صاحب کو ممکنہ توجہ دی اور تمام مصروفیات کے باعث ان کے ساتھ کم از کم تین گواہوں کی موجودگی میں ایک گھنٹے سے زائد وقت گفتگو کی، میلے کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی، ان سے وعدہ لیا کہ آپ میری پوری بات اپنے کالم میں لکھیں گے، میلے کی مختلف نشستوں پر اپنی رائے دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن پھر بھی انہوں نے بادل نخواستہ تعریفی ایک دو جملوں کے علاوہ باقی اعتراضات برائے اعتراضات پر مبنی مضمون لکھا۔
میری گفتگو کا وہ مختصر ترین حصہ شامل کیا جو ان کی اپنی قیاس آرائی کو تقویت دے رہا تھا اور باقی تمام گفتگو کو حذف کرنا ہی مناسب سمجھا۔
ان کا دوسرا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ حکومت سندھ کا محکمۂ ثقافت کیوں اس میلے کی معاونت کرتا ہے۔ اس کا جواب میں آگے چل کر دیتا ہوں۔ ان کے اس مضمون کے جواب میں پاکستان میں ثقافتی اور لسانی تنوع کے فروغ، ادب و دانش کے بلند مینار جناب احمد سلیم صاحب نے ایک مختصر جواب تحریر کیا جس کو ’ہم سب‘ نے انتہائی احترام کے ساتھ جگہ دی۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ احمد سلیم صاحب جیسے جید عالم پہلے سال سے اب تک اس میلے کے رضاکاروں کی ہر ممکنہ رہنمائی کرتے ہیں۔
اس سال پاکستان کی مادری زبانوں کا چھٹا ادبی میلہ ایک دن کے لئے 21 فروری کو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں منعقد ہوا۔ اور مسلم میرانی صاحب نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے اس سال کے میلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سلسلے میں اسی ہفتے شائع ہونے والے مضمون میں انہوں نے حسب عادت یا حسب روایت ہمیں تو تنقید کا نشانہ بنایا ہی ہے لیکن انہوں نے مادری زبانوں کے حوالے سے کہیں بھی ہونے والے کسی بھی کام کو مسترد کر دیا ہے۔
مسلم میرانی صاحب کی جانب سے استعمال ہونے والی زبان بھی غور طلب ہے جس میں عنوان سے لے کر آخر تک ناشائستہ اور نازیبا الفاظ میں بے بنیاد الزامات کی بھرمار کی گئی ہے۔ دوسری جانب کئی بار غیر متعلقہ موضوعات جیسا کہ تھر کے کوئلے وغیرہ کا ذکر بھی کیا جس کی کوئی تک میری ناقص عقل کے لئے ناقابل فہم تھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’حال ہی میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستانی زبانوں کے میلے میں سیشنز کے عنوانات کو دیکھ کر مطالعۂ پاکستان کی نصابی کتب ذہن میں آ رہی تھی۔ کورونا اور سائنس سے شروعات کے بعد میلے کا اختتام موسیقی اور بس موسیقی پر ہو گیا اور یوں زبانوں کا میلہ منعقد کرنے کا یہ فریضہ سندھ حکومت کے تعاون سے مکمل ہوا‘۔
اس اعتراض کو سمجھنے کی بہت کوشش کی مگر میری ناقص عقل جواب دے گئی۔ مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں پتہ نہیں میرانی صاحب نے کیا پڑھا ہے اور ہمارے میلے سے وہ کیسے یاد آئیں مگر ہمارے میلے کی نشستیں کچھ اس طرح تھیں۔
افتتاحی تقریب میں ہم نے میزبان اور معاون اداروں کے نمائندوں کی خوش آمدیدی تقریروں کے ساتھ دو موضوعات پر گفتگو رکھی تھی، جن میں سے ایک گفتگو نصرت زہرا کی کورونا کے حوالے سے مختلف زبانوں میں ہونے والے تخلیقی کام کا سرسری جائزہ، جبکہ دوسری گفتگو ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے خلیل رضا صاحب کی جانب سے کورونا سے متعلق ہونے والی سائنسی تحقیقات پر گفتگو کے حوالے سے تھی۔
اگلی نشست میں پاکستان میں لسانی و ثقافتی تنوع، لسانیات اور ادب کے شعبوں سے گیارہ نابغہ روزگار شخصیات کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز دیے گئے۔ ان شخصیات میں پنجابی اور اردو سمیت ملک کی کئی زبانوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والے احمد سلیم صاحب، پاکستان میں لسانی تنوع پر بنیادی تحقیق کرنے اور بنیادی نوعیت کے سوال اٹھانے والے ڈاکٹر طارق رحمٰن صاحب، سندھی زبان کی معروف ماہر لسانیات ڈاکٹر فہمیدہ حسین، سرائکی زبان کے معروف ناول نگار اور ادیب جناب حفیظ خان، پشتو زبان کے معروف شاعر جناب سعداللہ جان برق، بلتی زبان پر بنیادی نوعیت کا کام کرنے والے جناب یوسف حسین آبادی، ہندکو زبان کے معروف ادیب جناب سلطان سکون، بلوچی زبان میں 140 سے زائد ناول لکھنے والے جناب منیر بادینی، براہوی زبان کے دور حاضر کے معروف ترین شاعر جناب اسحاق سوز صاحب، اردو نظم کے معروف ترین شاعر جناب آفتاب اقبال شمیم صاحب اور بابائے گوجری کے نام سے مشہور 104سالہ گوجری ادیب رانا فضل حسین شامل ہیں۔

ان شخصیات کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ اگلی نشست میں پاکستان کی مادری زبانوں کے مستقبل کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی گئی جس میں زبانوں کے فروغ کے لئے موسیقی، صحافت، سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے موضوعات میں امکانات، مواقع اور رجحانات پر گفتگو کی گئی۔ اس نشست میں جامی چانڈیو کی ثقافتی وفاقیت کے موضوع پر گفتگو میں خاص طور پر پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں زبانوں کی حیثیت پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ مذاکرے میں معروف گلوکار اریب اظہر، صحافی عاصمہ شیرازی، ڈاکٹر فوزیہ سعید، ڈاکٹر منظور سومرو اور امر فیاض نے زبان و ثقافت کے مستقبل کے حوالے سے مختلف موضوعات پر مستقبل کے لئے تجاویز پیش کیں۔
آخر میں محفل موسیقی میں خماریاں بینڈ اور معروف سندھی صوفی منور ابڑو نے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس سے قبل افتتاحی تقریب میں عظیم سندھی شاعر شیخ ایاز کی نظم گلوکارہ ثنا نعمت نے پیش کی اور رقاص اسفندیار خٹک اور علینہ چوہدری نے خوشحال خان خٹک کی شاعری پر رقص اور پنجابی لوک رقص بھی پیش کیا تھا۔ اگر بقول مسلم میرانی صاحب مطالعہ پاکستان کی کوئی کتاب اتنی ثقافتی اور لسانی رنگارنگی اور تنوع کی عکاسی کرتی ہے تو پھر تو پاکستان میں واقعی ایسے کسی میلے کی ضرورت نہیں!
گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ہمارے میلے کے ساتھ ساتھ میرانی صاحب کو یہ اعتراض ہے کہ حکومت سندھ کا محکمہ ثقافت ہمارے میلے سمیت مادری زبانوں یا ادب و ثقافت کی ترویج کے لئے مستقل معاونت کیوں فراہم کر رہا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے کہ لوک ورثہ اور پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس جیسے قومی ادارے ڈاکٹر فوزیہ سعید جیسی عوامی شخصیت کی سربراہی میں اس قابل ہوئے کہ وہاں مادری زبانوں سمیت پاکستان میں ثقافتی اور لسانی تنوع کی جگہ پیدا ہوئی۔
ہم سال اول سے کوشش کر رہے ہیں کہ باقی وفاقی اداروں کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کی حکومتیں اور ان کے ادارے بھی اس کار خیر میں ہمارا ہاتھ بٹائیں تاہم صرف ایک سال پنجاب کی حکومت کی جانب سے کچھ معاونت کے علاوہ کسی بھی صوبے کی طرف سے خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا۔ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس کا محکمہ ثقافت خوش قسمتی سے شاعر وزیر سید سردار علی شاہ اور ادیب سیکریٹری اکبر لغاری کی سربراہی میں ہونے کی وجہ سے ہم جیسے رضاکاروں کے لئے قابل رسائی ہے۔
گزشتہ چار سال سے سندھ کا محکمہ ثقافت اس میلے میں سندھ کے سندھی، اردو، ڈھاٹکی اور دیگر زبانوں کے ادبیوں کی شرکت اور سندھ کے فنکاروں کی جانب سے فن کے مظاہرے کی مد میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ جناب مسلم میرانی دیگر صوبوں کو سندھ کی تقلید کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے سندھ کے محکمہ ثقافت سے نالاں ہے۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ محکمہ ثقافت کو ثقافت کا فروغ چھوڑ کر غربت یا بھوک ختم کرنی چاہیے۔ تاہم شاید ان کا یہ خیال بھی ہو گا کہ غربت اور بھوک ختم کرنے کے ذمہ دار محکموں کو ثقافت کے فروغ کا کام کرنا چاہیے؟
جہاں تک اس معاونت کے طریقہ کار کا سوال ہے جس کے بارے میں مسلم میرانی صاحب کا خیال ہے کہ محکمہ ثقافت ہم جیسے اداروں یا مخصوص اشخاص کو ٹھیکے دیتا ہے تو جناب کے لئے یہ عرض کہ معاونت کی یہ رقم ایک تو سرکاری حساب کتاب میں اتنی نہیں کہ اس کے لیے ٹھیکے دیے جائیں۔ یہ رقم محکمے کی جانب سے سندھ سے آنے والے ادیبوں کے سفر کے لئے ٹریول ایجنٹ، ان کے قیام کے لئے ہوٹل یا پھر سندھ کی نمائندگی کرنے والے فنکاروں کو براہ راست ادا کی جاتی ہے۔
اگر مسلم میرانی صاحب کا خیال ہے کہ سندھ کے محکمہ ثقافت کو سندھ کے ادیبوں، فنکاروں یا شاعروں کو قومی یا بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے پر خرچہ نہیں کرنا چاہیے تو پھر یہ فرما دیں کہ آخر محکمہ ثقافت جیسے ادارے کس طرح ثقافت کے فروغ کا اپنا مینڈیٹ پورا کریں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ میرانی صاحب کے متواتر مضامین میں الزامات برائے الزامات تو بہت ہوتے ہیں لیکن کوئی قابل عمل دور رس تجویز نظر نہیں آتی۔
محترم مسلم میرانی کی جانب سے ایک الزام متواتر لگایا جاتا ہے، اس سال انہوں نے ان الفاظ میں یہ الزام لگایا ہے ’دیکھا جائے تو اس طرح کے گروپس کچھ مخصوص اشخاص پر مشتمل نظر آئیں گے، پسند نا پسند کی بناء پر کچھ تبدیلی شاید ہوتی ہو مگر وہ بھی صرف چچا بھتیجا یا دوست طرز کی۔ نہ الیکشن کا کوئی نظام نہ ہی آڈٹ کا کوئی تصور۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ سندھ حکومت اتنے بڑے بڑے فنڈز کس طرح اور کن بنیادوں پر جاری کرتی ہے جس پر ادب اور مادری زبانوں کی ترقی تو نظر نہیں آتی صرف یہی ڈیولپمنٹ سیکٹر کے چند گروپس مال بناتے نظر آتے ہیں‘ ۔

عرض یہ ہے کہ ہمارا فورم رضاکاروں کا ایک فورم ہے، جس کا اداراتی ڈھانچہ تشکیلی مراحل میں ہے۔ پاکستان میں این جی اوز کی رجسٹریشن کے حوالے سے مشکلات کے پیش نظر ہمیں بھی کافی دقت کا سامنا ہے لہٰذا ہم آڈٹ سمیت مختلف ضروریات پر پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہم براہ راست فنڈز لے سکیں جو تاحال نہیں لے سکے ہیں اور اپنے معاون اداروں کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ اخراجات کی مد میں معاونت حاصل کرتے ہیں۔ تو اس صورتحال میں اگر ہم مسلم میرانی صاحب کو مال بناتے ہوئے نظر آئے ہیں تو ایسے بے بنیاد الزام کا کوئی ثبوت بھی پیش کرنا چاہیے یا پھر ہم اور ہمارے معاون اداروں پر اس طرح انگلی اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔
جناب میرانی صاحب نے مجھ سمیت مادری زبانوں کی ترویج کے لئے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے کچھ احباب کا تعلق ڈیولپمنٹ سیکٹر سے ہونے پر بھی اعتراض کیا ہے، حتیٰ کہ ان کا ماننا ہے کہ ’مادری زبانیں تو ویسے ہی اس طرح کے ڈیولپمنٹ سیکٹر کے ماہرین کے ہاتھوں اپنی موت آپ مر جائیں گی‘ ۔ تو جناب عرض یہ ہے کہ ڈیولپمنٹ سیکٹر میں ہم بوجہ روزگار مادری زبانوں کے لئے کام کرنے سے پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ مادری زبانوں کی ترویج کو ہم اپنا مکمل طور پر رضاکارانہ کام سمجھتے ہوئے اپنی فیملی کا وقت، چھٹیوں کے دن، اپنی شامیں اور راتیں دیتے ہیں اور اس کام کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا۔
کاش کہ آپ کا الزام سچا ثابت ہو اور ہم اسی کام کو ذریعہ معاش بھی بنا لیں تو ڈیولپمنٹ سیکٹر چھوڑ کر یہی کام کل وقتی طور پر کرنے لگ جائیں گے۔ لیکن ڈیولپمنٹ سیکٹر یا اپنے اپنے ذریعہ معاش سے وابستہ ہوتے ہوئے اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنے کی ہماری ان رضاکارانہ کوششوں سے اگر مادری زبانوں کو کوئی خطرہ لاحق ہو گا تو ہم تاریخ کے کٹہرے میں جوابدہ ہوں گے۔
(نیاز ندیم، انڈس کلچرل فورم کے بانی چیئرپرسن ہیں۔ انہوں نے اپنے رضاکار ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے کی بنیاد رکھی۔ وہ سندھی زبان کے شاعر، نثر نویس اور مترجم ہیں۔ ان کی شاعری اور مضامین سندھی، اردو اور انگریزی میں شائع ہو چکے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ترقیاتی شعبے سے وابستہ ہیں)


