بے سمتی کے دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سماجی اور سیاسی جبر کے سامنے ادب ہمیشہ ایک مزاحمتی قوت بن کر کھڑا رہا ہے۔ عرفان شہود ایک ہمہ گیر تخلیق کار دھرتی زادہ ہے۔ پنجاب کے سرسبز کھیت ہوں یا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ، سندھ کا تھر ہو یا جنوبی پنجاب کے تھل کے ریگستان یا گلگت کے پربت عرفان شہود جہاں اپنے کیمروں سے محفوظ کرتے پائے جاتے ہیں وہیں ان مناظر کو لفظوں کے ذریعے کتابوں کے اوراق پر موتیوں کی صورت عکس کر رہے ہوتے ہیں۔

اس کتاب ’بے سمتی کے دن‘ میں تخلیق کار کا سارا شعری سرمایہ سمٹ کر یک جا ہو جاتا ہے اور اس کے فکری و فنی ارتقاء کا ایک پورا منظر نامہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔

عرفان بھائی نے مجھے اپنی باون نظمیں بھیجی ہیں ، یہ نظمیں نہ صرف یہ کہ عصری شعور اور زندگی کی گہری معنویت کی حامل ہیں بلکہ ان میں خیال، موضوعات اور اظہار ہر سطح پر نیا تجربہ اور نیا شعور بولتا نظر آتا ہے۔

اس میں بڑی خصوصیت فطری سادگی اور خود کلامی کا رنگ ہے۔

عرفان شہود ایک ’شاہی فرمان‘ صادر کرتے ہیں
سپاہیو!
نجس غلام صفوں کی حد بنائیے
انہیں بتائیے
جو منصفوں کا فیصلہ ہو قبول کیجیے
بدن کے بت میں سانس کی صدا کہاں سے لائیں گے
سوال مت اٹھائیے
سوال جو اٹھائے گا
ضرور مارا جائے گا
عوام کو خبر رہے
کہ مسخروں کی ٹولیوں سے شاہ بھی بنائیں گے
جو پس رہی عوام کا بیانیہ چرائیں گے
نشاط سے بھرے وہ پر فریب گیت گائیں گے
وہ آئینے دکھائیں گے
کہ جن میں چہرے سرخ اور جسم خوش ادا لگیں
سپاہیو!
صفوں میں گشت کیجیے اڑائیے
بھگائیے
نچائیے
ڈرائیے
صفوں میں گشت کیجیے۔

نظم ’یہ دل جو کائنات ہے’ میں لکھتے ہیں:

ہمارے دل کی رات میں کراہتیں
کٹھن مسافتوں کے تلخ سلسلے
زبان خلق سے پرے
مٹھاس کی وہ بندشیں
وہ کھردری زبان کی اذیتوں کے گھاؤ سے
سماج کے دباؤ سے
ہمارے ناک کان میں اگی ہیں لال جھاڑیاں
یہ کھولتے وجود پہ ہیں سنجیاں پہاڑیاں
جلن سے چیختے سمے کی خشک زرد دھاریاں
یہ ہاتھ کی کٹوریاں
کرخت سی
ٹھہر چکی زوال میں یہ زندگی
ہمارے دل کی رات میں کراہتیں۔

پنجاب کے اس بیٹے نے بلوچستان کے نوشکی کا ’پرسہ‘ ان الفاظ میں بیان کیا ہے

نوشکی!
تیری بستی کے مستوں کی فریاد کو
کوئی سنتا نہیں
جھٹپٹے کے سمے چیختے ہیں سبھی
کوئی چھکو چڑھانے کو بے تاب ہے
ان فصیلوں کے باہر یہ گریہ
سنا جا رہا ہے
تری گھاٹیاں، کھیت بھی
میرے پنجاب کی لہلہاتی رتوں
سے بھرے ہوں
تری خشک سالی کی ساعت،
مداراذیت کی گھڑیوں سے نکلے
تیرے جوانوں کے سینے ہرے ہوں۔

عرفان بھائی! بہت شکریہ ، آپ نے میرے بے سمتی کے دنوں میں پڑھنے کا مواد تازہ عنایت کیا۔ جیتے رہیں سلامت رہیں۔

تیری دھرتی، تیرا یہ محلہ کشادہ رہے
تیرے سیار کی ساری گلیوں میں رونق رہے
تیرے کھلیان میں سبز خوشبو رہے
تیرے اشجار پر نو شگفتہ گلوں کی بجے بانسری
تو پرندوں کی چہکار سے گیت بنتا رہے
بارشوں کے جو ترنم منسوخ ہوں
تیرے دشت، ذروں سے دریا بنیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply