پاکستانی عورت کی بہتری کس بات میں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دو سالوں سے مارچ کے مہینے میں عورت مارچ کے عنوان سے جو سرگرمی شروع ہوئی ہے، اس پر مختلف حلقوں سے بہت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔ ردعمل دینے والوں میں ہر طبقہ فکر اور ہر پس منظر کے لوگ شامل ہیں۔ اس سرگرمی پر چند نمایاں اعتراضات یہ ہیں کہ یہ عورتیں پاکستانی عورت کی تہذیبی شناخت، اس کے اصل مسائل سے قطع نظر عورت کے لیے وہ ایجنڈا لا رہی ہیں جو مغرب کا ہے۔

ان کے نعرے اور پوسٹر تک بالکل وہی ہیں جو مغربی معاشروں میں فیمنزم کی تحریک میں سامنے آئے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں ان کو وسائل کی فراہمی بھی مغرب ہی کے ایسے ادارے کر رہے ہیں جن کے پاکستان میں تہذیبی تبدیلی کے اعتبار سے اپنے سوچے سمجھے مقاصد ہیں۔

دوسرا اعتراض یہ کہ ان کے نعرے اور پوسٹر نہ صرف یہ کہ پاکستانی عورت کو، جس کی بنیادی شناخت home maker کی ہے، بغاوت اور گھر بیزاری کا سبق دے رہے ہیں بلکہ انتہائی عریاں، ولگر اور اخلاق باختہ ہیں جن کو مسلم معاشرے میں ہرگز مناسب نہیں کہا جا سکتا۔

تیسری بات یہ کہ پاکستانی عورت کے اصل مسائل مثلاً صحت، تعلیم اور معاش کے لیے برابر مواقع ،  ان مسائل میں کہیں بھی تذکرہ نہیں ہے۔ چوتھی بات یہ کہ جس دیہاتی اور پسماندہ عورت کے نام پر یہ حقوق کا نعرہ لگاتی ہیں وہ عورت ان کے احتجاجوں میں کہیں نظر نہیں آتی بلکہ شہروں کی اپر مڈل اور مڈل کلاس کی عورتیں نظر آتی ہیں۔

پانچویں بات یہ کہ اگر ان کے بقول یہ اسلام کو عورت کے ساتھ ظلم کا ذمہ دار نہیں سمجھتیں، جیسا کہ ان کی نمائندوں نے بعد ازاں وضاحتیں کی ہیں، تو پھر یہ پاکستان کے مسلم معاشرے میں عورت کو اسلام کے دیے ہوئے حقوق کی فراہمی کا مطالبہ اپنے احتجاج میں کیوں نہیں کرتیں۔ اگر یہ واقعی سمجھتی ہیں کہ عورت کی زندگی جاگیر دارانہ، قبائلی یا پسماندہ سوچ کی وجہ سے مشکل میں ہے تو بڑے شہروں کے یہ فیشن ایبل احتجاج اس ذہنیت کا کیا بگاڑ لیں گے؟ الٹا ایسے لوگ اپنی عورت کو ہی ردعمل کا نشانہ بنائیں گے۔

اگر یہ عورتیں پاکستانی عورت کی زندگی بہتر کرنے میں مخلص ہیں اور چاہتی ہیں کہ ان کی جدوجہد کو پاکستانی عوام میں قبولیت بھی حاصل ہو تو پہلے تو ان کو ہماری عام عورت کے حقیقی مسائل کا درست علم ہونا چاہیے۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کریں کہ ان میں سے کن مسائل پر اور کیسے عوامی آگاہی پیدا کرنے سے فائدہ ہو گا، کیونکہ ہر مسئلہ سڑکوں پر آ جانے اور الٹے سیدھے نعرے لگانے سے حل نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ زیادہ خراب ہو جاتا ہے۔

خصوصاً عورت کا مسئلہ ہمارے کچھ حد تک قبائلی، اور زیادہ تر جاگیردارانہ اور روایت پسند معاشرے میں بہت سی نزاکتوں کا حامل ہے۔ نعرہ بازی کے ذریعے سوشل فیبرک کے بخیے ادھیڑ دینا آسان کام ہے، مگر ذہانت اور زیرکی کے ساتھ سوراخوں کی رفو گری کرنا اصل کارنامہ ہے۔ اس مثبت طرز عمل کی ہمارے معاشرے کو ہر جگہ بہت ضرورت ہے۔ پاکستانی عورت کا سب سے بڑا مسئلہ صحت کی سہولیات کی فراہمی ہے۔ اس کو ری پروڈکٹو حقوق دلوانے سے بھی پہلے حمل اور زچگی میں طبی سہولیات، تیمارداری، اچھی خوراک اور اچھے رویوں کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد تعلیم تک رسائی اس کا مسئلہ ہے جس میں ابھی تک وہ مردوں کی آبادی سے بہت پیچھے ہے مگر گاؤں دیہاتوں میں اس کے لیے سکول نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غربت اور بے روزگاری کی حالت گھریلو تشدد، ظلم اور قتل کے جرائم تک لے جاتی ہے جس کا زیادہ تر نشانہ عورتیں بنتی ہیں کیونکہ وہ جسمانی طور پہ کمزور ہیں۔ گھریلو ناچاقیاں اور ان کے نتیجے میں تشدد کی ایک بڑی وجہ ہمارے عوام میں غربت و افلاس ہے۔ SDPI کی ایک ریسرچ بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ معاشی مسائل کی سنگینی کم ہونے سے ہمارے معاشرے میں عورت کے ان مسائل کی شرح بہت حد تک کم ہو سکتی ہے کیونکہ غربت بہت سی معاشرتی برائیوں کی جڑ ہے۔

اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ غربت کا تعلق عورتوں پر گھریلو تشدد، جنسی تشدد اور ہیومن ٹریفکنگ سے جڑتا ہے۔ لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ عورت کے مسائل کو خلاء میں نہیں بلکہ پورے معاشرے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تعلیم، تربیت، قانون کا نفاذ، فوری انصاف، قوانین کی آگاہی ایسے اقدامات ہیں جن سے یقینی طور پر صورتحال میں بہت بہتری کا امکان پیدا ہو گا۔ ہمارے ہاں غیرت کے نام پر قتل، ہراسانی، تیزاب گردی، گھریلو تشدد، جبری شادی، کم عمری کی شادی، جائے ملازمت پہ ہراسیت، علاقائی رسوم، ان سب منفی رجحانات کے لیے قانون سازی ہو چکی ہے، مزید بھی ہونی چاہیے اور موجود قوانین سے آگاہی اور اطلاق بھی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ عورت کے حقوق کی جدوجہد پر بنے بنائے پیٹرن پر کام کرنا آسان تو ہے مگر کار آمد نہیں۔ ہمارے ہاں بہت سے ایڈووکیسی گروپ عورتوں کی زندگی بہتر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جدید دنیا میں ایسے گروہ ایک واضح موقف لیتے ہیں جس کے ذریعے مقتدر اداروں اور حکومتوں کو پالیسی سازی میں مدد ملتی ہے۔ جس طرح کے مظاہرے ہم گزشتہ دو سال سے دیکھ رہے ہیں، یہ ردعمل، منفیت اور بغاوت کا انداز رکھتے ہیں اور ان میں کسی واضح قابل عمل مطالبے یا رہنمائی کی کمی ہے۔

عورت کے حقوق کے لیے سڑکوں پر آ کر اس طرز کا ایکٹو ازم ہمارے ہاں 1980 کی دہائی سے ہو رہا ہے مگر اس سے رائے عامہ ہموار نہیں ہوئی بلکہ عورت کے کاز کو نقصان پہنچا کیونکہ مسلم معاشرہ ہونے کے ناتے عوام جیسے تیسے مسلمان سہی مگر قوانین کا ماخذ قرآن و سنت کو ہی سمجھتے ہیں اور ہمارا آئین بھی اس کا اعلان کرتا ہے۔ اس وقت زیادہ تر مسلمان معاشروں کا یہی مسئلہ ہے۔

میں نے یو این ہیڈ کوارٹرز نیویارک میں ہونے والی عورت کے حقوق کی بیجنگ پلس 20 کانفرنس میں شرکت کی اور اس دوران یہی دیکھا کہ مسلم ممالک کے دو واضح اور مختلف دھارے موجود ہیں، ایک عوام کا جو اپنی مسلم شناخت پر اصرار کرتے ہیں اور دوسرا حکومتوں کا جو بین الاقوامی پروگراموں کے پابند ہیں۔ جبکہ عورت کے مسائل کا حل ان دونوں کے قابل عمل امتزاج میں ہے جو لگے بندھے یا dictated انداز میں اس مسئلے کو نہ دیکھے۔

مثلاً جدید زمانے کے تناظر میں پاکستانی خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں یہ بات بھی شامل ہونی چاہیے کہ آج کی عورت کو سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال سے کیسے بچایا جائے۔ پاکستان میں پچھلے بیس برس میں میڈیا کا پھیلاؤ سامنے آیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ بہت سی تبدیلیوں کی زد پہ ہے جن سے نمٹنے کا اجتماعی شعور نہیں پایا جاتا۔ میڈیا اور کاروباری ادارے جس طرح عورت کی خوبصورتی کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، پاکستانی خواتین کی اکثریت اس کی مذمت اور مخالفت کرتی ہے اور اس استعمال کو اپنی نسوانیت کی توہین سمجھتی ہے۔

عورت پراڈکٹ نہیں ہے جس کو اشتہارات میں نامناسب طور پر استعمال کیا جائے یا اس کے حسن سے اشیاء کی قیمتیں متعین کی جائیں۔ نہ میڈیا کو عورت کے غلط استعمال کی کھلی آزادی ہونی چاہیے۔ یہ عورت کا کھلا استحصال ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی عطا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ بات عورت کی امپاورمنٹ کے عالمی پروگراموں کا حصہ نہیں بنے گی کیونکہ مغربی معاشرے ابھی اس شعور سے بہت دور ہیں۔

لہٰذا ہمارے ہاں دیگر بہت سے معاملات کی طرح عورت کے لیے جدوجہد میں بھی اصل چیلنج یہ ہے کہ اپنے معاشرے کو اپنی نظر سے دیکھیں، اپنی othering سے بچیں، نوآبادیاتی طرز فکر سے نجات حاصل کریں اور اپنے مسائل کے تخلیقی انداز میں حل تلاش کریں جو ہمیں عالمگیریت کے تقاضوں سے بھی مربوط رکھیں اور ہماری عورت کی زندگی میں بھی بہتری لائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply